عالمی سطح پر بحری راستوں کی تبدیلی اور علاقائی تناؤ کے درمیان پاکستان کے لیے ایک بڑی معاشی اور اسٹریٹجک کامیابی سامنے آئی ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ نے اپنی 138 سالہ تاریخ میں سالانہ کارگو ہینڈلنگ (مال برداری) کا سب سے بڑا حجم ریکارڈ کرکے ایک نیا سنگِ میل عبور کرلیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان اور ترکیہ نے تجارتی روابط کو مزید مضبوط کرنے کے لیے بحری اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی پورٹ ٹرسٹ نے 138 سالہ تاریخ میں کارگو ہینڈلنگ کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا
مال برداری اور کنٹینر ٹریفک میں ریکارڈ اضافہ
کے پی ٹی حکام کے مطابق پورٹ پر کارگو کی نقل و حرکت میں یہ تاریخی اضافہ بالخصوص کنٹینر ٹریفک کی ریکارڈ آمدورفت کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی بحری گزرگاہوں بالخصوص آبنائے ہرمز اور اس کے قریبی علاقوں میں پیدا ہونے والے حالیہ تعطل اور سیکیورٹی چیلنجز کے باعث عالمی شپنگ لائنز نے اپنے روٹس تبدیل کیے ہیں۔ اس صورتحال میں کراچی پورٹ متبادل اور محفوظ ترین تجارتی راستے کے طور پر ابھرا ہے، جس نے خطے میں اس کی تزویراتی اہمیت کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
آپریشنل کارکردگی اور جدید انفراسٹرکچر
وزارتِ بحری امور کے مطابق یہ کامیابی محض اتفاقیہ نہیں بلکہ گزشتہ چند برسوں میں پورٹ کے انفراسٹرکچر میں کی جانے والی انقلابی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ پورٹ پر کارگو لوڈنگ اور ان لوڈنگ کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے۔
’گہرے سمندری جہازوں کو سنبھالنے کی صلاحیت کو بڑھایا گیا ہے۔ آپریشنل کارکردگی میں بہتری کی وجہ سے جہازوں کے انتظار کا وقت اب تک کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے، جس سے عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔‘
پاک ترکیہ بحری و ٹرانسپورٹ تعاون: استنبول میں اہم ملاقات
اسٹریٹجک محاذ پر پاکستان کی ان کوششوں کو مزید تقویت دینے کے لیے وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے استنبول میں ترکیہ کے وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر اورال اوغلو سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان بحری اور ٹرانسپورٹ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک بحری انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔ ملاقات کے دوران ٹرانسپورٹ شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
جنید انوار چوہدری نے زور دیا کہ جدید ٹرانسپورٹ نظام کے فروغ کے لیے دونوں برادر ممالک کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
ترکیہ کے وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر اورال اوغلو نے پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بحری تعاون سے دوطرفہ تجارت اور علاقائی روابط کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے تجارتی تعلقات کی بہتری کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
معاشی ماہر سلمان نقوی کا کہنا ہے کہ پاک ترک شراکت داری کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ سمجھا جائے تو غلط نہیں ہوگا، کراچی پورٹ کی کارکردگی میں یہ ریکارڈ اضافہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور پورٹ ریونیو میں اربوں روپے کے اضافے کا باعث بنے گا۔
انہوں نے کہاکہ کہ عالمی شپنگ روٹس میں تبدیلی نے پاکستان کو ایک منفرد موقع فراہم کیا ہے۔ اگر ہم نے کراچی پورٹ کے ساتھ ساتھ گوادر اور بن قاسم پورٹس کے نیٹ ورک کو مزید مربوط کر لیا، اور ترکیہ جیسے اہم شراکت داروں کے ساتھ لاجسٹکس روابط بڑھائے، تو پاکستان حقیقی معنوں میں وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا لاجسٹکس ہب بن سکتا ہے۔
معاشی ماہر منور مرزا کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی سنگ میل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب علاقائی تناؤ اور جیو پولیٹیکل تبدیلیاں سمندری تجارت کے روایتی نقشے کو بدل رہی ہیں۔
کے پی ٹی کے تازہ ترین اعدادوشمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ کراچی پورٹ نہ صرف پاکستان کی اپنی تجارت کو سنبھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، بلکہ یہ جنوبی ایشیا کی لینڈ لاکڈ ریاستوں اور بین الاقوامی مارکیٹوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے سب سے موزوں اور قابلِ اعتماد بحری گزرگاہ بن چکا ہے۔
وزارت بحری امور کے مطابق آنے والے مہینوں میں پورٹ کی صلاحیت کو مزید بڑھانے اور اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید ترین بنانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نئے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز بھی متوقع ہے۔











