کینیڈا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکا‘‘ رکھنے کے فیصلے کے جواب میں جھیل کے کینیڈین ساحل پر ایک بڑا سائن بورڈ نصب کردیا ہے، جس پر واضح طور پر لکھا ہے: ’Lake Ontario. Now and Always‘ یعنی ’جھیل اونٹاریو، اب اور ہمیشہ‘۔
اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے نئے سائن بورڈ کی رونمائی کرتے ہوئے امریکی صدر کو دوٹوک جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ سے بہت پہلے اس جھیل کو ’لیک اونٹاریو‘ کہا جاتا تھا اور ٹرمپ کے اقتدار سے چلے جانے کے بہت عرصے بعد بھی اسے جھیل اونٹاریو ہی کہا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:لیک اونٹاریو یا لیک امریکا؟ کینیڈا نے ٹرمپ کا فیصلہ مسترد کردیا
یہ تنازع امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکا نے کینیڈا کی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر 50 فیصد نئے محصولات عائد کردیے ہیں، جبکہ کینیڈا نے اگلے ماہ اسی مالیت کے جوابی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ نے جمعرات کو ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے، جس کے تحت جھیل اونٹاریو کا نام ’لیک امریکا‘ رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جھیل کے نام کی تبدیلی سے متعلق مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ متعدد ویڈیوز بھی شیئر کیں، جن میں ایک ویڈیو میں ٹرمپ کو جھیل اونٹاریو کا بورڈ گرا کر اس کی جگہ ’لیک امریکا‘ کا بورڈ لگاتے دکھایا گیا ہے۔
ایک اور ویڈیو میں کینیڈین ہنسوں کو ٹرمپ کے بالوں کے ساتھ رائفلیں اٹھائے نئے نام والی جھیل کے کنارے گشت کرتے دکھایا گیا۔
Trump just posted this AI video of himself replacing the Lake Ontario sign with a “Lake America” sign.
I’ll never understand how 77 million people voted for this buffoon. pic.twitter.com/HSUpqMa0oP
— Republicans against Trump (@RpsAgainstTrump) August 29, 2026
ڈگ فورڈ نے کہا کہ ٹرمپ نے جھیل کا نام اس لیے تبدیل کیا کیونکہ انہیں اونٹاریو اور کینیڈا کا اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا پسند نہیں آیا۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی بھی پہلے واضح کرچکے ہیں کہ چیزوں کو ان کے اصل نام سے پکارا جانا چاہیے اور اس جھیل کا نام ’جھیل اونٹاریو‘ ہے، آج بھی اور ہمیشہ۔
جھیل اونٹاریو کینیڈا کے صوبے اونٹاریو اور امریکی ریاست نیویارک کے درمیان واقع ہے۔ امریکی حکم نامہ امریکی محکمہ داخلہ کو 30 دن میں سرکاری جغرافیائی ریکارڈ میں نام تبدیل کرنے کی ہدایت کرتا ہے، تاہم کینیڈا امریکی فیصلے کا پابند نہیں۔












