نیپال میں گلیشیئر ٹوٹنے کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد خراب موسم کے باعث عارضی طور پر معطل سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کردیا گیا۔ حکام کے مطابق سیلاب سے نیپال اور چین کے تبت کے علاقے میں کم از کم 676 افراد ہلاک جبکہ قریباً 3 ہزار افراد لاپتا ہیں۔
مزید پڑھیں:نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف
سیلاب نے عمارتوں، سڑکوں، پلوں اور بجلی گھروں کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ لاپتا افراد میں کم از کم 540 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جن میں بڑی تعداد بھارتی ہندو یاتریوں کی ہے۔
The Ministry of Foreign Affairs organised a press briefing today by Hon. Minister for Foreign Affairs Mr Shisir Khanal on the Government’s ongoing search, rescue and relief efforts, following the devastating floods in the Bhote Koshi River.
The briefing concluded with an… pic.twitter.com/2W34ccrdzZ
— MOFA of Nepal 🇳🇵 (@MofaNepal) August 29, 2026
نیپال کے وزیر خزانہ سوارنیم واگل کے مطابق تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو پر ابتدائی اندازے کے مطابق 4 سے 5 ارب ڈالر لاگت آئے گی، تاہم نقصان کا حتمی تخمینہ ابھی جاری ہے۔
نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے کہا ہے کہ ملک کو عمومی سرچ اینڈ ریسکیو کے بجائے خصوصی تکنیکی معاونت درکار ہے۔ اس میں سرنگوں میں پھنسے افراد کو نکالنا، تباہ شدہ پلوں کے باعث منقطع مواصلاتی رابطے بحال کرنا، لاشوں کی شناخت، ڈی این اے ٹیسٹنگ اور لاشوں کو محفوظ رکھنے کی سہولیات شامل ہیں۔
بھارت کی سرنگوں سے ریسکیو کے ماہرین کی ٹیم نیپال پہنچ گئی ہے جبکہ چین نے بھی ماہرین بھیجے ہیں۔ بھارت کی جانب سے امدادی سامان پر مشتمل 3 پروازیں بھی بھیجی جاچکی ہیں۔
مزید پڑھیں:نیپال: سیلاب کے بعد لوٹ مار، بہہ جانے والی بینک سیف سے لاکھوں روپے برآمد، 29 افراد گرفتار
حکام کے مطابق بعض لاشیں ناقابل شناخت حد تک خراب ہوچکی ہیں، جن کے ڈی این اے نمونے لینے کے بعد بیماریوں کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر تدفین کی جائے گی۔













