استنبول میں اعلیٰ سطحی اجلاس: پاکستان اور ترکیہ کا علاقائی دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

پیر 31 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور ترکیہ نے خطے میں مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیشرفت وزیر دفاع خواجہ آصف اور ان کے ترک ہم منصب کے درمیان استنبول میں ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی، جو کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے تاریخی ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ‘ کے تحت قائم کردہ ‘اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی’ کے افتتاحی اجلاس سے قبل ہوئی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے استنبول میں اپنے ترک ہم منصب یاشار گولر سے اہم ملاقات کی، جس میں علاقائی اور باہمی دفاعی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوک بائرکتار اوغلو بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان ترکیہ بحری تعاون اور عالمی سمندری راستوں میں تبدیلی سے پاکستان کی معیشت کو کتنا فائدہ پہنچے گا؟

یہ ملاقات تینوں برادر ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست کو مقدس شہر مکہ مکرمہ میں دستخط کیے جانے والے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ‘ کے تحت قائم ’اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی‘ کے پہلے باقاعدہ اجلاس سے قبل ہوئی۔ اس کمیٹی کا یہ تاریخی پہلا اجلاس دفاعی اور سفارتی تعاون کی عملی شکل فراہم کرنے کے لیے استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔

اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری قیادت شرکت کر رہی ہے۔ ترک وزارت خارجہ کے مطابق ترکیہ کی نمائندگی وزیر خارجہ حاقان فیدان، وزیر دفاع یاشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوک بائرکتار اوغلو کر رہے ہیں۔

دفتر خارجہ اسلام آباد کے جاری کردہ بیان کے مطابق، پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اہم سرکاری دورے پر استنبول پہنچ چکے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس اہم اجلاس میں پاکستان کی شرکت ترکیہ اور سعودی عرب جیسے برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تاریخی اور دیرینہ دوستانہ تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے، اور یہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کی خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان اور ترکیہ کا  خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

واضح رہے کہ استنبول کا یہ اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پر عملدرآمد کی سمت میں پہلا مضبوط ادارہ جاتی قدم ہے۔

اس معاہدے کے تحت طے پایا ہے کہ تینوں میں سے کسی بھی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس کا بنیادی مقصد نیٹو (NATO) کے آرٹیکل 5 کی طرز پر اجتماعی دفاعی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ تینوں ممالک نے اس نظام کو خالصتاً دفاعی اور اجتماعی طاقت کو مضبوط کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے جس کا مقصد کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp