آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کے لیے وزارت عظمیٰ کا منصب محض ایک نئی سیاسی ذمہ داری نہیں بلکہ ان کے سابقہ حکومتی تجربے کو وسیع پیمانے پر آزمانے کا مرحلہ بھی ہے۔ محکمہ تعلیم میں وزیر کی حیثیت سے اصلاحات کا تجربہ رکھنے والے افتخار گیلانی نے اب پورے آزاد کشمیر کے لیے اپنے پہلے ہی خطاب میں روزگار، میرٹ، ڈیجیٹل معیشت، ہنرمند تعلیم، صحت، مقامی معیشت اور گورننس میں اصلاحات کو ترجیحات قرار دیا ہے۔
ان کا انتخاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب آزاد کشمیر کو معاشی دباؤ، روزگار کے محدود مواقع، بنیادی سہولیات، انتظامی اصلاحات اور سیاسی بے چینی جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟ کیریئر پر ایک نظر
اسی لیے نئے وزیراعظم کے اعلانات کو محض روایتی سیاسی وعدوں کے بجائے اس بات کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے کہ وہ اپنے سابقہ انتظامی تجربے کو کس حد تک پورے ریاستی نظام میں تبدیل کر پاتے ہیں۔
وزیر تعلیم سے وزیراعظم تک، ایک ہی سمت کی سیاست؟
افتخار گیلانی کے موجودہ وژن میں میرٹ، تعلیم، نوجوانوں کے لیے روزگار اور انتظامی اصلاحات نمایاں ہیں اور ان میں سے بعض ترجیحات ان کے سابقہ دورِ وزارت تعلیم سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔
2016 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد راجا فاروق حیدر کی حکومت میں افتخار گیلانی کو محکمہ تعلیم کا قلمدان دیا گیا تھا۔
ان کے دور میں محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس) کے نظام کو آگے بڑھایا گیا، جس کا بنیادی مقصد بھرتیوں کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانا تھا۔
ان کے دور میں اساتذہ کی حاضری بہتر بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری، تعلیمی اداروں کے انتظامی نظم و ضبط سمیت دیگر اہم اصلاحات بھی کی گئیں۔
یعنی میرٹ، تعلیمی معیار، اساتذہ کی کارکردگی اور نظام میں نظم و ضبط جیسے موضوعات ان کے لیے نئے نہیں۔ اب فرق صرف یہ ہے کہ بحیثیت وزیراعظم انہیں یہی سوچ پورے ریاستی نظام میں نافذ کرنے کا موقع ملا ہے۔
’سب سے پہلے عوام، سب سے پہلے روزگار‘
افتخار گیلانی نے وزارت عظمیٰ سنبھالتے ہی اپنی حکومت کے بنیادی فلسفے میں عوام اور روزگار کو مرکزی حیثیت دی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری، میرٹ اور دیگر مسائل کا شکار ہیں اور ان مسائل کو صرف تقریروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے حل کیا جائےگا۔
اسی سوچ کے تحت ان کی حکومت مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے سیاحت، زراعت، لائیو اسٹاک اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہے تاکہ روزگار کے مواقع مقامی سطح پر پیدا کیے جاسکیں۔
یہ حکمت عملی اس اعتبار سے اہم ہے کہ آزاد کشمیر کی معیشت میں سیاحت، زراعت اور لائیو اسٹاک جیسے شعبوں کو روزگار اور آمدنی کے اہم ذرائع کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وزیراعظم کا اعلان ہے کہ ان شعبوں میں موجود پوٹینشل کو سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی سرگرمی میں تبدیل کیا جائےگا۔
ڈیجیٹل اکانومی اور ہنرمند نوجوان
افتخار گیلانی کے وژن کا ایک اہم پہلو ڈیجیٹل اکانومی ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل معیشت پر کام کرنے اور سکلڈ بیسڈ ایجوکیشن کو فروغ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو محض روایتی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں ایسے ہنر فراہم کرنا ہے جو روزگار اور جدید معیشت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔
ان کا کہنا ہے کہ نوجوان اور ٹیکنالوجی حکومت کی رفتار بنیں گے جبکہ خدمت ان کی منزل ہوگی۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے ابتدائی حکومتی وژن میں تعلیم اور روزگار کو ڈیجیٹل معیشت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش نظر آتی ہے۔
صحت میں ’ڈاکٹر آن ویلز‘ سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ تک
نئے وزیراعظم کے وژن میں صحت کا شعبہ بھی اہم مقام رکھتا ہے۔ افتخار گیلانی نے صحت کے نظام میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے اصلاحات لانے اور فیلڈ اسپتال قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
یہ اقدامات بالخصوص ان علاقوں کے لیے اہم ہوسکتے ہیں جہاں شہریوں کو طبی سہولیات کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
پٹواری اور تھانہ کلچر میں تبدیلی
افتخار گیلانی کے حکومتی ایجنڈے کا ایک اور نمایاں پہلو انتظامی اصلاحات ہے۔
انہوں نے پٹواری اور تھانہ کلچر کو جدید بنانے اور ون ونڈو آپریشن کے ذریعے عوام کو سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اگر یہ اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس کا براہ راست تعلق عام شہری کے روزمرہ کے سرکاری معاملات سے ہوگا، کیونکہ زمین، پولیس اور مختلف سرکاری خدمات سے متعلق معاملات میں شہریوں کا براہ راست رابطہ انہی اداروں سے ہوتا ہے۔
’بولو کشمیر‘، حکومت اور شہری کے درمیان براہ راست رابطہ
نئے وزیراعظم نے ’بولو کشمیر‘ کے نام سے سٹیزن پورٹل قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
اس پورٹل کے ذریعے شہری اپنی شکایات درج کراسکیں گے جبکہ وزیراعظم نے خود شکایات سننے کا اعلان کیا ہے۔
اس اقدام کو ان کے گورننس وژن کا اہم حصہ قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے حکومت اور شہری کے درمیان براہ راست رابطے کا ایک ڈیجیٹل ذریعہ قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
افتخار گیلانی کے سامنے اصل امتحان کیا ہے؟
افتخار گیلانی کے پاس حکومت چلانے کا تجربہ ضرور ہے لیکن وزارت تعلیم اور وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریوں میں نمایاں فرق ہے۔
وہ 2011 میں اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، 2016 میں دوبارہ کامیابی حاصل کی اور اس کے بعد وزیر تعلیم رہے۔ 2021 کے انتخابات میں انہیں شکست ہوئی جبکہ 2026 کے عام انتخابات میں بھی وہ براہ راست نشست حاصل نہ کرسکے، تاہم بعد میں ٹیکنوکریٹ نشست پر اسمبلی میں واپس آئے اور 30 ووٹ حاصل کرکے وزیراعظم منتخب ہوئے۔
اس پس منظر میں ان کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ اپنے انتظامی تجربے، مرکزی قیادت کے تعاون اور اپنی حکومت کے اعلان کردہ وژن کو عملی نتائج میں کس حد تک تبدیل کرتے ہیں۔
سیاسی استحکام بھی بڑی ضرورت
نئے وزیراعظم کو معاشی اور انتظامی مسائل کے ساتھ سیاسی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں کسی کے لیے بھی آزاد کشمیر میں حکومت چلانا اتنا آسان نہیں، اور سب سے اہم ایکشن کمیٹی کے چیلنجز سے نمٹنا ہوگا۔
یہ تجزیہ اس پہلو کو نمایاں کرتا ہے کہ وزیراعظم کی کامیابی صرف ان کی ذاتی صلاحیتوں پر منحصر نہیں ہوگی بلکہ ٹیم، اداروں، اپوزیشن کے ساتھ تعلقات اور سیاسی ماحول بھی فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔
نوجوان قیادت، تجربہ اور ڈیلیوری کا سوال
افتخار گیلانی کو آزاد کشمیر کی سیاست میں نوجوان قیادت کے نمایاں چہروں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ 2011 میں عملی سیاست میں آنے، 2016 میں دوبارہ منتخب ہونے اور قریباً پوری 5 سالہ مدت کابینہ میں وزیر رہنے کے باعث ان کے پاس سیاسی اور انتظامی تجربہ موجود ہے۔
ان کے حامیوں کے لیے سب سے مضبوط دلیل ان کا محکمہ تعلیم کا تجربہ ہے، جہاں میرٹ پر بھرتیوں اور انتظامی اصلاحات کے اقدامات ان کے دور سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب ان کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اسی اصلاحاتی سوچ کو تعلیم کے محکمے سے نکال کر پورے ریاستی نظام تک لے جائیں۔
ان کے موجودہ وژن میں نوجوان، ٹیکنالوجی، ہنرمند تعلیم، روزگار، مقامی معیشت، صحت اور انتظامی اصلاحات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
اگر حکومت ان ترجیحات کو واضح اہداف، مقررہ مدت اور مؤثر نگرانی کے ساتھ آگے بڑھاتی ہے تو افتخار گیلانی کے پاس اپنی سیاسی ساکھ کو عملی کارکردگی سے مضبوط کرنے کا موقع موجود ہے۔
تاہم سیاسی تجزیوں میں یہ بات بھی واضح ہے کہ انہیں انتہائی غیر معمولی حالات میں حکومت ملی ہے اور کامیابی کا پیمانہ اعلانات نہیں بلکہ ان اعلانات پر عملدرآمد ہوگا۔
یوں افتخار گیلانی کے لیے وزارتِ عظمیٰ کا پہلا مرحلہ سیاسی عہدہ حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے اعلان کردہ وژن کو میرٹ، روزگار، تعلیم، صحت، ڈیجیٹل معیشت اور گورننس کی عملی اصلاحات میں تبدیل کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا، بیرسٹر افتخار گیلانی
یہی وہ مرحلہ ہوگا جو یہ طے کرےگا کہ وہ ایک تجربہ کار اور نوجوان سیاستدان کے طور پر سامنے آتے ہیں یا واقعی آزاد کشمیر میں اپنے نام سے ایک قابل ذکر انتظامی دور قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔













