پاکستان کے سابق کپتان مصباح الحق نے قومی سلیکشن کمیٹی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنا استعفیٰ بھجوا دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مصباح الحق نے اپنا استعفیٰ پی سی بی کو ارسال کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ باضابطہ طور پر عہدہ چھوڑنے سے قبل نوٹس پیریڈ مکمل کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کرکٹ میں اکھاڑ پچھاڑ، سابق کوچ اور کرکٹرز پی سی بی پر برس پڑے
مصباح الحق کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی سی بی نے انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل قومی ٹیم کے اسکواڈ اور کوچنگ اسٹاف میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ 9 سے 13 ستمبر تک برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا۔
🚨 𝐌𝐢𝐬𝐛𝐚𝐡-𝐮𝐥-𝐇𝐚𝐪 𝐫𝐞𝐬𝐢𝐠𝐧𝐬 𝐚𝐬 𝐭𝐡𝐞 𝐜𝐡𝐚𝐨𝐬 𝐢𝐧 𝐏𝐚𝐤𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧 𝐜𝐫𝐢𝐜𝐤𝐞𝐭 𝐜𝐨𝐧𝐭𝐢𝐧𝐮𝐞𝐬! 🤯#MisbahUlHaq | #PCB | #GRC pic.twitter.com/HH5G49OMye
— Grassroots Cricket (@grassrootscric) September 1, 2026
رپورٹس کے مطابق مصباح الحق اسکواڈ میں کی جانے والی بڑی تعداد میں تبدیلیوں کے طریقہ کار سے خوش نہیں تھے، خصوصاً انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے قبل 7 کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے ریلیز کیے جانے پر انہیں تحفظات تھے۔
پی سی بی نے پیر کے روز تیسرے ٹیسٹ کے لیے قومی اسکواڈ سے 7 کھلاڑیوں کو ریلیز کرتے ہوئے ان کے متبادل کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا تھا، جبکہ کوچنگ اسٹاف میں بھی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔
ریڈ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور فاسٹ بولنگ کوچ عمر گل کو ان کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا، جبکہ وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور بولنگ کوچ ایشلے نوفکے کو تیسرے ٹیسٹ کے لیے ٹیم کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: انگلینڈ سے شکست پر پی سی بی کا ایکشن : قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں، کوچز اور 7 کھلاڑی فارغ
سرفراز احمد کو 18 اپریل کو ریڈ بال ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی نگرانی میں پاکستان نے بنگلہ دیش کا 2 ٹیسٹ میچز پر مشتمل دورہ کیا، جہاں قومی ٹیم کو سیریز میں 2-0 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کے بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز 1-1 سے برابر رہی۔
پاکستان کے خلاف موجودہ 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں انگلینڈ کو پہلے ہی 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے، جبکہ سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ ایجبسٹن میں کھیلا جائے گا۔
مصباح الحق پاکستان کی قومی ٹیم کی تینوں فارمیٹس میں کپتانی کرچکے ہیں اور بعد ازاں قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کی ذمہ داری بھی سنبھالی، وہ اس وقت قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔













