مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے بڑھتے اثرات پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں بڑی تعداد میں ملازمتیں مستقل طور پر ختم ہوسکتی ہیں جبکہ حکومتیں اس ممکنہ تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ابھی تک پوری طرح تیار نہیں ہیں۔
بل گیٹس نے اپنی ویب سائٹ گیٹس نوٹس پر شائع کیے گئے ایک تفصیلی مضمون میں تجویز دی کہ بعض ملازمتوں کو ’ہیومن ریزروڈ‘ قرار دے کر انہیں صرف انسانوں کے لیے مخصوص کیا جائے تاکہ AI اور روبوٹس کے باعث انسانی روزگار پر پڑنے والے اثرات کو محدود کیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: فیکٹریوں اور کارخانوں کے لیے جدید بصری اے آئی ماڈل متعارف، یہ دیگر روبوٹس سے کیسے مختلف ہوں گے؟
ان کے مطابق مصنوعی ذہانت دیگر ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں زیادہ بنیادی تبدیلی لا سکتی ہے کیونکہ یہ صرف جسمانی محنت ہی نہیں بلکہ انسانی سوچ اور ذہنی صلاحیتوں کے کئی کام بھی انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بل گیٹس کا کہنا ہے کہ ابتدائی اور درمیانی سطح کی ملازمتیں خاص طور پر AI سے متاثر ہوسکتی ہیں جبکہ روبوٹکس میں ترقی کے نتیجے میں مستقبل میں جسمانی نوعیت کے کام بھی مشینوں کے ذریعے انجام دیے جاسکتے ہیں۔ قانون، کسٹمر سروس، طب، سافٹ ویئر اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبے اس تبدیلی سے متاثر ہونے کا امکان ہے۔
کچھ ملازمتیں صرف انسانوں کے لیے؟
بل گیٹس نے Human Reserved کا تصور پیش کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ کچھ کام ایسے ہیں جنہیں مشینیں انجام دینے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود انسانوں ہی کے لیے مخصوص رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟
ان کے مطابق صحت، تعلیم، نگہداشت اور ایسے شعبے جہاں انسانی ہمدردی اور براہِ راست انسانی تعلق بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، ان میں انسانی کردار برقرار رکھنا ضروری ہوسکتا ہے۔
روبوٹس اور AI پر ٹیکس کی تجویز
بل گیٹس نے حکومتوں سے یہ بھی کہا کہ وہ روبوٹس اور AI کے استعمال پر ٹیکس عائد کرنے پر غور کریں۔ ان کے مطابق موجودہ ٹیکس نظام بعض صورتوں میں کمپنیوں کو ملازمین کی جگہ مشینیں استعمال کرنے کی ترغیب دیتا ہے کیونکہ انسانی ملازمین پر پے رول ٹیکس عائد ہوتا ہے جبکہ روبوٹس کو کاروباری اخراجات کے طور پر شمار کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بظاہر فیصلہ آپ کا لیکن پیچھے اے آئی کار فرما، نئی تحقیق نے خطرناک پہلو دکھا دیا
بل گیٹس کے مطابق AI اور روبوٹس پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو متاثرہ کارکنوں کی دوبارہ تربیت، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور سماجی تحفظ کے پروگراموں پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔
AI کے دیگر خطرات بھی موجود ہیں
بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ فوائد کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی صحت، تعلیم، زراعت اور سائنسی تحقیق سمیت کئی شعبوں میں نمایاں بہتری لاسکتی ہے، تاہم اس کے غلط استعمال کے سنگین خطرات بھی موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے ہاتھوں انسانیت کے خاتمے کے کتنے فیصد امکانات ہیں، ماہرین کے اندازے
ان کے مطابق AI کو سائبر حملوں، حیاتیاتی خطرات اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ زیادہ طاقتور AI نظام مستقبل میں انسانی مفادات کے خلاف کام کرنے کے خطرات بھی پیدا کرسکتے ہیں۔
بل گیٹس نے زور دیا کہ حکومتوں کو AI کے دور میں داخل ہونے سے پہلے روزگار، ٹیکس، تعلیم، صحت اور قومی سلامتی سمیت مختلف شعبوں کے لیے مؤثر پالیسی تیار کرنا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: نوسرباز آپ کی آواز چرا سکتے ہیں لیکن ایک راز نہیں جان سکتے، جانیے اے آئی فراڈ سے بچنے کا مؤثر طریقہ
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مصنوعی ذہانت معاشی عدم مساوات میں اضافے اور بڑے پیمانے پر سماجی بے چینی کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق حکومتوں کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ وہ AI کے فوائد کو عام لوگوں تک پہنچانے اور اس کے نقصانات کو محدود کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔














