’امام الحق نے پوری دنیا کے سامنے مذاق بناکر رکھ دیا‘، اوپنر بلے باز کی مشکوک انجری پر شائقین برہم

پیر 31 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لندن کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی بدترین شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹیسٹ اوپنر امام الحق کو دستیاب پہلی پرواز کے ذریعے وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ان کی پنڈلی کی انجری کی باقاعدہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات بھی کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امام الحق نے لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز پنڈلی میں تکلیف کی شکایت کی تھی جس کے باعث وہ پاکستان کی پہلی اننگز کے بعد دوسری اننگز میں بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں اتر سکے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر امام الحق کی انجری کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ انہیں کوئی انجری نہیں تھی اور اس حوالے سے غلط بیانی کی گئی جبکہ اس معاملے پر سوشل میڈیا پر مختلف آرا اور تبصرے بھی دیکھنے میں آئے۔

راجہ محمد حسیب لکھتے ہیں کہ امام الحق کو آئندہ پاکستان کی جانب سے ایک بھی میچ کھیلنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

باسط سبحانی نے لکھا کہ بلے باز ٹوٹے ہوئے بازو، انگلیوں کے فریکچر اور اکھڑے ہوئے کندھوں کے ساتھ بھی میدان میں اترتے رہے ہیں۔ انھوں نے تکلیف برداشت کرتے ہوئے بیٹنگ کی کیونکہ بعض اوقات ٹیم کو واقعی آپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کرس ووکس اوول میں انگلینڈ کے لیے اکھڑے ہوئے کندھے، ایک بازو کے سِلنگ میں ہونے اور اس کے تقریباً ناکارہ ہونے کے باوجود بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے تھے۔

ماریہ راجپوت نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اگر انجری واقعی سنگین تھی اور فزیو نے بیٹنگ کرنے سے منع کیا تھا تو پھر اس سارے ڈرامے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اسٹورٹ براڈ نے جو کچھ بھی کہا میں ان کی ایک ایک بات سے مکمل اتفاق کرتی ہوں۔

عمر قریشی نے امام الحق پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ان حرکات نے پاکستان کرکٹ کو پوری دنیا کے سامنے مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کھلاڑی کو اس طرح ذلت کا سامنا کرتے نہیں دیکھا، وہ بھی پوری دنیا کے سامنے براہِ راست۔

کچھ سابق کرکٹرز کی جانب سے بھی امام الحق کی انجری پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسے مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر پی سی بی نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے لارڈز ٹیسٹ کے دوران امام الحق کو پیش آنے والی پنڈلی کی تکلیف کا مکمل طبی جائزہ لینے اور انجری سے متعلق تمام پہلوؤں کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہیڈنگلے کی شکست سے قومی ٹیم نے کیا سیکھا اور اگلے میچ کے لیے کیا عزم کیا؟ امام الحق نے پلاننگ بتادی

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ امام الحق کی انجری کی نوعیت کیا تھی اور آیا انہیں ٹیسٹ میچ کے دوران واقعی ایسی تکلیف کا سامنا تھا جس کے باعث وہ دوسری اننگز میں بیٹنگ نہیں کرسکے۔

واضح رہے کہ امام الحق کی انجری سے متعلق معاملات پر ماضی میں بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے بعض حکام کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp