حکومت پاکستان نے عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق ایوارڈ اور عبوری اقدامات کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ’زیر التوا‘ رکھنے کا فیصلہ معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے دیگر قابل اطلاق قواعد کے تحت قابل قبول نہیں۔
وزارت اطلاعات و نشریات، حکومت پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق حکومت پاکستان نے عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے کچھ دیر قبل جاری کیے گئے پریس ریلیز کا نوٹس لیا ہے، جس میں بتایا گیا کہ عدالت نے آج فریقین کو سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے متعلق اپنا ایوارڈ اور عبوری اقدامات سے متعلق فیصلہ جاری کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: عالمی ثالثی عدالت کا بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی پاسداری اور مقبوضہ کشمیر میں ڈیم پر کام روکنے کا حکم
اعلامیے کے مطابق عدالت کی جانب سے ایوارڈ اور فیصلہ تاحال عوامی سطح پر شائع نہیں کیے گئے، تاہم توقع ہے کہ آئندہ ایک ہفتے یا اس کے قریب انہیں شائع کردیا جائےگا۔
بھارت سندھ طاس معاہدے کی معطلی نہیں کرسکتا، عالمی ثالثی عدالت
حکومت پاکستان نے کہاکہ عالمی ثالثی عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا ہے کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو ’زیر التوا‘ رکھنے کا فیصلہ سندھ طاس معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے دیگر قابل اطلاق قواعد کے تحت قابل قبول نہیں ہے۔
عدالت نے قرار دیاکہ سندھ طاس معاہدہ نہ تو ختم ہوا ہے اور نہ ہی اس کے آپریشن کو معطل کیا گیا ہے، بلکہ یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت بدستور پابند ہے اور اسے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، جن میں مغربی دریاؤں پر پن بجلی کے منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں اور تنازعات کے حل سے متعلق شقیں بھی شامل ہیں۔
پاکستان نے عدالت کی جانب سے دیے گئے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
رٹلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے پر بھارت کے لیے عبوری اقدامات
حکومت پاکستان کے مطابق عالمی ثالثی عدالت نے متفقہ طور پر بھارت پر عبوری اقدامات بھی عائد کیے ہیں۔
عدالت نے بھارت کو رٹلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے ڈیم کی دیوار اور پاور ان ٹیک اسٹرکچر کو مخصوص سطحوں سے اوپر کنکریٹ کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ پابندی نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے 90 دن بعد تک برقرار رہے گی۔
اعلامیے کے مطابق نیوٹرل ایکسپرٹ کا حتمی فیصلہ جولائی 2027 میں متوقع ہے۔
عدالت نے تعمیراتی شیڈول سے متعلق رپورٹنگ کا ایک اقدام بھی عائد کیا ہے، جو نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے فوراً بعد تک جاری رہے گا۔
پاکستان نے عدالت کی جانب سے عبوری اقدامات کو ضروری قرار دینے اور بھارت کے خلاف یہ اقدامات عائد کرنے کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔
پاکستان فیصلے کی تفصیلات کا جائزہ لے گا
حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ اب وہ عالمی ثالثی عدالت کے ایوارڈ اور فیصلے کی تفصیلات کا بغور جائزہ لے گی۔ حکومت نے واضح کیا کہ یہ جائزہ ایوارڈ اور فیصلہ باضابطہ طور پر شائع ہونے کے بعد ان کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کی روشنی میں لیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا عالمی آبی نظم کے لیے خطرناک مثال
اعلامیے کے مطابق پاکستان اس بات کا بھی جائزہ لے گا کہ یہ فیصلے دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے تحت دوبارہ رابطے اور بات چیت کی جانب واپسی کے لیے کس طرح بہترین راستہ فراہم کرسکتے ہیں۔
حکومت پاکستان نے کہاکہ آئندہ کا راستہ اس انداز میں تلاش کیا جائے گا جو سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں فریقوں کی پابند قانونی ذمہ داریوں کی عکاسی کرے۔













