خواتین پارلیمانی کاکس کے ارکان نے چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن نورین بانو لہڑی سے ملاقات کی، جس میں پاکستان بھر، بالخصوص گزشتہ 10 روز کے دوران راولپنڈی اور اسلام آباد میں خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ملاقات میں حنا جاوید کے افسوسناک قتل کے واقعے پر خصوصی طور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد : خواتین کا اغوا روکنے پر فائرنگ، ڈاکٹر سمیت متعدد افراد پر تشدد
چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقار نسواں، خواتین پارلیمانی کاکس کی ممبران اور چیئر ایم این اے شاہدہ رحمانی نے اس واقعے پر سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ حنا جاوید کیس سمیت راولپنڈی، اسلام آباد، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں خواتین کے خلاف حالیہ جرائم کی فوری، شفاف، غیرجانبدارانہ اور مکمل تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔
ملاقات میں مطالبہ کیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر ممکن تعاون اور وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ دار عناصر کو مثالی سزا دلائی جا سکے۔
خواتین پارلیمانی کاکس نے عزم ظاہر کیا کہ حنا جاوید کیس اور خواتین کے خلاف حالیہ تشدد کے دیگر واقعات کو پارلیمان کے ایوانوں میں بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔ حکومت اور متعلقہ اداروں سے جوابدہی کے ساتھ ساتھ مؤثر قانونی کارروائی اور خواتین کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔
ملاقات میں این سی ایس ڈبلیو کے Complaint Management System (CMS) کو مزید مؤثر، قابلِ رسائی اور ملک گیر سطح پر مضبوط بنانے، خواتین کو فوری شکایتی، قانونی اور حفاظتی معاونت فراہم کرنے اور کمیشن کی ادارہ جاتی و تکنیکی استعدادِ کار بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
پارلیمانی کاکس کے ارکان نے NCSW کی استعدادِ کار اور ادارہ جاتی استحکام کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
خواتین پارلیمنٹیرینز کو این سی ایس ڈبلیو کے 2026 سے 2029 تک اسٹریٹجک پلان کے اہم اہداف اور ترجیحات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ پارلیمانی کاکس کے ارکان نے یقین دلایا کہ خواتین کے حقوق، تحفظ، انصاف اور بااختیار بنانے سے متعلق پالیسیوں کے مؤثر نفاذ کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے فورمز سے ہر ممکن سیاسی و پارلیمانی تعاون جاری رکھا جائے گا۔
رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی نے چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو نورین بانو لہڑی کی خواتین کے حقوق کے تحفظ، فوری انصاف اور تشدد کا شکار خواتین کے لیے مؤثر اقدامات کے حوالے سے جاری انتھک کاوشوں کو سراہا۔
شاہدہ رحمانی نے کہاکہ وہ اور خواتین پارلیمانی کاکس کی ارکان پاکستان کی خواتین کو مضبوط، محفوظ اور بااختیار بنانے کی ان کوششوں کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گی۔
ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ خواتین کو تشدد، امتیازی رویوں، پدرانہ سوچ، ناانصافی اور دیگر غیر انسانی حالات سے تحفظ فراہم کرنا ریاست، پارلیمان اور تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
خصوصاً جیلوں میں موجود خواتین اور زندگی کے مختلف شعبوں میں ناانصافی کا سامنا کرنے والی خواتین کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر نگرانی، قانونی معاونت اور فوری انصاف کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقار نسواں نورین بانو لہڑی نے واضح کیا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے کسی بھی واقعے پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔
مزید پڑھیں: ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: بلوچستان میں خواتین کے خلاف تشدد کی صورتحال سنگین، اعدادوشمار کیا بتاتے ہیں؟
انہوں نے کہاکہ این سی ایس ڈبلیو ہر متاثرہ خاتون کے ساتھ کھڑا ہے اور خواتین کے تحفظ، انصاف اور وقار کے لیے متعلقہ اداروں، پارلیمان اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔
ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے ہر واقعے کی مؤثر تحقیقات، مجرموں کا احتساب، متاثرہ خواتین کو انصاف اور تحفظ کی فراہمی اور ایک محفوظ و باوقار پاکستان کی تشکیل کے لیے مشترکہ کوششیں مزید تیز کی جائیں گی۔













