اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: عمران خان کی بشریٰ بی بی و اہلخانہ سے ملاقات، بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کرانے کا حکم

منگل 1 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی  عمران خان کی ان کی اہلیہ و اہلخانہ سے ملاقاتیں، بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطہ اور تمام بنیادی جیل سہولیات کی فراہم کرنے کا حکم دیدیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھے جانے کے خلاف دائر درخواستوں پر محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے ان درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دے دیا ہے۔

عدالت عالیہ کے فاضل جج جسٹس خادم حسین سومرو نے محفوظ فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ عدالت نے نصرت بھٹو اور بیگم شمیم آفریدی کیسز کے معروف عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے ان درخواستوں کی سماعت اور دائرہ اختیار کو قانون کے مطابق قرار دیا۔

عدالت نے اڈیالہ جیل انتظامیہ کو واضح ہدایت جاری کی ہے کہ جیل قوانین و ضوابط کے تحت بانی پی ٹی آئی کی ان کے اہلخانہ اور بالخصوص ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے باقاعدہ ملاقاتیں کروائی جائیں۔ اس کے علاوہ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر گفتگو کروانے کا بھی حکم دیا، تاہم فیصلے میں شرط عائد کی گئی ہے کہ اگر اس گفتگو کی آڈیوز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ سہولت فوری طور پر واپس لے لی جائے گی۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل رولز کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر اخبارات اور کتابیں فراہم کی جائیں اور ان کی صحت کی دیکھ بھال کے لیے تمام لازمی طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو خصوصی ہدایت کی کہ وہ بشریٰ بی بی کو بھی قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے کے احکامات پر سختی سے عمل کروائیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل حکام کو عدالتی اوامر پر بلا تاخیر عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل 15 دنوں کے اندر عملدرآمدی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔ عدالت نے ان ہدایات اور احکامات کے ساتھ مذکورہ درخواستوں کو باقاعدہ نمٹا دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp