پاکستان نے ڈالر بینچ مارک ڈوئل ٹرانچ یورو بانڈ کے اجرا کا عمل شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پرائز بانڈز رکھنے والے شہریوں کے لیے اہم خبر، کمرشل بینکوں کے لیے نئی ہدایات جاری
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ اس عمل کے تحت 5 اور 10 سالہ مدت کے بانڈز پیش کیے جائیں گے۔
انہوں نے لکھا کہ یہ لین دین مسلسل بہتر ہوتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ، مضبوط میکرو اکنامک بنیادوں، اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا تسلسل ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک پاکستان کی نئی سرے سے رسائی کی سمت میں ایک اور اہم قدم ہے۔
مزید پڑھیے: وزارت خزانہ نے یورو بانڈ اور پانڈا بانڈ سے متعلق رپورٹس کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا
یورو بانڈ دراصل ایک ایسا قرضہ (بانڈ) ہوتا ہے جو کوئی ملک یا کمپنی بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے حاصل کرتا ہے اور اسے اپنی مقامی کرنسی کے بجائے کسی غیر ملکی کرنسی عام طور پر امریکی ڈالر یا یورو میں جاری کیا جاتا ہے۔ اسی لیے اسے ’ڈالر بینچ مارک‘ بانڈ بھی کہا جا رہا ہے یعنی یہ بانڈ امریکی ڈالر میں جاری کیا جائے گا اور اس کی مالیت اتنی ہوگی کہ عالمی مارکیٹ میں اسے ایک معیاری یا حوالہ جاتی (بینچ مارک) قرضہ سمجھا جائے۔
𝗨𝗣𝗗𝗔𝗧𝗘: 𝗣𝗔𝗞𝗜𝗦𝗧𝗔𝗡 𝗟𝗔𝗨𝗡𝗖𝗛𝗘𝗦 𝗨𝗦$ 𝗕𝗘𝗡𝗖𝗛𝗠𝗔𝗥𝗞 𝗘𝗨𝗥𝗢𝗕𝗢𝗡𝗗 🇵🇰
Ministry of Finance and Revenue, Government of Pakistan, has today launched the process for a US$ benchmark dual-tranche Eurobond offering across long 5-year and 10-year tenors, subject… pic.twitter.com/fPHDmSZ2px
— Khurram Schehzad (@kschehzad) September 1, 2026
’ڈوئل ٹرانچ‘ کا مطلب ہے کہ یہ بانڈ ایک ہی وقت میں 2 الگ الگ حصوں (ٹرانچز) کی صورت میں جاری کیا جا رہا ہے ایک حصہ 5 سال کی مدت کے لیے اور دوسرا 10 سال کی مدت کے لیے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا عالمی مالیاتی منڈیوں کا رخ، یورو بانڈ اور سکوک بانڈز جاری کرنے کا عمل شروع
سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کی مدت کے مطابق ان دونوں میں سے کسی ایک یا دونوں میں پیسے لگا سکتے ہیں۔ آسان الفاظ میں حکومت پاکستان بین الاقوامی مارکیٹ سے قرض لے رہی ہے اور یہ قرض 2 مختلف مدتوں کی اقساط کی صورت میں واپس کیا جائے گا جبکہ سرمایہ کاروں کو اس پر طے شدہ شرح سود (سود کی ادائیگی) ملے گی۔














