وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے چین کا 4 روزہ سرکاری دورہ مکمل کر لیا ہے۔ دورے کا مرکز سنکیانگ اور گویژو رہے، جہاں صوبائی حکومت نے زراعت، لائیو اسٹاک، بگ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں چینی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی بات کی۔ حکومتی بیانات کے مطابق مقصد یہ ہے کہ پنجاب صرف ٹیکنالوجی کا صارف نہ رہے بلکہ اس کے استعمال اور ترقی میں شریک بنے۔
دورہ 25 اگست کو لاہور سے روانگی کے ساتھ شروع ہوا، چین کے قونصل جنرل سن یان نے ایئرپورٹ پر الوداع کیا۔ ارومچی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر چینی اعلیٰ حکام نے استقبال کیا اور وزیر اعلیٰ نے سنکیانگ سٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں سرکاری مہمان کی حیثیت سے قیام کیا۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت
سنکیانگ میں پہلی بڑی ملاقات پارٹی سیکریٹری چن شیاوجیانگ کی سربراہی میں ہوئی۔ دونوں جانب سے زراعت، آبپاشی اور لائیو اسٹاک میں تعاون بڑھانے پر بات ہوئی۔
ملاقات میں جدید ایریل وہیکلز، واٹر لیولنگ، ڈیجیٹل کراپ مانیٹرنگ اور چین کے آزمودہ بیجوں کے استعمال کا ذکر کیا گیا۔ مریم نواز نے کہاکہ پنجاب ملک کی بڑی زرعی پیداوار فراہم کرتا ہے اور کارپوریٹ فارمنگ میں سنکیانگ کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
27 اگست کو وزیراعلیٰ نے سنکیانگ میں ٹائرن وزڈم ڈیری ورکس کا دورہ کیا۔ کمپنی حکام نے جدید ڈیری فارمنگ اور دودھ کی پروسیسنگ پر بریفنگ دی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں چین کے اشتراک سے ملک اور ڈیری پروسیسنگ پراجیکٹ کے قیام میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ صوبے میں لائیو اسٹاک اور دیہی خواتین کی مالی خودمختاری کے منصوبے جاری ہیں اور جدید پروسیسنگ سے اس شعبے کو وسعت دی جا سکتی ہے۔
’پنجاب ڈیٹا ٹیکنالوجی کا ہب بنے گا‘
دورے کا دوسرا اہم حصہ گویانگ میں انٹرنیشنل بگ ڈیٹا انڈسٹری ایکسپو 2026 تھا۔ اس ایکسپو میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہاکہ پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ ہے اور اب اسے ڈیٹا، ٹیکنالوجی اور جدت کے میدان میں آگے بڑھانا چاہیے۔
انہوں نے روایتی کوریڈورز کے ساتھ ڈیٹا اور جدت کا کوریڈور قائم کرنے کی بات کی۔ اسی موقع پر پنجاب ڈیٹا لیک کا ذکر کیا گیا۔
پنجاب حکومت کے مطابق ون میپ نامی نظام کے ذریعے 31 محکموں کے 12 ٹیرا بائٹ سے زائد جیو اسپیشل ڈیٹا اور 6 ہزار سے زیادہ ڈیٹا سیٹس کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور زراعت میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے ۔
چین میں ہواوے کے اعلیٰ حکام سے ملاقات میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر بات ہوئی۔ پنجاب حکومت کے مطابق ہواوے کو نواز شریف آئی ٹی سٹی میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی۔ ایک ہزار نوجوانوں کو ماسٹر ٹرینر اور 300 خواتین ٹرینرز کو مصنوعی ذہانت کی تربیت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اسمارٹ سٹی، کمانڈ سینٹر، صحت، تعلیم اور زراعت میں تعاون کا بھی جائزہ لیا گیا۔
علی بابا کلاؤڈ کے وفد سے ملاقات میں کمپنی نے پنجاب کے آئی ٹی سیکٹر میں دلچسپی ظاہر کی۔ گفتگو میں زراعت، صحت، سماجی پروگراموں اور موسمیاتی پیشگوئی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا ذکر ہوا۔
وزیر اعلیٰ نے اے آئی پر مبنی ملٹی ڈیزیز اسکینر کے پائلٹ پراجیکٹ کی اصولی منظوری دی۔ رپورٹس کے مطابق یہ ٹیکنالوجی 2 منٹ میں متعدد بیماریوں کا پتا لگانے اور کچھ کینسرز کی ابتدائی تشخیص میں مدد دے سکتی ہے۔ صحت حکام کو پائلٹ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔
گویژو کے پارٹی سیکریٹری ہی ژونگ یو سے ملاقات میں ڈیجیٹل تعاون، مصنوعی ذہانت اور اسمارٹ ایگریکلچر کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے کی تجویز پیش کی گئی۔
ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس کی بھی بات ہوئی۔ اس موقع پر گویژو وفد کو لاہور آنے کی دعوت بھی دی گئی۔
پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں پہلے سے اے آئی آفس کام کر رہا ہے، کابینہ اور افسران کو تربیت دی جا چکی ہے اور سرکاری اسکولوں میں ابتدائی درجات سے مصنوعی ذہانت کی تعلیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: مریم نواز کا چین میں عالمی بگ ڈیٹا ایکسپو سے خطاب، پاکستان اور چین کے درمیان ’ڈیٹا کوریڈور‘ بنانے کی پیشکش
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہاکہ پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جس نے باضابطہ اے آئی پالیسی اپنائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2029 تک صوبے کو مصنوعی ذہانت سے مربوط بنانا ہے تاکہ گورننس، صحت، زراعت اور عوامی خدمات میں ڈیٹا کا عملی استعمال ہو سکے۔













