مریم نواز کا چین میں عالمی بگ ڈیٹا ایکسپو سے خطاب، پاکستان اور چین کے درمیان ’ڈیٹا کوریڈور‘ بنانے کی پیشکش

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چین میں انٹرنیشنل بگ ڈیٹا انڈسٹری ایکسپو 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیٹا محض جمع کرنے کے لیے نہیں بلکہ اسے عملی اقدامات میں تبدیل کرکے شہریوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور انفرااسٹرکچر کے شعبے سے وابستہ اداروں کو پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی تعمیر میں شراکت داری کی دعوت بھی دی۔

مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں 12 کروڑ 80 لاکھ آبادی ہے اور اس بڑے صوبے کی ضروریات نے ایک بنیادی اصول واضح کیا ہے کہ ڈیٹا اس وقت تک بے معنی ہے جب تک اسے عملی اقدام میں تبدیل نہ کیا جائے اور اس اقدام سے ہر شہری کی زندگی میں بہتری نہ آئے۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب ایک محفوظ، خودمختار اور ذہین ڈیجیٹل بنیاد قائم کر رہا ہے، جس کے مرکز میں ’ون اسٹیٹ شیئرڈ ڈیٹا انجن‘ اور ’ون میپ‘ شامل ہیں۔ ان نظاموں کے ذریعے 31 محکموں سے 12 ٹیرابائٹس سے زائد جغرافیائی ڈیٹا اور 6 ہزار سے زیادہ ڈیٹا سیٹس کو یکجا کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق یہ نظام جامد ریکارڈز کو متحرک ڈیجیٹل ماڈلز میں تبدیل کرے گا، جس سے شہری منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے کی نگرانی، وسائل کے بہتر استعمال اور ہنگامی حالات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری کو بھی اس ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت مستحق اور کمزور خاندانوں کی زیادہ درست نشاندہی کرکے انہیں ہدفی سہولیات فراہم کرسکے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ مریم نواز کا سنکیانگ میں معروف چینی ڈیری کمپنی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ

مریم نواز نے کہا کہ پنجاب ڈیٹا لنک، جدید ڈیٹا سینٹر، خودمختار کلاؤڈ، ڈیجیٹل شناخت اور باہم مربوط حکومتی نظام قائم کیے جا رہے ہیں جبکہ مصنوعی ذہانت کو حکومتی فیصلہ سازی اور عمل درآمد کا حصہ بنانے کے لیے خصوصی اے آئی آفس بھی قائم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیف سٹیز جیسے منصوبوں میں ڈیٹا اور اے آئی کے استعمال سے شہروں کو زیادہ محفوظ، ہنگامی ردعمل کو تیز اور حکومتی اقدامات کو زیادہ پیشگی اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہر الگورتھم، ہر ڈیٹا بیس اندراج اور ڈیجیٹل نظام کے پیچھے ایک انسانی زندگی موجود ہے، اس لیے ڈیجیٹل ترقی کا اگلا مرحلہ صرف مزید ڈیٹا جمع کرنا نہیں بلکہ ڈیٹا کو قابلِ اعتماد، قابلِ منتقلی اور قابلِ عمل بنانا ہے۔

انہوں نے پاکستان اور چین کی ’آل ویدر فرینڈ شپ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اپنے روایتی اور فزیکل کوریڈورز کے ساتھ ’ڈیٹا، جدت اور خیالات کا کوریڈور‘ بھی قائم کرسکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے ماہرین کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ توانائی، کمپیوٹنگ، کلاؤڈ، کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں شراکت داری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی کا صرف صارف نہیں بلکہ اسے تخلیق کرنے میں شراکت دار بننا چاہیے۔ ان کے بقول ڈیٹا کو قابلِ اعتماد ’ڈیجیٹل ٹوکنز‘ میں تبدیل کرکے مواقع، خوشحالی اور بالآخر انسانی وقار کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

کیا پاکستان چین سے دور ہوسکتا ہے؟ شبر زیدی کی پرانی ویڈیو کو تجزیہ کاروں نے مسترد کردیا

پمز سانحہ: وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش، فرانزک رپورٹ کا انتظار

متنازع ٹیلی کام ترمیمی بل واپس لینے کا فیصلہ، اب کیا ہوگا؟

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ