نیپال میں سیلاب: امدادی کارروائیاں جاری، تعمیرِ نو کے لیے 5 ارب ڈالر درکار

اتوار 30 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیپال میں گلیشیئر ٹوٹنے کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد خراب موسم کے باعث عارضی طور پر معطل سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کردیا گیا۔ حکام کے مطابق سیلاب سے نیپال اور چین کے تبت کے علاقے میں کم از کم 676 افراد ہلاک جبکہ قریباً 3 ہزار افراد لاپتا ہیں۔

مزید پڑھیں:نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

سیلاب نے عمارتوں، سڑکوں، پلوں اور بجلی گھروں کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ لاپتا افراد میں کم از کم 540 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جن میں بڑی تعداد بھارتی ہندو یاتریوں کی ہے۔

نیپال کے وزیر خزانہ سوارنیم واگل کے مطابق تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو پر ابتدائی اندازے کے مطابق 4 سے 5 ارب ڈالر لاگت آئے گی، تاہم نقصان کا حتمی تخمینہ ابھی جاری ہے۔

نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے کہا ہے کہ ملک کو عمومی سرچ اینڈ ریسکیو کے بجائے خصوصی تکنیکی معاونت درکار ہے۔ اس میں سرنگوں میں پھنسے افراد کو نکالنا، تباہ شدہ پلوں کے باعث منقطع مواصلاتی رابطے بحال کرنا، لاشوں کی شناخت، ڈی این اے ٹیسٹنگ اور لاشوں کو محفوظ رکھنے کی سہولیات شامل ہیں۔

بھارت کی سرنگوں سے ریسکیو کے ماہرین کی ٹیم نیپال پہنچ گئی ہے جبکہ چین نے بھی ماہرین بھیجے ہیں۔ بھارت کی جانب سے امدادی سامان پر مشتمل 3 پروازیں بھی بھیجی جاچکی ہیں۔

مزید پڑھیں:نیپال: سیلاب کے بعد لوٹ مار، بہہ جانے والی بینک سیف سے لاکھوں روپے برآمد، 29 افراد گرفتار

حکام کے مطابق بعض لاشیں ناقابل شناخت حد تک خراب ہوچکی ہیں، جن کے ڈی این اے نمونے لینے کے بعد بیماریوں کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر تدفین کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp