بڑھاپے میں تنہائی محسوس کرنے والے افراد کی یادداشت کی کارکردگی ان لوگوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے جو تنہائی کا شکار نہیں ہوتے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بڑھاپا دوبارہ جوانی میں بدلا جا سکتا ہے؟ ہارورڈ سائنسدان نے انقلابی پیش رفت کی پیش گوئی کردی
ایک حالیہ یورپی تحقیق کے مطابق یہ پتا ہوا ہے کہ تنہائی یادداشت کی ابتدائی سطح کو متاثر کرتی ہے نہ کہ اس کے بگڑنے کی رفتار کو جبکہ ایک بات اور سامنے آئی ہے کہ تنہائی براہ راست یادداشت کے تیز زوال کا باعث نہیں بنتی۔
یہ تحقیق 10 ہزار سے زائد افراد پر 6 سال تک کی گئی جن کی عمر 65 سے 94 سال کے درمیان تھی۔
مزید پڑھیے: سائنسدانوں کی اہم پیشرفت، بڑھاپا ماضی کا قصہ بننے کے قریب
نتائج کے مطابق زیادہ تنہائی محسوس کرنے والے افراد کی یادداشت کے ٹیسٹ میں کارکردگی کم رہی لیکن وقت کے ساتھ ان کی یادداشت میں کمی کی رفتار ان افراد کے برابر رہی جو تنہائی محسوس نہیں کرتے تھے۔
محققین کے مطابق عمر، ذہنی دباؤ اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کا یادداشت پر زیادہ اثر دیکھا گیا جبکہ جسمانی سرگرمی کرنے والے افراد کی یادداشت نسبتاً بہتر رہی۔
مزید پڑھیں: عمر کے مختلف مراحل میں غذائی اجزا کی اہمیت: کس عمر میں کون سی خوراک مفید ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تنہائی کو صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک صحتِ عامہ کا مسئلہ سمجھ کر اس پر وقت سے پہلے توجہ دینا ضروری ہے تاکہ بڑھاپے میں ذہنی صحت کو بہتر رکھا جا سکے۔














