قندھار میں طالبان انٹیلی جنس کے نائب سربراہ ملّا تاج میر جواد ہلاک

پیر 31 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے 30 اگست 2026 کو قندھار کے آئنو مینا اسکوائر کے قریب ایک منصوبہ بند کارروائی کے دوران طالبان انٹیلی جنس کے فرسٹ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ملا تاج میر جواد کو ہلاک کردیا۔

نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ کے مطابق ملا تاج میر جواد قندھار صوبے میں طالبان انٹیلی جنس کے اہم عہدیدار تھے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کارروائی طالبان کے روایتی مضبوط گڑھ قندھار میں کی گئی، جو طالبان کے سیاسی اور انتظامی اثر و رسوخ کا بھی اہم مرکز ہے۔

فرنٹ نے دعویٰ کیا کہ اعلیٰ سطح کے انٹیلی جنس عہدیدار کی قندھار میں ہلاکت طالبان کے سیکیورٹی ڈھانچے کی کمزوریوں کو ظاہر کرتی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ کارروائی ان طالبان عہدیداروں اور کمانڈروں کے لیے بھی پیغام ہے جو افغان عوام کے خلاف مبینہ جبر، تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔

یہ بھی پڑھیے طالبان حکومت کے اندر ’موقع پرست عناصر‘ موجود ہیں، نائب سربراہ انٹیلیجنس کا اعتراف

نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے کہا ہے کہ یہ پیشرفت افغانستان بھر میں طالبان حکومت کے خلاف جاری مزاحمتی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جہاں مزاحمتی گروہوں کی جانب سے طالبان کے سیکیورٹی ڈھانچے سے وابستہ شخصیات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

تنظیم کے مطابق مزاحمت کا دائرہ اب دور دراز علاقوں سے نکل کر طالبان کے اہم مراکز اور اعلیٰ عہدیداروں تک پہنچ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے افغانستان کے ضلع نوسے میں لڑائی پانچویں روز بھی جاری، مواصلاتی نظام مکمل بند

فرنٹ نے طالبان حکومت کی جانب سے اقتدار پر اجارہ داری ختم کرکے ایک جامع، نمائندہ اور جواب دہ سیاسی نظام کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ تاہم ملا تاج میر جواد کی ہلاکت سے متعلق نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ کا یہ دعویٰ آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق طلب ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp