اقوام متحدہ اور تحقیقی ادارے ’ریچ‘ (REACH) نے افغانستان میں بھوک، بے گھری اور خشک سالی کے باعث عوام کی ذہنی صحت کو لاحق سنگین خطرات سے خبردار کردیا۔
27 اگست کو جاری نئی جائزہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 2 کروڑ 19 لاکھ افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ 2026 میں ملک کی قریباً 45 فیصد آبادی شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں:افغانستان میں ہر قسم کے احتجاج پر پابندی، طالبان حکومت پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی شدید تنقید
رپورٹ کے مطابق شدید غذائی عدم تحفظ بحران کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اندازاً 1 کروڑ 74 لاکھ افراد کو شدید بھوک کا سامنا ہوگا، جن میں 47 لاکھ افراد انتہائی ہنگامی صورتحال سے دوچار ہوں گے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔
ژرفا: فروپاشی روانی میلیونها انسان گرسنه
سازمان ملل اعلام کرده بحران عمیق گرسنگی در حاکمیت طالبان، روان جامعه را به لبه پرتگاه فروپاشی کشانده است. نهاد پژوهشی ریچ میگوید بیش از ۲۱ میلیون افغان نیازمند کمکاند.
نصیر بهزاد در ژرفا به این موضوع پرداخته است. pic.twitter.com/fZAqlE9OK1
— افغانستان اینترنشنال (@AFIntlBrk) August 28, 2026
دوسری جانب ’لا نینا‘ موسمیاتی رجحان کے باعث افغانستان کے 12 صوبے شدید خشک سالی سے متاثر ہوئے ہیں اور قریباً 34 لاکھ افراد براہِ راست متاثر ہوئے۔ کم برفباری، بارش میں کمی اور موسم سرما و بہار میں غیر معمولی حدت کے باعث زیرِ زمین پانی کے ذخائر کم اور دریاؤں میں پانی کا بہاؤ گھٹ گیا، جس سے زراعت، مویشیوں اور پینے کے پانی تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔
خواتین اور بچوں کو زیادہ ذہنی دباؤ کا سامنا
ذہنی صحت اور نفسیاتی معاونت کے ماہرین کے مطابق آمدنی کے ذرائع ختم ہونے، بے گھری اور خواتین و لڑکیوں پر عائد سخت پابندیوں سمیت مسلسل بحرانوں نے افغان معاشرے پر غیر معمولی نفسیاتی دباؤ ڈال دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بچے، خواتین، معذور افراد، بزرگ اور بے گھر آبادی ان حالات میں سب سے زیادہ نفسیاتی خطرات سے دوچار ہیں۔
ایران اور پاکستان سے لاکھوں افغانوں کی واپسی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران ایران اور پاکستان سے 26 لاکھ 10 ہزار سے زائد افغان مہاجرین کی واپسی نے بنیادی سہولیات اور میزبان آبادیوں پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ارزیابی سازمان ملل و نهاد ریچ نشان میدهد نزدیک به ۲۲ میلیون نفر در افغانستان به کمک فوری نیاز دارند و بحرانهای پیدرپی، سلامت روان مردم را بهشدت تحت فشار قرار داده است.
نظیفه حقپال نکات عمده گزارش و راهکارهای پیشنهادی را بررسی کرده است. pic.twitter.com/mCNkBdJlWW
— افغانستان اینترنشنال (@AFIntlBrk) August 28, 2026
مزید پڑھیں:افغانستان سے مذاکرات پر آمادہ ہیں، دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات دکھانا ہوں گے، پاکستان
افغانستان میں جنگی باقیات اور بارودی سرنگوں (دھماکا خیز مواد) کا خطرہ بھی برقرار ہے، جہاں ایسے مواد کے باعث ہر ماہ اوسطاً 50 افراد ہلاک یا زخمی ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انسانی امدادی ادارے 2026 میں انتہائی ضرورت مند 1 کروڑ 75 لاکھ افراد تک امداد پہنچانے کا منصوبہ رکھتے ہیں، جس کے لیے 1.71 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
امدادی پروگرام میں خوراک، رہائش، صحت کی سہولیات، پینے کے صاف پانی اور ذہنی و نفسیاتی معاونت کی فراہمی شامل ہے۔














