کراچی کے گنجان اور پوش علاقے ڈیفینس، خیابانِ بخاری میں واقع ایک رہائشی فلیٹ میں خواتین کے درمیان پیش آنے والے تنازع اور مبینہ تشدد کا معاملہ قانونی اور عدالتی رخ اختیار کر گیا ہے۔
واقعے میں تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون نور العین اور ان کے بھائی نے اپنے خلاف درج مقدمے کو کالعدم قرار دینے کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے، جبکہ دوسری جانب متاثرہ فریق نے مقدمے کے اندراج کے لیے بھی مقامی عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔
درخواست گزاروں کا موقف اور الزامات
درخواست گزاروں کے وکیل محمد عارف ایڈووکیٹ نے سندھ ہائیکورٹ میں موقف اختیار کیا کہ تھانہ درخشاں میں مریم رضا کی مدعیت میں درج ایف آئی آر مکمل طور پر غلط، جھوٹی، من گھڑت اور غیر قانونی ہے۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ان پر اور ان کے خاندان پر کھلم کھلا جارحیت اور تشدد کیا گیا، تاہم بااثر افراد کی ایما اور اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے الٹا مظلوم فریق، نور العین اور ان کے بھائی کے خلاف ہی مقدمہ درج کروا دیا گیا۔
🚨 BREAKING | Karachi
New footage has surfaced of Noor-ul-Ain, who was injured during a clash between women at a flat in Karachi’s Defence area.The footage shows her in an injured and distressed condition. Nine days after the incident, police have yet to issue a clear… pic.twitter.com/2sMYjOa1CY
— Shahzad Khan (@i_shahzadkhan) August 29, 2026
درخواست میں نامزد فریقین
سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی گئی آئینی درخواست میں مدعی مقدمہ مریم رضا، ایس ایچ او تھانہ درخشاں، کیس کے تفتیشی افسر، ایس ایس پی انویسٹی گیشن اور حکومتِ سندھ کو فریق بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب متاثرہ بہن بھائی نے مدعی مقدمہ کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے سیشن عدالت سے بھی رجوع کرلیا ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولیس نے ان کی درخواست پر مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا۔
Breaking Update
In Karachi Defence, Bukhari Street, amid a brawl between women, in which SSP's relative woman Mariam Ali Raza attacked a woman and her brother with a dumbbell, another horrific mobile footage has surfaced.pic.twitter.com/0ymAgBpKjQ— Dr Amber Nawaz (@DNawaz69278) August 29, 2026
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ تشدد بھی ان پر کیا گیا اور مقدمہ بھی انہی کے خلاف درج کیا گیا، جبکہ پولیس سے مقدمہ درج کرنے کے لیے بارہا رجوع کرنے کے باوجود بااثر افراد کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جا رہا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ تشدد اور مقدمے کے بعد متاثرین شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزاروں پر تشدد کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔
سوشل میڈیا ویڈیوز اور عوامی ردِعمل
واقعے کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں، جن میں ایک خاتون کو ڈمبل سے حملہ کرتے ہوئے اور دیگر تلخ مناظر کے دوران پولیس اہلکاروں کی موجودگی کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
تشدد کا شکار ہونے والی خاتون نور العین کی زخمی حالت میں ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی، جس میں ان کے منہ اور ناک سے خون بہتا ہوا دکھائی دیا۔
ویڈیو میں انہوں نے پولیس کی مبینہ یکطرفہ کارروائی پر سوالات بھی اٹھائے تھے۔
پولیس اہلکاروں کی موجودگی اور اعلیٰ سطحی تحقیقات
واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے اور شہریوں کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ واقعے کے وقت کون سے پولیس اہلکار موقع پر موجود تھے اور انہوں نے کیا کردار ادا کیا۔
ایف آئی آر سے سنگین دفعات کا اخراج
ابتدائی طور پر درج کی گئی ایف آئی آر میں پولیس کی جانب سے چھین جھپٹ اور چوری سے متعلق بعض غیر متعلقہ اور سنگین دفعات شامل کی گئی تھیں، جنہیں بعد ازاں نکال دیا گیا۔
تاہم متاثرہ فریق کا مؤقف اب بھی یہی ہے کہ پورا مقدمہ من گھڑت اور بلاجواز ہے۔
درخواست گزاروں نے سندھ ہائیکورٹ سے استدعا کی ہے کہ بااثر افراد کے دباؤ میں آکر درج کی گئی مبینہ ناانصافی پر مبنی ایف آئی آر کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے اور پولیس کو درخواست گزاروں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکا جائے۔












