دی ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت نے پیر کے روز بھارت کو پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرنے کا حکم دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ہائیڈرو پراجیکٹ (پن بجلی منصوبے) پر کام فوری طور پر معطل کرنے کی ہدایت کردی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا عالمی آبی نظم کے لیے خطرناک مثال
عدالت نے معاہدے کی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھنے اور ‘ریتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ سے متعلق عبوری اقدامات’ پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔
پس منظر اور حالیہ تنازع
پانی اور سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک طویل عرصے سے متنازعہ مسئلہ رہا ہے۔
🔸 #PCA Press Release | The Indus Waters Western Rivers Arbitration (Islamic Republic of Pakistan v. Republic of India) 🔸
𝗧𝗵𝗲 𝗖𝗼𝘂𝗿𝘁 𝗼𝗳 𝗔𝗿𝗯𝗶𝘁𝗿𝗮𝘁𝗶𝗼𝗻 𝗜𝘀𝘀𝘂𝗲𝘀 𝗔𝘄𝗮𝗿𝗱 𝗼𝗻 𝘁𝗵𝗲 𝗦𝘁𝗮𝘁𝘂𝘀 𝗼𝗳 𝘁𝗵𝗲 𝗜𝗻𝗱𝘂𝘀 𝗪𝗮𝘁𝗲𝗿𝘀 𝗧𝗿𝗲𝗮𝘁𝘆 𝗮𝗻𝗱… pic.twitter.com/0QWASt85Cw
— Permanent Court of Arbitration (@PCA_CPA) August 31, 2026
گزشتہ سال اپریل میں بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل کرنے کے اقدام کے بعد مئی 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک مختصر فوجی تصادم بھی پیش آیا تھا۔
مزید پڑھیے: پاکستان کا دوٹوک مؤقف، سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں ہو سکتا، عالمی حمایت کے لیے مہم تیز
بھارت کے اس اقدام کے بعد پاکستان نے اپنے پانی کے حصے کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو اعلان جنگ قرار دیا تھا۔ پاکستان نے واضح کیا تھا کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے اور بعد ازاں یہ مؤقف بھی اپنایا کہ نئی دہلی کا یہ عمل سنہ 1969 کے ‘ویانا کنونشن برائے قانون معاہدات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
پاکستان کے مؤقف کی تائید
عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کے بیانیے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدہ پوری طرح نافذ العمل ہے اور بھارت کے پاس اس معاہدے کو ختم یا معطل کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔
عدالت نے مزید کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ ایک غیر جانبدار ماہر جولائی 2027 تک اس بات کا حتمی فیصلہ کرے گا کہ ہمالیائی خطے میں ان پن بجلی منصوبوں کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کی شرائط کے مطابق ہے یا نہیں۔













