اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے گائنی وارڈ کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر ملک بھر میں غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی جبکہ شوبز شخصیات نے بھی سانحے پر شدید دکھ، افسوس اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔
اداکارہ ژالے سرحدی نے ایک ایسے والد کی تصویر اور واقعہ شیئر کیا جسے بیٹے کی پیدائش کی خوشی نصیب ہوئی مگر وہی بچہ آتشزدگی کی نذر ہوگیا۔ انہوں نے غمزدہ والدین کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اس ناقابلِ تصور نقصان پر ان کے پاس الفاظ نہیں۔

عریبہ حبیب نے نومولود بچوں کی ماؤں کے نام ایک درد بھرا پیغام شیئر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ماؤں نے حمل کے دوران اپنے بچوں کی حفاظت اور پیدائش کا انتظار کیا لیکن انہیں آگ کے اس سانحے میں کھو دیا۔ انہوں نے واقعے کو انسانی غفلت سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بعض سانحات محض حادثہ نہیں بلکہ ذمہ داری سے غفلت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

مہوش حیات نے کہا کہ پاکستان میں پیش آنے والے مسلسل سانحات کو دیکھ کر وہ شدید صدمے میں ہیں۔ انہوں نے پمز آتشزدگی کو ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ جس اسپتال میں بچے سب سے زیادہ محفوظ ہونے چاہیے تھے، وہاں بھی وہ محفوظ کیوں نہ رہ سکے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین اور بچوں کی مزید جانیں ضائع ہونے سے پہلے ذمہ داروں کا تعین، احتساب اور حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
View this post on Instagram
اداکارہ رومیسہ خان نے بھی واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ملک مسلسل سانحات کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین، بچے اور عام شہری مختلف نوعیت کے خطرات سے دوچار ہیں، یہاں تک کہ اسپتالوں میں موجود نومولود بھی محفوظ نہیں۔
رومیسہ خان نے سوال اٹھایا کہ آخر پاکستان اس مقام تک کیسے پہنچ گیا اور ہر سانحے کے بعد کچھ عرصے کے غم و غصے کے بعد معاملہ کیوں بھلا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے ہر متاثرہ خاندان کے لیے انصاف اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا۔
View this post on Instagram
موسیقی پروڈیوسر عمیر نے رومیسہ خان کی پوسٹ اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے 14 نومولود بچوں کی موت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ وہ زندگیاں تھیں جنہیں ابھی آغاز کا موقع بھی نہیں ملا تھا۔

اداکارہ اشنا شاہ نے غمزدہ والدین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے واقعے کو ’’قابلِ تدارک‘‘ قرار دیا۔

اداکار محمد احمد نے بھی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ ایسے واقعات میں ذمہ داروں کو سزا کیوں نہیں ملتی اور کوئی جواب طلبی کیوں نہیں ہوتی۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ ان ماؤں کے بارے میں سوچا جائے جنہوں نے اپنے نومولود بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے کھو دیا۔
View this post on Instagram
عائشہ عمر نے کہا کہ پاکستانی عوام اب روزانہ خوفناک خبروں کے ساتھ بیدار ہو رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں نظامی ناکامی واضح دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے پمز سانحے کو ناقابلِ قبول غفلت قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف اور حوصلے کی دعا کی۔

اداکار شہریار منور اور بلال عباس نے بھی سانحے پر اظہارِ افسوس کیا اور ٹوٹے ہوئے دل کی ایموجیز شیئر کیں۔
26 اگست کو پیش آنے والے اس دلخراش واقعے کے وقت نرسری میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے ایک بچے کو ریسکیو کرلیا گیا تاہم 14 بچے جانبر نہ ہوسکے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق آگ نرسری میں ایئرکنڈیشننگ سسٹم سے متعلق خرابی کے باعث لگی اور آکسیجن کی موجودگی کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔
واقعے کے بعد ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے عمارت کی کھڑکیوں کے ذریعے بچوں اور دیگر افراد کو نکالنے کی کوششیں کی گئیں، جبکہ اسپتال کے باہر بچوں کے غمزدہ والدین کی آہ و بکا نے ہر آنکھ اشکبار کردی۔














