آزاد کشمیر آج ایک ایسے سوال کے سامنے کھڑا ہے جس کا جواب محض نعروں سے نہیں بلکہ کردار سے دینا ہوگا۔ ایک طرف تراڑکھل کا وہ سپوت ہے جس نے وطن کی خاطر دشمن کی قید میں تقریباً 4 دہائیاں اذیت برداشت کیں، مگر وفاداری کا سودا نہیں کیا، دوسری طرف ایسی احتجاجی سیاست ہے جس کے نتیجے میں سڑکیں بند، معمولات زندگی متاثر اور عام شہری مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ سپاہی مقبول حسین کی آٹھویں برسی پر یہ تقابل اس سوال کو پھر زندہ کر رہا ہے کہ وطن سے محبت کا حقیقی مطلب کیا ہے؟
سپاہی مقبول حسین 4 آزاد کشمیر رجمنٹ کے ان جانبازوں میں شامل تھے جنہوں نے 1965 کی جنگ میں دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ شدید زخمی ہونے کے بعد وہ بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور طویل عرصے تک بدترین ذہنی و جسمانی اذیتیں برداشت کرتے رہے، لیکن ان کا عزم متزلزل نہ ہوا۔
تقریباً 4 دہائیوں پر محیط قید کے بعد 17 ستمبر 2005 کو جب وہ وطن واپس پہنچے تو ان کی داستان محض ایک فوجی کی واپسی نہیں بلکہ وفا، صبر اور استقامت کی علامت بن چکی تھی۔ انہوں نے وطن سے کسی خصوصی رعایت، مراعات یا سہولت کا مطالبہ نہیں کیا؛ ان کی پہچان ان کا فرض، قربانی اور پاکستان سے غیر متزلزل وفاداری تھی۔
یہ بھی پڑھیں:راولاکوٹ احتجاج میں فتنہ الخوارج کے لوگ بھی شامل، شرپسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ہوگی، حکومت آزاد کشمیر
28 اگست 2018 کو سپاہی مقبول حسین اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کی زندگی آج بھی نئی نسل کے لیے ایک سوال چھوڑتی ہے کہ قوم اور وطن کے لیے حقیقی خدمت کیا ہوتی ہے؟
سپاہی مقبول حسین کی زندگی کے برعکس آزاد کشمیر میں احتجاج اور دباؤ کی سیاست نے عام شہریوں کے لیے کئی مشکلات پیدا کی ہیں۔ احتجاجی سرگرمیوں، راستوں کی بندش اور تصادم کے واقعات نے شہریوں کی آمدورفت، کاروبار، تعلیم، علاج اور روزمرہ زندگی کو متاثر کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی یا عوامی مطالبات کے لیے احتجاج جمہوری حق ہوسکتا ہے، لیکن جب احتجاج کا بوجھ براہ راست عام شہری پر پڑنے لگے، اسپتالوں تک رسائی متاثر ہو، سڑکیں بند ہوں یا سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچے تو سوال صرف سیاست کا نہیں رہتا بلکہ انسانی مشکلات کا بن جاتا ہے۔

آج سپاہی مقبول حسین کی برسی پر آزاد کشمیر کے عوام کے سامنے دو مختلف راستے نمایاں ہیں۔ ایک راستہ وہ ہے جس پر مقبول حسین جیسے غازی چلے، جہاں وطن سے لینے کے بجائے وطن پر سب کچھ نچھاور کرنے کا جذبہ تھا۔ دوسرا راستہ احتجاج، تصادم اور دباؤ کی سیاست کا ہے، جس کا اثر بالآخر اسی عام شہری کو برداشت کرنا پڑتا ہے جس کے حقوق کے نام پر سیاست کی جاتی ہے۔
مقبول حسین نے دشمن کی قید میں بھی اپنے وطن کا دامن نہیں چھوڑا۔ ان کی خاموش قربانی شاید آج کے شور شرابے سے کہیں زیادہ بلند آواز پیغام دیتی ہے کہ وطن سے وفا کا سب سے بڑا ثبوت نعروں میں نہیں، کردار میں ہوتا ہے۔
ان کی یاد آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو یہ سبق دیتی ہے کہ عظمت مراعات حاصل کرنے، راستے بند کرنے یا دوسروں کو مشکلات میں ڈالنے سے نہیں ملتی؛ اصل عظمت فرض نبھانے، قربانی دینے اور مشکل ترین وقت میں بھی اپنے وطن کے ساتھ کھڑے رہنے میں ہے۔














