قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں (NCSW) کی چیئرپرسن محترمہ نورین بانو لہڑی کی زیرِ صدارت ملک بھر میں خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد، جنسی زیادتی، قتل، ہراسانی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے بڑھتے واقعات کا جائزہ لینے کے لیے تمام صوبوں کے اعلیٰ پولیس حکام کا اہم اجلاس ہوا۔
چیئرپرسن نے حنا جاوید، آیت نور، اسما جتک اور سندھ میں حالیہ دلخراش واقعات کے متاثرین، جن میں کُلثوم محمد قاسم اور ایزل کے مقدمات بھی شامل ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف بڑھتے جرائم ریاستی اداروں سے فوری اور سنجیدہ اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین اور بچیوں کا تحفظ ریاست کی ناقابلِ سمجھوتہ ذمہ داری ہے اور انصاف میں تاخیر کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔
سندھ میں حالیہ واقعات، جن میں 10 سالہ سیلاب متاثرہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ بھی شامل ہے، پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیشن نے ہدایت کی کہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کو فوری تحفظ، قانونی معاونت اور نفسیاتی و طبی سہولیات فراہم کی جائیں، جبکہ مقدمات کو مکمل شفافیت کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
یہ بھی پڑھیے بلوچستان میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ، انسداد کیسے ممکن ہے؟
چیئرپرسن نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد اور زیادتی کے تمام مقدمات کی خصوصی نگرانی، تیز رفتار تفتیش اور مؤثر پراسیکیوشن یقینی بنائی جائے۔ صنفی بنیاد پر تشدد (GBV) کے مقدمات کے تفتیشی افسران کو خصوصی تربیت دی جائے اور اہم تفتیش کے دوران انہیں غیر ضروری طور پر تبدیل یا اضافی ذمہ داریوں پر تعینات نہ کیا جائے۔
قومی کمیشن نے GBV مقدمات کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام اور موجودہ خصوصی عدالتی نظام کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا تاکہ متاثرین کو بروقت انصاف فراہم کیا جا سکے۔
کمیشن نے مدارس، اسکولوں، کالجوں، جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں میں خواتین اور بچیوں کے خلاف ہراسانی اور تشدد کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی اور آگاہی پروگرامز منعقد کرنے کی ہدایت کی۔ طلبہ، خصوصاً لڑکوں اور نوجوان مردوں کی تربیت اور کردار سازی پر زور دیا گیا تاکہ وہ خواتین کے محافظ، معاون اور ذمہ دار شہری بنیں، نہ کہ ہراسانی یا تشدد کا سبب۔
اجلاس میں پولیس، ڈاکٹرز، عدالتی افسران، پراسیکیوٹرز اور جیل عملے کی صنفی حساسیت اور استعدادِ کار بڑھانے کے لیے خصوصی تربیت پر بھی زور دیا گیا۔
قومی کمیشن نے غیر قانونی جرگوں کے خلاف سخت کارروائی اور ایسے غیر قانونی طریقہ کار کی روک تھام کا مطالبہ کیا جو خواتین کے بنیادی حقوق، قانونی تحفظ اور انصاف تک رسائی کو متاثر کرتے ہیں۔
خواتین قیدیوں کے حوالے سے کمیشن نے ہدایت کی کہ جیلوں میں محنت اور ہنرمندی کا کام کرنے والی خواتین کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ دیا جائے اور انہیں مرد قیدیوں سے کم اجرت نہ دی جائے۔ خواتین قیدیوں کو تعلیم، فنی تربیت، ہنرمندی، مالیاتی آگاہی اور بحالی کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ رہائی کے بعد وہ باعزت، خودمختار اور معاشرے میں مؤثر طور پر دوبارہ شامل ہونے کے قابل ہوں۔
کمیشن نے فیصلہ کیا کہ GBV مقدمات کا کیس ٹو کیس ڈیٹا ماہانہ بنیادوں پر تمام انسپکٹر جنرلز پولیس کے ساتھ شیئر اور مانیٹر کیا جائے گا۔ ہر صوبے سے مقدمات کی پیش رفت، تفتیشی رکاوٹوں، پراسیکیوشن، استعدادِ کار اور روک تھام کے اقدامات کی تفصیلات بھی حاصل کی جائیں گی۔
قومی کمیشن کے شکایتی نظام (Complaint Management System) کو پولیس قیادت کے ساتھ مؤثر طور پر منسلک اور فعال بنانے کی ہدایت بھی کی گئی تاکہ خواتین اور بچیوں کی شکایات پر فوری کارروائی ممکن ہو۔ تمام آئی جیز پولیس کو محکمہ ہائے ترقیِ نسواں اور صوبائی کمیشن برائے وقارِ نسواں کے ساتھ براہِ راست اور مؤثر رابطہ کاری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے خواتین پر تشدد کے بڑھتے واقعات، پارلیمانی کاکس اور ’این سی ایس ڈبلیو‘ کا سخت مؤقف، فوری تحقیقات کا مطالبہ
اجلاس میں ایس ایس پی انویسٹی گیشنز پنجاب خرم شہزاد، ڈی آئی جی کرائمز خیبر پختونخوا محمد حسین، ایس ایس پی قمر رضوی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی آپریشنز بلوچستان شہزاد اکبر سمیت وفاقی اداروں کے متعلقہ سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔
چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں محترمہ نورین بانو لہڑی نے واضح کیا کہ حنا جاوید، آیت نور، اسما جتک، کُلثوم محمد قاسم، ایزل اور دیگر متاثرہ خواتین و بچیوں کے مقدمات محض اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی زندگیاں اور خاندانوں کے ناقابلِ تلافی دکھ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غفلت، کمزور تفتیش، غیر ضروری تاخیر اور مجرموں کو قانون کی گرفت سے بچنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کو مربوط، قابلِ پیمائش اور نتیجہ خیز اقدامات کے ذریعے خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے واقعات کو روکنا ہوگا۔













