انسان کی اوسط عمر میں گزشتہ چند صدیوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے اور عالمی ادارے صحت کے مطابق سنہ 2000 سے سنہ 2050 کے درمیان دنیا بھر میں 60 سال سے زائد عمر کے افراد کا تناسب 11 فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد ہو جائے گا۔ اس تبدیلی کے ساتھ ہی عمر رسیدہ افراد اور بڑھاپے کے عمل کے بارے میں مختلف قسم کی غلط فہمیاں بھی عام ہو چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بڑھاپے میں یادداشت کی کمی کی بڑی وجہ کیا ہے، تدارک کیسے ممکن؟
عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی کمزوری، یادداشت کی کمی، نیند میں خلل یا جنسی صلاحیت میں کمی کو اکثر لوگ زندگی کا لازمی حصہ سمجھ لیتے ہیں لیکن طبی تحقیق ان میں سے کئی تصورات کو غلط قرار دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بڑھتی عمر کا مطلب لازماً بیماری، کمزوری یا غیر فعال زندگی نہیں بلکہ مناسب ورزش، متوازن غذا، بہتر نیند اور صحت مند طرزِ زندگی کے ذریعے عمر کے بہت سے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔
گزشتہ 200 برسوں کے دوران بھی پیدائش کے وقت اوسط عمر میں مزید دو گنا اضافہ ہوا ہے جس کے باعث انسان لمبی عمر پانے والے جانوروں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے سنہ 2000 سے سنہ 2050 کے درمیان دنیا کی آبادی میں 60 سال سے زائد عمر کے افراد کا تناسب تقریباً 11 فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد ہوجائے گا۔
دنیا میں عمر رسیدگی سے متعلق بہت سی ایسی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جن کے باعث لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی کمزوری، ذہنی زوال اور دیگر مسائل لازماً پیدا ہوں گے۔
مزید پڑھیے: کیا بڑھاپا دوبارہ جوانی میں بدلا جا سکتا ہے؟ ہارورڈ سائنسدان نے انقلابی پیش رفت کی پیش گوئی کردی
تاہم طبی تحقیق ان میں سے کئی تصورات کو درست ثابت نہیں کرتی۔ ماہرین کے مطابق باقاعدہ ورزش، متوازن غذا، سماجی سرگرمیوں اور مثبت سوچ سمیت کئی عوامل صحت مند عمر رسیدگی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
یہاں عمر بڑھنے سے متعلق سات عام غلط فہمیوں اور ان کے بارے میں دستیاب شواہد کا جائزہ لیا گیا ہے۔
1۔ جسمانی کمزوری ناگزیر ہے
یہ بات درست ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کئی دہائیوں کے استعمال کے باعث کچھ حد تک متاثر ہوتا ہے لیکن جسمانی کمزوری کا شدید یا مکمل ہوجانا لازمی نہیں۔
تحقیق سے بارہا یہ بات سامنے آئی ہے کہ باقاعدہ ورزش اور صحت بخش غذا عمر کے ساتھ پیدا ہونے والے جسمانی مسائل سے بچاؤ یا انہیں کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے اور انسان زیادہ عرصے تک صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔
بعض تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ اگر کوئی شخص پہلے ہی یہ توقع رکھتا ہو کہ عمر بڑھنے کے ساتھ اس کی جسمانی حالت لازماً خراب ہوگی تو اس کے جسمانی طور پر کمزور ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
ایک تحقیق میں 148 عمر رسیدہ افراد سے عمر بڑھنے، طرزِ زندگی اور اپنی صحت کے بارے میں توقعات سے متعلق سوالات کیے گئے۔ محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ عمر کے بارے میں افراد کے تصورات اس بات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں کہ وہ کس حد تک جسمانی سرگرمیوں کو اپناتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کی صحت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
سال 2024 میں شائع ہونے والے ایک جائزے میں 12 مطالعات اور مجموعی طور پر 3,664 افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔
محققین کے مطابق جو عمر رسیدہ افراد عمر بڑھنے کے بارے میں منفی توقعات رکھتے تھے ان میں ڈپریشن، یادداشت کی کمزوری اور پیشاب روکنے میں دشواری جیسے عمر سے وابستہ مسائل کے لیے طبی مدد لینے کی اہمیت کو کم سمجھنے کا امکان زیادہ تھا۔
مزید پڑھیں: سائنسدانوں کی اہم پیشرفت، بڑھاپا ماضی کا قصہ بننے کے قریب
چین میں عمر رسیدہ افراد پر کی جانے والی ایک اور تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ عمر کے بارے میں زیادہ مثبت ذاتی تصور موت کے کم خطرے سے وابستہ تھا، جس میں صحت مند طرزِ زندگی اور سماجی سرگرمیاں بھی کردار ادا کرتی دکھائی دیں۔
یعنی متحرک رہنا، صحت بخش غذا کھانا، سماجی زندگی برقرار رکھنا اور عمر کے بارے میں مثبت سوچ رکھنا بڑھتی عمر کے جسمانی اثرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
2۔ عمر رسیدہ افراد کو ورزش سے گریز کرنا چاہیے
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک خاص عمر کے بعد ورزش کا کوئی فائدہ نہیں رہتا لیکن شواہد اس تصور کی تائید نہیں کرتے۔
حالیہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر بڑھنے کے باوجود جسمانی طور پر متحرک رہنا دل اور جسم کی مجموعی صحت کے ساتھ ساتھ دماغی صحت کو بھی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ایک تحقیق میں 451 عمر رسیدہ افراد کو 3 گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلے گروپ نے ایک سال تک زیادہ شدت کی مزاحمتی ورزش کی اور دوسرے گروپ نے اسی مدت تک درمیانی شدت کی ورزش کی جبکہ تیسرے گروپ نے کوئی ورزش نہیں کی۔
محققین نے پایا کہ ایک سال تک زیادہ شدت کی مزاحمتی ورزش کرنے والے افراد چار سال بعد بھی دوسرے گروپوں کے مقابلے میں اپنے پٹھوں کی طاقت بہتر طور پر برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
باقاعدہ ورزش کے بارے میں یہ شواہد بھی موجود ہیں کہ یہ الزائمر کی بیماری اور ڈیمنشیا کی دیگر اقسام کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا نوعمری 32 سال تک جاری رہتی ہے؟ نئی تحقیق نے دماغ کی 5 اہم ارتقائی منزلیں بیان کر دیں
ایک حالیہ مطالعے میں معمولی ذہنی کمزوری کا سامنا کرنے والے ایسے عمر رسیدہ افراد کا جائزہ لیا گیا جو زیادہ تر غیر متحرک تھے۔ تحقیق میں کم شدت اور درمیانی سے زیادہ شدت کی ورزش، دونوں کو 12 ماہ کے دوران دماغ کے حجم میں کم کمی سے منسلک پایا گیا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو کوئی طبی بیماری لاحق ہو تو نئی ورزش شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
مثلاً برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق ہڈیوں کے فریکچر کے زیادہ خطرے یا ہڈیوں کی کمزوری کے باعث ریڑھ کی ہڈی کے فریکچر کا سامنا کرنے والے افراد کو بعض زیادہ اثر والی ورزشوں سے گریز کرنا چاہیے۔
جنوری 2025 میں شائع ہونے والے صحت مند اور طویل عمر کے لیے ورزش سے متعلق عالمی اتفاقِ رائے میں بھی صحت مند اور طویل زندگی کے خواہش مند افراد کے لیے کسی نہ کسی شکل میں ورزش کی سفارش کی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: بڑھتی عمر کا چہرہ قبول کرنا مشکل کیوں، اس کو جاذب نظر کیسے بنایا جائے؟
اس کے مطابق ہفتے میں مجموعی طور پر 75 منٹ تک تیز چہل قدمی بھی بالکل غیر فعال رہنے کے مقابلے میں متوقع عمر میں تقریباً 1.8 سال کا اضافہ کرسکتی ہے۔
3۔ عمر رسیدہ افراد کو کم یا زیادہ نیند کی ضرورت ہوتی ہے
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عمر رسیدہ افراد کو نوجوانوں کے مقابلے میں زیادہ نیند چاہیے، جبکہ بعض کے نزدیک عمر بڑھنے کے ساتھ نیند کی ضرورت کم ہوجاتی ہے۔
حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔
عمر رسیدہ افراد کو عموماً سونے میں زیادہ دشواری ہوتی ہے اور ان کی نیند زیادہ مرتبہ ٹوٹ سکتی ہے۔ اس کی ایک وجہ عمر کے ساتھ جسم میں آنے والی تبدیلیاں ہیں جو جسم کی حیاتیاتی گھڑی یا روزمرہ کے قدرتی اوقات کو متاثر کرسکتی ہیں۔
اس کے علاوہ عمر رسیدہ افراد میں عام ہونے والی بعض بیماریاں، مثلاً جوڑوں کی تکلیف اور ہڈیوں کی کمزوری، سونے یا مسلسل سوئے رہنے میں دشواری پیدا کرسکتی ہیں۔
پھیپھڑوں کی دائمی بیماری اور دل کی کمزوری جیسی کیفیات بھی سانس لینے میں دشواری پیدا کرکے نیند کو متاثر کرسکتی ہیں۔
بعض ادویات جن میں کچھ بلڈ پریشر کی دوائیں، سانس کھولنے والی ادویات، سوزش کم کرنے والی ادویات، بعض نزلہ زکام کی ادویات اور پیشاب آور ادویات شامل ہیں بھی نیند میں خلل ڈال سکتی ہیں۔ عمر رسیدہ افراد میں ایسی ادویات کے استعمال کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور بعض افراد بیک وقت ایک سے زیادہ ادویات استعمال کرتے ہیں۔
امریکی مراکز برائے بیماریوں کی روک تھام اور تدارک کے مطابق 61 سے 64 سال کی عمر کے افراد کو رات میں 7 سے 9 گھنٹے جبکہ 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کو 7 سے 8 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: پھیپھڑے صحت کا راز کھولتے ہیں، ان کی کاردکردگی خود کیسے چیک کی جائے؟
یعنی مسئلہ یہ نہیں کہ عمر رسیدہ افراد کو لازماً کم یا زیادہ نیند چاہیے، بلکہ ان کے لیے مطلوبہ نیند حاصل کرنا بعض اوقات زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر رسیدہ افراد نوجوانوں کے مقابلے میں نیند کی کمی کو کچھ بہتر طور پر برداشت کرسکتے ہیں۔
4۔ صرف خواتین کو ہڈیوں کی کمزوری ہوتی ہے
ہڈیوں کی کمزوری یا آسٹیوپوروسس کے بارے میں ایک عام تصور یہ ہے کہ یہ صرف خواتین کو متاثر کرتی ہے، جو درست نہیں۔
یہ بیماری کسی بھی جنس اور کسی بھی عمر کے فرد کو متاثر کرسکتی ہے اگرچہ عمر رسیدہ افراد اور خواتین میں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
بین الاقوامی ادارہ آسٹیوپوروسس کے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں 50 سال سے زائد عمر کی تقریباً ہر 3 میں سے ایک خاتون آسٹیوپوروسس کا شکار ہوتی ہے جبکہ تقریباً ہر 5 میں سے ایک مرد کو زندگی میں آسٹیوپوروسس سے متعلق ہڈی کے فریکچر کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اس سے جڑی ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ خواتین میں آسٹیوپوروسس لازماً ہوجاتا ہے لیکن اعداد و شمار اس کی بھی تائید نہیں کرتے۔ 50 سال سے زائد عمر کی تقریباً 2 تہائی خواتین کو یہ بیماری نہیں ہوتی۔
خطرہ کم کرنے کے لیے ماہرین کیلشیم اور وٹامن ڈی سے بھرپور غذا کھانے اور باقاعدگی سے ورزش کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
5۔ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ لازماً سست ہوجاتا ہے
عمر بڑھنے کے ساتھ ذہنی صلاحیتوں میں بتدریج کمی کو ’ذہنی زوال‘ کہا جاتا ہے لیکن اس سے متعلق بھی کئی غلط تصورات پائے جاتے ہیں۔
کیا عمر بڑھنے کے ساتھ ڈیمنشیا لازماً ہوجاتا ہے؟
عالمی ادارہ صحت کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ ڈیمنشیا کا خطرہ ضرور بڑھتا ہے، لیکن یہ ہر عمر رسیدہ فرد کو متاثر نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیے: نیند کی کمی دماغ کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے، تحقیق میں انکشاف
سنہ 2021 کے دستیاب عالمی اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ افراد ڈیمنشیا کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔
امریکا میں 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد پر سنہ 2022 میں کی جانے والی ایک نمائندہ تحقیق کے مطابق تقریباً 10 فیصد افراد ڈیمنشیا کا شکار تھے جس کا مطلب ہے کہ تقریباً 90 فیصد افراد اس بیماری سے محفوظ تھے۔
کیا ذہنی صلاحیت میں کمی کا مطلب ڈیمنشیا ہے؟
یہ ضروری نہیں کہ ذہنی صلاحیت میں کمی کا مطلب ڈیمنشیا ہے۔ جو افراد بعد میں ڈیمنشیا کا شکار ہوتے ہیں ان میں عموماً پہلے ذہنی صلاحیتوں میں کمی کے آثار ظاہر ہوسکتے ہیں لیکن ہر وہ شخص جس میں ذہنی صلاحیت میں کچھ کمی آئے لازماً ڈیمنشیا کا شکار نہیں ہوتا۔
اسی امریکی تحقیق میں 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تقریباً 22 فیصد افراد میں معمولی ذہنی کمزوری پائی گئی۔
کیا ذہنی زوال عمر کے ساتھ ناگزیر ہے؟
یہ بھی درست نہیں ذہنی زوال عمر کے ساتھ ناگزیر ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ذہنی صلاحیتوں میں کمی کو روکنے یا اس کے خطرے کو کم کرنے کے لیے بعض اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
2024 میں لینسٹ کمیشن کی ایک رپورٹ میں ڈیمنشیا اور ذہنی کمزوری کے 14 ایسے خطرے کے عوامل کی نشاندہی کی گئی جنہیں تبدیل یا بہتر کیا جاسکتا ہے۔
ان میں تعلیم کی سطح، سر پر چوٹ، جسمانی سرگرمی کی مقدار، تمباکو نوشی، شراب نوشی، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، موٹاپا، ذیابیطس، سماعت اور بینائی کی کمزوری، ڈپریشن، سماجی رابطوں کی سطح اور فضائی آلودگی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان عوامل کے اثرات کو کم کرنے یا ان سے نمٹنے کے اقدامات ذہنی صلاحیت میں کمی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
6۔ اب سگریٹ نوشی چھوڑنے کا کوئی فائدہ نہیں
بعض عمر رسیدہ افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی عمر میں سگریٹ نوشی چھوڑنے کا کوئی فائدہ نہیں لیکن یہ تصور بھی درست نہیں۔
برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق سگریٹ نوشی چھوڑتے ہی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور سگریٹ نوشی ترک کرنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی۔
یعنی عمر چاہے کتنی بھی ہو سگریٹ نوشی چھوڑنے سے صحت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
7۔ عمر بڑھنے کے ساتھ جنسی تعلق تقریباً نایاب یا ناممکن ہوجاتا ہے
یہ بھی ایک عام غلط فہمی ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ لوگ جنسی تعلق سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں یا جنسی اعضا اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عمر کے ساتھ مردوں میں ایستادگی کی کمزوری اور خواتین میں ایک مخصوص جگہ خشکی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے لیکن یہ مسائل عموماً ناقابل علاج نہیں ہوتے۔
بعض افراد میں سلڈینافل جسے ویاگرا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور خواتین میں چکناہٹ پیدا کرنے والی مصنوعات یا ہارمونی کریمیں مددگار ہوسکتی ہیں۔ تاہم ویاگرا سمیت کسی بھی دوا کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے کیونکہ یہ ہر شخص کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔
سنہ 2017 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق 18 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً 0.4 فیصد مردوں کو ایستادگی کی کمزوری کا سامنا تھا جبکہ 60 سے 69 سال کی عمر میں یہ شرح تقریباً 11.5 فیصد تھی۔
تاہم اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ 60 کی دہائی میں تقریباً 10 میں سے 9 مردوں کو یہ مسئلہ درپیش نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: دماغ کی صلاحیت بلند ترین سطح پر کب پہنچتی ہے، اس کی عمر کے 5 مراحل کونسے؟
عمر بڑھنے کے ساتھ جنسی تعلق کی رفتار یا انداز تبدیل ہوسکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صحت مند جنسی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔
برطانیہ میں سال 2016 میں 50 سال یا اس سے زائد عمر کے 6,000 سے زیادہ افراد پر کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق 60 سے 69 سال کی عمر کے 86 فیصد مرد اور 60 فیصد خواتین نے بتایا کہ وہ اب بھی جنسی طور پر فعال ہیں۔
70 سے 79 سال کی عمر میں یہ شرح مردوں میں 59 فیصد اور خواتین میں 34 فیصد تھی جبکہ 80 سال یا اس سے زائد عمر کے 31 فیصد مرد اور 14 فیصد خواتین نے بھی اپنی جنسی زندگی کو فعال قرار دیا۔
اصل بات کیا ہے؟
عمر بڑھنے سے متعلق زیادہ تر غلط فہمیوں کے پیچھے ’ناگزیر ہونے‘ کا تصور کارفرما ہے۔
لوگ اکثر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں لازماً ختم ہوتی جائیں گی، زندگی زیادہ مشکل، بے رنگ اور تکلیف دہ ہوجائے گی اور وہ اپنی پسند کی سرگرمیوں سے محروم ہوجائیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کے بعض پہلو متاثر ہوسکتے ہیں لیکن مذکورہ تمام مسائل ہر شخص کے لیے ناگزیر نہیں۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عمر کے بارے میں مثبت نفسیاتی سوچ جسمانی صحت پر بھی اچھے اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
مزید پڑھیے: فلیمنگو پر 40 سالہ تحقیق سے بڑھاپے کو شکست دینے کا راز سامنے آگیا
اس لیے عمر بڑھنے کو صرف کمزوری اور بیماری کے دور کے طور پر دیکھنے کے بجائے صحت مند طرز زندگی، جسمانی سرگرمی، مناسب نیند، سماجی روابط اور مثبت سوچ کے ساتھ ایک ایسے مرحلے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے جس میں انسان اپنی صحت اور زندگی کے معیار کو بہتر رکھنے کے لیے بہت کچھ کرسکتا ہے۔













