ہم کیوں لکھتے ہیں؟

ہفتہ 29 اگست 2026
author image

شبیر سومرو

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آج ہم دُنیا کے چند معروف لکھاریوں کے خیالات آپ سب کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں، جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ ان کے نزدیک لکھنا کیوں ضروری ہے اور انہوں نے لکھنے سے کیا تجربات حاصل کیے؟ یہ سب لکھاری اپنے اپنے ملکوں کے کامیاب یعنی ‘بیسٹ سیلر’ ہیں، جن کی تحریروں کا ان کے قارئین بہت بے چینی سے انتظار کرتے ہیں۔

جوناتھن کوئے مشہور ناولوں ‘Rotters Club’ اور ‘What a Carve Up!’ کے مصنف ہیں۔ وہ برطانیہ کے جنوبی برمنگھم کے قصبے لِکی میں 19 اگست 1961 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی عمر ہی سے لکھنا شروع کیا۔ اپنی پہلی سسپنس کہانی ‘دی کیسل آف مسٹری’ انہوں نے 8 سال کی عمر میں لکھنا شروع کی، جسے اتنی پذیرائی ملی کہ آگے چل کر انہوں نے اپنے بیسٹ سیلر ناول ‘What a Carve Up!’ میں بھی اس کہانی کے کچھ سین شامل کیے۔

اپنی پی ایچ ڈی کے دوران ہی جوناتھن نے ایک ناول ‘The Accidental Woman’ لکھا، جسے پبلشروں نے اشاعت کے لیے منظور کر لیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے پروفیشنل فکشن رائٹر بننے کا فیصلہ کیا اور پھر ان کے ناول تواتر سے شائع ہو کر مقبولیت حاصل کرنے لگے۔

وہ کیوں لکھتے ہیں؟ اس بارے میں جوناتھن کوئے بتاتے ہیں کہ ‘بچپن میں مجھے کھیل کود یا کھلونوں سے کوئی رغبت نہیں تھی۔ اس لیے میں کمرے میں بند ہو کر جیمز بانڈ اور جیسن کنگ کی کہانیوں کی نقل کیا کرتا تھا۔ ان کے ہیروز کی اداکاری کرتا تھا۔ وہیں سے مجھے لکھنے کی لت لگی۔ اس کے لیے پہلے میں جاسوسی کہانیاں پڑھتا تھا اور پھر ان جیسی لکھنے کی کوشش کرتا تھا۔

اب مجھے یہ محرومی ستاتی ہے کہ میں نے اس زمانے میں دوسرے بچوں کی طرح کھیل کود اور بائیک رائیڈنگ کیوں نہ کی؟ مجھے یہ سوال بہت چبھتا ہے کہ میں کیوں لکھتا ہوں؟ مگر اس کا جواب دینا بھی میں ضروری سمجھتا ہوں تاکہ میرے بعد آنے والے ایک واضح راستہ اختیار کرنے اور اس کام کی اونچ نیچ کو سمجھنے کے لیے آزاد ہوں۔

اب میں اس لیے لکھتا ہوں کہ میری عادت مجھے لکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ لکھنے سے کمائی کرنا میری معاشی مجبوری بھی ہے اور ایک بڑی وجہ میرے لکھنے کے معمولات یا روٹین کی بھی ہے، جس کا اکثر سوال کیا جاتا ہے۔

میں واضح کر دوں کہ میں بہت غیر منظم رائٹر ہوں۔ میں کمپیوٹر کھول کر اسکرین کو خالی الذہن کی کیفیت میں دیکھتا رہتا ہوں۔ پھر جب اس مشغلے سے بور ہونے لگتا ہوں تو اٹھ کر ایک کپ کافی بناتا ہوں، پھر آکر اسکرین کے سامنے بیٹھ جاتا ہوں اور یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا تھا۔

اس دوران بے خیالی میں کافی کا بڑا سا گھونٹ لیتا ہوں تو مجھے یاد آجاتا ہے کہ میں تو لکھنے بیٹھا تھا۔ پھر سوال سامنے آتا ہے کہ مجھے کیا لکھنا ہے؟ تب جواب ملتا ہے کہ کچھ بھی… بس کچھ بھی لکھا جا سکتا ہے، لکھنا شرط ہے۔ یہ سب میرے ذہن میں آتا ہے تو میں توانائی محسوس کرنے لگتا ہوں اور میری انگلیاں کی بورڈ پر رقص کرنے لگتی ہیں۔

اگر اتنا کچھ ہونے پر بھی میں خود کو آمادہ نہیں کر پاتا تو پھر ایسے ہی انٹرنیٹ پر آوارہ گردی شروع کر دیتا ہوں اور اس سے بھی موڈ بہتر نہ ہو تو کمپیوٹر ہی پر تاش کھیلنے لگتا ہوں۔ یہ ہے میری روٹین، میں نے بتایا نہ کہ میں بہت غیر منظم رائٹر ہوں۔

رہا سوال اس بات کا کہ میں تنہا رہ کر کس طرح گزارہ کرتا ہوں، تو اس کا جواب دیتے ہوئے میں خود ایک سوال کروں گا کہ آدمی ہجوم میں رہ کر بھلا کس طرح Survive کر سکتا ہے؟ مجھے تو یہ سوچ کر ہول آتا ہے کہ اگر مجھے کوئی ہجوم گھیر لے اور میرے نکل بھاگنے کی راہ نظر نہ آئے تو آخر میں کیا کروں گا؟

میں ایک ایسے گھر میں رہتا تھا جہاں مشترکہ خاندانی نظام تھا اور میرے والدین خود تو پڑھتے تھے لیکن میرے مطالعے کے لیے کچھ زیادہ دلچسپی نہیں لیتے تھے۔

وہ میرے دادا جان تھے جنہوں نے مجھے لکھنے کی جانب مائل کیا تھا۔ انہوں نے مجھے شرلاک ہولمز جیسی آفاقی تحریروں سے متعارف کرایا، جن سے میں آج بھی محبت کرتا ہوں اور پڑھتا رہتا ہوں۔

دادا لائبریری سے کتابیں لے آتے اور مجھے پڑھنے کو دیتے تھے۔ انہی کے طفیل میں جدید فکشن اور ناولوں سے واقف ہوا تھا۔ مجھے کہا جاتا ہے کہ میں نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی نصیحت کروں۔ ایسے میں مجھے الجھن ہوتی ہے لیکن میں کوشش کر کے کچھ نہ کچھ بول دیتا ہوں۔

مجھے خود زندگی کی جو بہترین نصیحت کی گئی تھی وہ رائٹر خاتون بیرل بین برج نے کی تھی۔ انہوں نے مجھے کہا تھا کہ اخبارات میں فکشن پر تبصرے کا سلسلہ قطعی شروع نہ کروں، کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح رائٹرز کی تحریروں سے متعلق سرعام تبصرہ کرنا غلط ہوتا ہے اور یہ عمل آدمی کو نہ صرف تنہا کر دیتا ہے بلکہ اس کے ساتھ لکھاری اس سے نفرت بھی کرنے لگتے ہیں۔

میں نے بیرل کی یہ نصیحت نظر انداز کر دی اور لگاتار پانچ برسوں تک بُک ریویو لکھتا رہا، پھر مجھ پر انکشاف ہوا کہ وہ تجربہ کار رائٹر درست کہتی تھیں۔ اس کے بعد میں اپنا تبصرہ اور تنقید اپنے ہی پاس رکھتا ہوں، ظاہر نہیں کرتا۔’

مصری رائٹر اعلیٰ الاسوانی 26 مئی 1957ء کو پیدا ہوئے۔ وہ ملک کی سیاسی تحریک ‘کفایہ’ کے بانی ارکان میں سے ہیں۔ ان کے والدین کا تعلق اعلیٰ طبقے سے تھا۔ ان کا ناول ‘یعقوبیان بلڈنگ’ بہت مقبول ہوا ہے، جس کے اردو سمیت کئی زبانوں میں ترجمے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنا کیریئر ڈینٹل سرجن کے طور پر شروع کیا تھا۔

لکھنے لکھانے اور کتابوں سے دلچسپی کے متعلق اعلیٰ الاسوانی بتاتے ہیں کہ ‘میرے والد خود ادیب اور وکیل تھے، اس لیے ہمارے گھر میں کتابیں بہت ہوتی تھیں۔ جب آپ کے ارد گرد کتابیں ہوں تو پھر آپ پڑھتے بھی ہیں۔

یوں میں نے بچپن ہی سے کتابوں میں پناہ لینا شروع کی۔ یہ ایک طرح سے باقی مسائل سے میرے فرار کا ایک ذریعہ تھا، جہاں میں رہتا تھا اسی عمارت میں ایک عوامی لائبریری بھی تھی۔ یوں وہاں سے بھی کتابیں مل جاتی تھیں۔

اب آتے ہیں اس سوال پر کہ آخر کیوں لکھا جاتا ہے یا میں خود کیوں لکھتا ہوں؟ تو ابتدا میں تو میرے والد ہی میرے لکھنے کا محرک بنے۔ میں ان کی اکلوتی اولاد تھا، اس لیے ان سے بہت قربت بھی ہوتی تھی۔ جب وہ بیٹھ کر کچھ لکھتے تھے تو مجھے بہت سرخوشی اور جوش محسوس ہوتا تھا۔ وہ مجھے اپنے والد کے ساتھ ساتھ کوئی اور شخصیت بھی لگنے لگتے تھے جو کچھ نیا، کچھ عجیب تخلیق کر رہے ہوتے تھے۔

انہوں نے میری اوائل عمری ہی میں مجھے کتابیں دینا شروع کیں اور جب میں پڑھ لیتا تو ان پر وہ بحث بھی کرتے تھے۔ جب 19 سال کی عمر میں میں نے کچھ آرٹیکلز لکھے تو میرے والد نے بہت حوصلہ افزائی کی اور بتایا کہ تمہارے اندر لکھنے کی صلاحیت ہے مگر تمہیں کامیابی تب ملے گی جب تم لکھنے کو اپنی پہلی ترجیح بنا لو گے۔ اس کے بعد تمہیں بہت محنت کرنا ہو گی۔

اس کے بعد جب میں نے لکھنے کو اپنی اولین ترجیح بنا لیا اور میری تحریریں مقبول ہونا شروع ہوئیں تب مجھے اندازہ ہوا کہ ہر کوئی صرف خواہش یا شوق سے ادیب نہیں بن سکتا۔ لکھاری ہونا پیدائشی وصف ہے اور وہ لوگ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں جو یہ دریافت کر لیتے ہیں کہ ان کے اندر ایک رائٹر موجود ہے جسے باہر آنا چاہیے۔

میں سمجھتا ہوں کہ میں نے یہ بات 11 ویں سال ہی میں دریافت کر لی تھی کہ میرے اندر لکھاری پوشیدہ ہے۔ اس کے علاوہ اس عمر میں میرا کوئی اور سپنا نہیں تھا۔ میری دوسری خوش نصیبی یہ ہوئی کہ میرے والد میری پشت پر موجود تھے جو خود رائٹر تھے۔

اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ لکھنا دوسرے تمام پیشوں سے مشکل ہے۔ اس کے لیے آدمی کا محنتی ہونا پہلی شرط ہے اور دوسری شرط وابستگی ہے۔ لکھنے کا کام ایسا ہے کہ آپ خود کو کبھی گھنٹوں کے لیے اور کبھی دنوں کے لیے کمرے میں بند کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ سالہا سال تک محنت کر کے اپنا منفرد اسلوب وضع کرتے ہیں، تب آپ کی تحریر کو سندِ قبولیت ملنے لگتی ہے۔

یہ ایک مشکل پیشہ ہے جس میں آپ کو روز نیا کنواں کھود کر روز تازہ پانی نکالنا ہوتا ہے۔ پھر ایک بات اور ہے کہ جب آپ لکھنے کو بطورِ کیریئر اپنا لیتے ہیں تو پھر اسے چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لکھنے کے وقت یہ عجب واردات گزرتی ہے کہ آپ بیک وقت دو فرد ہوتے ہیں۔

ایک تو وہ عام فرد ہوتا ہے جو عام لوگوں کے ساتھ عام زندگی بسر کرتا ہے، دوسرا وہ ناول نویس ہے جو خود کو سب سے چھپا کر ایک کونے، ایک کمرے میں بیٹھا ہے اور دنیا کو ایک حساس کیمرے کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے، مشاہدہ کر رہا ہے کہ اس کے ارد گرد کیا کچھ ہو رہا ہے۔ اس میں سے وہ اپنے کام کی چیزیں چنتا ہے اور انہیں اپنی تحریر میں لے آتا ہے۔

اس طرح میں 24گھنٹے ایک ناول نگار ہوں۔ ہر وقت میری نظر، میرے کان ایک ناول نگار کے طور پر کام کرتے ہیں۔ میں اس کے بغیر زندہ رہنے کا تصور نہیں کر سکتا۔ میں روزانہ صبح ساڑھے 6 بجے سے صبح ساڑھے 10  بجے تک لازماً لکھتا ہوں۔ جمعے کی چھٹی کرتا ہوں۔ بقیہ 6 دن میں کسی روز اگر میں صبح سویرے اٹھ نہ سکوں تو دن بھر خود کو مجرم محسوس کرتا رہتا ہوں۔

دوپہر کے بعد میں بطورِ دندان ساز کام پر جاتا ہوں اور یہ جاب ہفتے میں 3 دن ہوتی ہے۔ اب تک میرے ناولز دنیا کی تقریباً 2 درجن زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں، اس لیے مجھے دنیا بھر میں سفر بھی کرنا پڑتا ہے کہ مجھے بلاوے آتے رہتے ہیں۔

مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ میں نئے رائٹرز کو کیا گائیڈ لائنز دینا چاہوں گا؟ اصل میں ابھی تو خود مجھے رہنمائی کی ضرورت رہتی ہے۔ اس کے باوجود کچھ کہنا لازم ٹھہرتا ہے تو میں اتنا کہتا ہوں کہ پہلے آپ یہ دیکھیں کہ آپ کے اندر واقعی صلاحیت ہے لکھنے کی؟ اگر ہے تو پھر آپ خود سے یہ سوال کریں کہ کیا میں لکھنے کے لیے دنیا کے بقیہ کام ترک کر سکتا ہوں؟ اگر جواب ہاں میں ملے تو پھر آپ خود کو سخت محنت کے لیے تیار کیجیے۔

تخلیقی تحریر کے لیے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس کے لیے آپ کو بہت سارے پراسرار انداز اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ کردار آپ کے اوپر طاری ہو جاتے ہیں اور وہ آپ پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ میرے ساتھ تو ہر وقت یہی حالت رہتی ہے۔

مجھے بعض اوقات کرداروں پر کنٹرول نہیں رہتا اور میں انہیں اپنی ذہنی اسکرین پر وہ کچھ کرتے دیکھتا ہوں جو ناول میں ان سے میں کرانا نہیں چاہتا۔ وہ اپنا فیصلہ خود کرنے لگتے ہیں اور مجھے ان کی پیروی کرنا پڑتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انسان کے ذہنی ارتقا کو سمجھنے کے لیے پہلے پڑھنا اور پھر لکھنا لازم ہے۔’

مرینہ لیوکا یوکرینی نژاد برطانوی ناول نویس ہیں۔ ان کی پیدائش کیف شہر کی ہے مگر اس وقت وہ شیفلڈ، برطانیہ میں رہتی ہیں۔ وہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئیں۔ بعد میں ان کا خاندان برطانیہ شفٹ ہوا، جہاں مرینہ نے میڈیا کے شعبے میں تعلیم حاصل کی اور لیکچرر ہوئیں۔

ان کا مقبول ناول ‘اے شارٹ ہسٹری آف ٹریکٹرز اِن یوکرین’ ہے، جس پر انہیں 2005 میں بولنگر ایوری مین ووڈ ہاؤس ایوارڈ دیا گیا۔ ان کے دوسرے ناول ‘ٹو کاروانز’ پر بھی انہیں کافی پذیرائی ملی۔ اب تک ان کی کئی کتابیں آ چکی ہیں۔

لکھنے لکھانے سے متعلق ایک انٹرویو میں مرینہ لیوکا کہتی ہیں کہ ‘میں نے دنیا کی ستم ظریفیاں اور محرومیاں بہت قریب سے دیکھی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میرے پاس بہت ساری باتیں جمع ہو گئی تھیں جو میں دنیا کو بتانا چاہتی تھی۔

میری پہلی تحریر ایک نظم تھی، جو میں نے صرف چار سال کی عمر میں تیار کی تھی۔ یہ ننھی نظم خرگوشوں سے متعلق تھی۔ یہ نظم آج بھی مجھے یاد آتی ہے تو اس کا بچگانہ اسلوب اور غذائیت مجھے بہت متاثر کرتی ہے۔

یہ سوال کہ اب میں کیوں لکھتی ہوں؟ اس کا جواب سب کو شاید عجیب لگے۔ مجھے عجلت کا احساس مجبور کرتا ہے کہ میں جو کچھ اندر کہانیوں، شاعری اور دوسرے تخلیقی مواد کی صورت میں سنبھالے بیٹھی ہوں، اسے جلد سے جلد لکھ ڈالوں تاکہ وہ فوراً کے فوراً لوگوں تک پہنچ جائے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ سب مجھ سے پہلے کوئی اور کہہ دے اور میں دنیا کی تخلیقی دوڑ میں پیچھے رہ جاؤں۔

آپ اسے موجودہ مسائل اور ماحول سے میرا فرار بھی کہہ سکتے ہیں۔ میں نہ صرف کہانیاں بلکہ ان کی تکنیک اور اسلوب بھی جلد سے جلد شیئر کرنا چاہتی ہوں اور یہ سب کرنا آسان بھی نہیں ہے۔ دن بہ دن کچھ نیا کہنا اور اسے لوگوں تک پہنچانا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

جب ابتدا میں مجھے یہ احساس رہتا تھا کہ میری تحریریں کوئی نہیں پڑھتا، تب لکھنا میرے لیے آسان ہوتا تھا،  مگر اب مجھے جب یہ یقین ہو چکا ہے کہ میری کتاب چھپتے ہی لاکھوں لوگ اسے پڑھنے کے لیے خریداروں کی قطاروں میں کھڑے ہو جاتے ہیں تو ایک ایک لفظ لکھنا میرے لیے نہایت مشکل اور ذمہ داری کا کام بن چکا ہے۔

مجھے اس کام کے لیے تنہائی اور خاموشی بھی درکار ہوتی ہے، کیونکہ میں جو بھی لکھنا چاہتی ہوں، پہلے اس کے تمام پہلوؤں پر غور و فکر کرنا چاہتی ہوں۔ اگر ارد گرد شور شرابہ ہو گا تو میں ایسا لکھنے سے قاصر رہتی ہوں جس سے میں خود مطمئن ہو سکوں۔

مجھ سے یہ سوال اکثر ہوتا ہے کہ مجھے سب سے اچھی نصیحت کیا ملی یا میں دوسروں کو کون سی نصیحت کرنا چاہتی ہوں۔ اس حوالے سے میں اپنے پبلشر روبن سمسن کی احسان مند ہوں، جنہوں نے مجھے ایک بار لکھا تھا کہ جو کچھ بتانا یا پڑھانا چاہتی ہو، اسے الفاظ میں سیدھے سبھاؤ بیان کرنے کے بجائے تحریری تصور کے ذریعے ریڈرز کو وہ سب کچھ دکھانے کی کوشش کرو۔

یہاں یہ اعتراف بھی کرنا چاہوں گی کہ روبن سمسن نے یہ بات تب لکھ بھیجی تھی جب وہ میری لکھی ہوئی تحریر کے درجنوں صفحات مسترد کر چکے تھے۔

ساتھ ہی میں نئے لکھنے والوں کو یہ بھی بتانا چاہتی ہوں کہ اگر انہیں کچھ چھپنے کے لائق لکھنا ہے تو اس کے لیے پہلے لکھنے کی صلاحیت کو تربیتی کورس کے ذریعے باقاعدہ سیکھ لیں۔ جب تک وہ تخلیقی تحریر کا اسلوب، تکنیک اور فارم سیکھیں گے نہیں، تب تک کوئی پبلشر ان کی تحریر پر نظر ڈالنا بھی گوارا نہ کرے گا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ پبلشر لوگ پروفیشنل ہوتے ہیں اور انہوں نے بھی اس طرح کے تمام ضروری تربیتی کورس کر کے اس میدان میں قدم رکھا ہوتا ہے۔ اس لیے ان کو آپ کی خام تحریر متاثر نہیں کرتی۔ کامیاب تحریر کا اس کے علاوہ کوئی راز نہیں۔

میں لکھتے وقت گھنٹوں مصروف رہتی ہوں اور جب لکھا ہوا پڑھتی ہوں تو اگر کوئی بھی بات مجھے اس میں کمزور نظر آئے تو سارے صفحات پھاڑ دیتی ہوں اور نئے سرے سے لکھنا شروع کر دیتی ہوں۔ اس طرح کی مشق بہت ضروری ہے مگر اس کے لیے آپ کو بہت ہمت کی ضرورت پڑے گی کہ اپنا محنت سے لکھا ہوا میٹر مسترد کریں۔’

جوزیفائن کوکس لنکاشائر کے علاقے بلیک برن میں پیدا ہوئیں۔ ان کی کتابیں مسلسل بیسٹ سیلر کا مرتبہ حاصل کرتی آرہی ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں یوکے پبلک لینڈنگ ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ انہیں انگریزی کے ٹاپ تھری رائٹرز میں بھی شامل کیا گیا تھا۔ جوزیفائن کوکس ایک اور قلمی نام ‘جین برنڈل’ کے نام سے بھی لکھتی ہیں۔

جوزیفائن کوکس بھی محسن حامد کی طرح اعتراف کرتی ہیں کہ وہ کسی بھی کہانی یا ناول لکھنے کے لیے تحقیق یا ریسرچ کے بکھیڑوں میں نہیں پڑتیں، جو اندر ہوتا ہے وہ لکھ لیتی ہیں۔

‘میرے اندر کہانیوں کے بہت ذخیرے پوشیدہ ہیں۔ میں لوگوں کا گہرا مشاہدہ کرتی ہوں اور مجھے دنیا بھر میں رلتے ہوئے جو گوناگوں تجربات ہوتے ہیں، میں انہی کو کاغذ پر اتار لیتی ہوں۔ میں اگر ٹرین کی سیٹ پر بیٹھی کہیں جا رہی ہوں تو سامنے بیٹھے شخص کو تھوڑی دیر تک دیکھتی رہوں گی اور مجھے نئی کہانی مل جائے گی۔

یہی وجہ ہے جو مجھے لکھنے پر مجبور کرتی ہے اور اسی وجہ کے باعث میں آئندہ بھی لکھتی رہوں گی کہ دنیا کا ہر شخص ایک کہانی ہے، ایک ناول کا مرکزی کردار ہے۔

میں بھی بیشتر رائٹرز کی طرح سحر خیز ہوں۔ صبح سویرے تقریباً چھ بجے بیدار ہو کر تیار ہوتی ہوں اور کمپیوٹر کھول کر بیٹھ جاتی ہوں۔ میرے لکھنے کا دن شروع ہو جاتا ہے۔ لنچ ٹائم تک یہ سلسلہ بغیر رکے جاری رہتا ہے۔ اس کے بعد گھریلو کام کاج، فیملی کو ٹائم دینا ہوتا ہے۔

شام کے بعد فری ہو کر پھر نصف شب تک لکھنا لگا رہتا ہے۔ اگر کوئی ایسا مرحلہ لکھنے میں آگیا جو مجھے اپنے ساتھ بہائے چلا جاتا ہے تو پھر لکھنے کا عمل دوسری صبح تک بھی طول کھینچ سکتا ہے۔ مجھے نظم و ضبط کے ساتھ رہنا پسند ہے اور لکھاری کا پیشہ تو ایسا ہے کہ اس کے لیے آپ کو اپنی عائد کردہ پابندیاں قبول کرنا ہی پڑتی ہیں۔

مجھے لوگ کہتے ہیں کہ تنہا رہ کر لکھنا کیسے کر لیتی ہیں؟ میں کہتی ہوں کہ میں تو کبھی تنہا ہوتی ہی نہیں۔ میرے کردار میرے ارد گرد گھوم پھر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے جملے میرے کانوں میں گونجتے رہتے ہیں جو میں ان کی زبانی سن کر تحریر کرتی رہتی ہوں۔

میں تنہا اس وقت ہوتی ہوں جب قلم رکھ لیتی ہوں یا کمپیوٹر کو الگ چھوڑ کر کافی کا کپ بنانے کے لیے کچن میں چلی جاتی ہوں۔ اس کے علاوہ میرے ارد گرد میرے کردار ہوتے ہیں۔

مجھے کبھی بھی نصیحت کرنا ٹھیک نہیں لگتا، البتہ مجھے جو بہترین نصیحت ملی ہے وہ میرے لندن والے پبلشر ٹوبی راکس برو نے کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’جوزیفائن! کبھی کسی کو اجازت نہ دینا کہ وہ آپ کا اسلوب تبدیل کرنے کی جرأت کرے۔ آپ بہت خالص لکھتی ہیں اور یہی آپ کی کامیابی ہے۔‘

اس کے بعد برسوں سے مختلف مدیران اور میرے پبلشرز کہتے رہے کہ تمہیں اس ٹکڑے کو یوں یا اس طرح کر کے لکھنا چاہیے، مگر میں صاف منع کر دیتی ہوں کہ یہ تو جیسے لکھا ہے، ویسے چھپے گا۔

مجھے اگر اصرار کیا جائے کہ پھر بھی تم نوجوان لکھاریوں کو کیا کہنا چاہوں گی، تو میں صرف اس پر اکتفا کروں گی کہ املا کی غلطیوں کو نظر انداز کر دیں، لے آؤٹ اور ابواب کی ترتیب پر بھی توانائی ضائع نہ کریں۔

یہ کام ایڈیٹرز کا ہے۔ آپ کا کام اتنا سا ہے کہ جو بھی لکھیں، وہ دل سے لکھیں۔ روانی سے لکھتے چلے جائیں، راستے میں پتھر کھڈے نہ آنے دیں۔ قاری کو صاف رستہ دے دیں کہ وہ چلتا چلا جائے۔

آپ کے لیے سب سے اچھا فیصلہ یہ ہے کہ تحریر کے آگے اپنا دل، اپنی روح ہار جائیں، تحریر کی فتح کو خوش دلی سے قبول کریں۔ ہر کردار کو خود پر طاری کر لیں تو اس کا ماحول، اس کا انداز آپ کو خود گائیڈ کرے گا کہ اس کردار کو آپ کس طرح پیش کریں۔ عورت کا کردار ہو تو عورت بن جائیں، بچے کا ہے تو بچہ بن کر آگے بڑھیں۔

میں آج کل نئے ناول پر کام کرتے ہوئے دہری تہری زندگی جی رہی ہوں۔ یہ ناول ایک شخص اور ایک بچے کی زندگی پر ہے۔ وہ مرد اس جگہ واپس آتا ہے جہاں اس نے بچپن گزارا ہے۔ اس کا بیٹا بھی اس کے ساتھ ہے۔ یہ ایک دل گداز کہانی ہے جو روح کو چھونے لگتی ہے۔’

برنارڈین ایوارستو کے والد نائیجریائی اور والدہ برٹش تھیں۔ برنارڈین نے اسکول ہی میں ڈرامہ اور تقریر کا فن سیکھنا شروع کیا تھا۔ انہوں نے اپنی پی ایچ ڈی تخلیقی طرزِ تحریر میں کی۔ وہ ٹین ایج میں بہترین اداکارہ بھی رہی ہیں۔ انہوں نے سات ناول اور چند شعری مجموعے لکھے ہیں جن کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

ان کا سردست آخری ناول ‘Akashic’ گزشتہ چند برس پہلے شائع ہوا اور بیسٹ سیلر رہا ہے۔ وہ ‘پوئٹری ریویو’ جیسے معتبر جریدے کو ایڈٹ بھی کرتی رہی ہیں۔ ان کی سب سے اہم کتاب ‘Blonde Roots’ ہے۔

برنارڈین ایوارستو کیوں لکھتی ہیں؟ انہی کی زبانی سنیے، ‘میں اس لیے لکھتی ہوں کہ دنیا کو اپنا منفرد کنٹری بیوشن دے سکوں۔ میں اس لیے لکھتی ہوں کہ مجھے لکھنا ہے! مجھے لکھنا اچھا لگتا ہے اور لوگ میرا لکھا ہوا فکشن اور شاعری پسند کرتے ہیں۔

مجھے اب اتنا تجربہ اور اعتماد حاصل ہو چکا ہے کہ مجھے لکھنا آسان کام لگنے لگا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ میں اب جو بھی لکھنے کا کام شروع کرتی ہوں، اسے ہر حال میں پایۂ تکمیل تک پہنچا کر دم لیتی ہوں۔ یہ مجھے پرلطف لگتا ہے مگر یہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا میں بتا رہی ہوں۔ اس کے لیے مجھے اپنا انداز، اپنا سب کچھ کھول کر باہر نکالنا اور اسے مرتب کر کے دنیا کو دینا پڑتا ہے۔

مجھے کبھی کبھی فخر ضرور ہوتا ہے کہ میں اپنی زندگی کو انتہائی بہتر طریقے سے استعمال کر رہی ہوں۔ لکھنا میرے لیے زندہ رہنے کا جواز ہے۔ میں عام آدمی کی زندگی جیتے ہوئے لکھنے کے لیے وقت ترجیحی طور پر نکالتی ہوں۔

میں دوسروں کو بھی یہی کہوں گی کہ آپ لکھیے، اس لیے نہیں کہ آپ لکھنا چاہتے ہیں بلکہ اس لیے لکھیے کہ آپ لکھنے سے پیار کرتے ہیں، لطف لیتے ہیں؛ اور اس لیے بھی لکھیے کہ لوگ آپ کا لکھا پڑھنا چاہتے ہیں۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ اچھی تحریر کا راز کیا ہے؟ میں آج بتا دوں کہ دیکھا جائے تو کوئی راز نہیں سوائے اس کے کہ آپ لکھنے سے محبت کرتے ہیں اور یہ محبت کئی گنا ہو کر آپ کو واپس ملتی ہے۔

دنیا کے کسی دور افتادہ کونے میں، جس کا آپ نام بھی نہیں جانتے، وہاں بیٹھا ہوا کوئی شخص اگر آپ کو ای میل کر کے بتاتا ہے کہ اس نے آپ کی فلاں کتاب پڑھی ہے اور اسے بہت مزہ آیا ہے، تو اس سے بڑھ کر دنیا کی اور کون سی چیز ہے جو آپ کو خوشی دے سکتی ہے؟

اس لیے لکھیے اور اسے پھیلائیے… دنیا بھر کے لوگ آپ کے کردار اور آپ کی ورچوئل فیملی ہیں۔’

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ