میر رضا قتل کیس کی تحقیقاتی و انتظامی کمی بیشی کا جائزہ لینے کے لیے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن کے پہلے باضابطہ اجلاس میں کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے مقتول میر رضا کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
سماعت کے آغاز پر جسٹس عمر سیال نے میر رضا کے اہل خانہ کو روسٹرم پر طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایک بہیمانہ طریقے سے ان کا بچہ چھینا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا کیس کی منصفانہ تفتیش ہوگی، فیملی کو ہر مرحلے سے آگاہ رکھیں گے، مراد علی شاہ
’میں گزشتہ 10 برسوں سے قتل کیسز کی سماعت کر رہا ہوں اور آپ کی اس بے پناہ تکلیف کا کامل احساس رکھتا ہوں، آپ کو اس کیس کے باضابطہ کلوژر اور انصاف کی ضرورت ہے۔‘
کمیشن کا طریقہ کار اور دائرہ اختیار
جسٹس عمر سیال نے کمیشن کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن بند کمروں میں نہیں بلکہ مکمل شفافیت کے ساتھ سب کے سامنے کارروائی کرے گا، انہوں نے کہا کہ روایتی کمیشنوں کی طرح کام کرنے کے بجائے اور کسی بھی خوف کے بغیر آزادانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ انکوائری اور انویسٹی گیشن میں فرق ہوتا ہے، کمیشن باضابطہ قانونی ٹی او آرز کے مطابق پولیس کارکردگی، غفلت اور تحقیقات میں موجود نقائص کا جائزہ لے گا، کیس کی براہِ راست پولیس انویسٹی گیشن کرنا نہ تو کمیشن کا کام ہے اور نہ ہی وزیر اعلیٰ کا۔
مزید پڑھیں: میر رضا کے والدین کا وزیرِ اعلیٰ سندھ سے تحقیقات کی براہِ راست نگرانی کا مطالبہ
انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن صرف اور صرف غلطیوں اور غفلت کی نشاندہی کرےگا، اہل خانہ نے جو متوازی درخواست دائر کر رکھی ہے، اس کا اس کمیشن سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اپنے مقام پر چلتی رہے گی۔
کمیشن کے سربراہ نے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ صرف میر رضا کا نہیں بلکہ عزت سے زندگی گزارنے والے ہر شہری کا ہے۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ کارروائی مکمل کر کے ایسی تجاویز دیں تاکہ مستقبل میں کسی اور میر رضا کے ساتھ ایسا واقعہ نہ ہو۔‘
اہل خانہ کا ردعمل اور وکیل جبران ناصر کا موقف
جسٹس عمر سیال کے استفسار پر مقتول میر رضا کے والد میر حسین نے کمیشن پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن پر تو اعتماد ہے مگر پولیس انویسٹی گیشن پر بالکل اعتماد نہیں۔
سماعت کے دوران وکیل جبران ناصر نے موقف اختیار کرتے ہوئے بتایا کہ 19 اگست کو جب جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کیا گیا تھا تو اسی وقت ایک نئی انویسٹی گیشن ٹیم قائم ہوئی تھی، جس پر ہم نے کہا کہ اسے کام کرنے دیا جائے، پرانی انویسٹی گیشن ٹیم نے شدید مجرمانہ غفلت برتی ہے۔
مزید پڑھیں: میر رضا علی کیس: خودکشی کے مؤقف سے قتل کی تحقیقات تک، 11 اگست تک کیا کچھ بدل گیا؟
جبران ناصر نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ کل رات میر رضا کے اہل خانہ کی مدد کرنے والے 20 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر تے ہوئے ایف آئی آر میں پوچھا گیا ہے کہ شاہراہِ فیصل پر ‘جسٹس فار رضا’ کے نعرے کیوں لگائے گئے۔
جبران ناصر نے کہا کہ انہیں ابھی تک کسی بھی گواہ کے بیان کی کاپی فراہم نہیں کی گئی،جسٹس عمر سیال نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی تنقید بجا ہے اور ہم ان تمام پہلوؤں کو دیکھ رہے ہیں۔
عوام الناس کے لیے اشتہار اور 1 لاکھ روپے انعام کا اعلان
جوڈیشل کمیشن نے سندھ حکومت کو ہدایت کی ہے کہ کیس سے متعلق معلومات رکھنے والے شہریوں کے لیے اردو، انگریزی اور سندھی روزناموں میں اشتہار شائع کروائے جائیں۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ حکومتِ سندھ کو سفارش کی جائے گی کہ سچی معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 1 لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا جائے۔ اس سلسلے میں ایڈیشنل سیکریٹری کو تحریری طور پر بھی آگاہ کیا جائے گا۔
پولیس اہلکاروں، ڈاکٹروں اور نرسری ملازمین کو نوٹسز جاری
کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے کمیشن نے متعدد اہم شخصیات اور شاہدین کو نوٹسز جاری کر کے طلب کر لیا ہے، جن میں موقعِ واردات پر سب سے پہلے پہنچنے والی پولیس موبائل کے 2 اہلکار، ایدھی/ایمبولینس ڈرائیورز محسن اور جاوید، سب سے پہلے لاش کی نشاندہی کرنیوالے نرسری کے 2 ملازمین اور میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر اسامہ شیخ شامل ہیں۔
کمیشن نے سندھ حکومت کو کل تک تمام اصل دستاویزات، گواہوں کے بیانات، میڈیکل رپورٹس اور کیس سے منسلک پولیس افسران و ڈاکٹرز کی مکمل فہرست پیش کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: ایک موت، قرض اور ایک ناقابلِ شناخت لاش: کیا میر رضا علی خان کیس کی گھتیاں سلجھنے والی ہیں؟
جسٹس عمر سیال نے ایڈیشنل سیکریٹری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری کی معاونت اہم ہے، اس لیے پوچھا جائے کہ کیا وہ کمیشن میں پیش ہو کر تفتیش سے متعلق سوالات کے جوابات دے سکتے ہیں کہ نہیں۔
کمیشن نے اپنے رجسٹرار کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے اور مقتول کے والد کو ہدایت کی کہ وہ اگلے مرحلے میں صرف پہلے 3 روز کے احوال پر روشنی ڈالیں، جس کے بعد کیس کی مزید سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔














