نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا، خطے میں امن کے لیے مستحکم افغانستان کے خواہاں ہیں۔
برطانیہ کے 5 روزہ کامیاب سرکاری دورے کے اختتام پر پاکستان ہائی کمیشن لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ برطانوی قیادت کے ساتھ مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، تجارتی پیش رفت، انسدادِ دہشتگردی اور صومالی قزاقوں کی قید میں موجود 10 پاکستانی ملاحوں کی بحفاظت رہائی کے امور پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
سندھ طاس معاہدہ اور بھارت کو سخت پیغام
نائب وزیراعظم نے 24 سے 28 اگست ‘2026’ تک جاری رہنے والے اپنے برطانیہ کے دورے کے اہم نتائج کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کی پالیسی بالکل واضح اور غیر مبہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار کی سعودی اور ترک وزرائے خارجہ سے گفتگو، علاقائی صورتحال اور آر فور اجلاس پر تبادلہ خیال
انہوں نے بھارت کی جانب سے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مسلسل خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نئی دہلی عالمی سطح پر کیے گئے اپنے تمام وعدوں اور معاہدوں پر من وعن عملدرآمد یقینی بنائے۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ اس عالمی معاہدے میں کسی بھی قسم کی بھارتی مداخلت کو پاکستان پر جارحیت سمجھا جائے گا۔
پاک برطانیہ مستقل مذاکراتی فریم ورک اور تجارتی تعاون
برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ اور وزیرِ مملکت اسٹیفن ڈوٹی کے ساتھ وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے درمیان باضابطہ اور منظم مذاکراتی طریقہ کار قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہےجس کے تحت باہمی تعاون کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔
اس کے علاوہ تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی اور ثقافتی تبادلوں کو مزید تیز کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری کو دونوں ممالک کی دوستی کا ‘مضبوط پل’ قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔
علاقائی سیکیورٹی، افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال
برطانوی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جوناتھن پاول سے ملاقات میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید بڑھانے پر اتفاق ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر خارجہ اسحاق ڈار لندن پہنچ گئے، برطانوی وزیر خارجہ سمیت اہم حکام سے ملاقاتیں متوقع
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری چاہتا ہے، ہم مستحکم اور پرامن افغانستان کے خواہاں ہیں، افغانستان چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ افغانستان کے راستے ازبکستان سے پاکستان تک ریلوے لائن کے معاہدے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے، بارڈر بند ہونے سے پاکستانی کاشتکاروں کو بھی نقصان پہنچا، پاکستان نے 2 مرتبہ ایک ہزار کنٹینرز کو انسانی بنیادوں پر افغانستان جانے کی اجازت دی لیکن افغان حکومت نے رفاہی سامان سے لدے کنٹینرز کو جانے کی اجازت نہیں دی۔
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر برطانوی وزرا نے پاکستان کے سفارتی و ثالثی کردار کی تعریف کی، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
صومالی قزاقوں کے قبضے سے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کا مطالبہ
بین الاقوامی سمندری تنظیم (آئی ایم او) کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم نے جہاز ‘ایم ٹی آنر 25′ پر صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے ’10’ پاکستانی ملاحوں کی بحفاظت رہائی کا معاملہ اٹھایا۔
مزید پڑھیں:اسحاق ڈار کی برطانوی وزیر خارجہ سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر اہم پیشرفت
انہوں نے آئی ایم او سے درخواست کی کہ وہ انسانی بنیادوں پر ان مظلوم ملاحوں کی فوری اور محفوظ واپسی کے لیے اپنا ادارہ جاتی اثر و رسوخ استعمال کرے۔
پاک برطانیہ سیکیورٹی تعلقات اور واٹر ڈپلومیسی
سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا، جسے خطے میں آبی تقسیم کا سب سے معتبر عالمی معاہدہ تصور کیا جاتا ہے۔
حالیہ کچھ عرصے سے بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی شقوں پر یکطرفہ نظرثانی کے مطالبات اور آبی اقدامات نے دونوں ایٹمی پڑوسیوں کے درمیان تناؤ بڑھا دیا ہے۔
برطانیہ کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، سیاسی اور عسکری تعلقات ہیں، جہاں 1.5 ملین سے زیادہ پاکستانی نژاد شہری مقیم ہیں۔ اسحاق ڈار کا یہ اعلیٰ سطح کا دورہ خطے میں پیدا ہونے والے سیکیورٹی چیلنجز اور دوطرفہ اقتصادی روابط کو ‘2026’ کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کڑی ہے۔














