نیپال میں سیلابی تباہ کاری: مذہبی رسومات ادا کیے بغیر ہی اجتماعی تدفین کا آغاز

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پہاڑی ملک نیپال میں گزشتہ ہفتے آنے والے ہولناک سیلاب نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی تباہی مچائی ہے، جس کے بعد حکام نے ہلاک شدگان کے ڈی این اے نمونے محفوظ کرنے کے بعد آخری مذہبی رسومات ادا کیے بغیر ہی لاشوں کی تدفین کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

نیپالی حکام نے منگل کے روز تصدیق کی کہ 26 اگست کو ہمالیہ کی بلندیوں پر گلیشیئر کے زمین بوس ہونے سے یخ بستہ پانی، چٹانوں اور ملبے کا ایک زبردست ریلہ وادیوں میں آن نکلا۔ اس تباہ کن سیلابی ریلے کے نتیجے میں اب تک 1,003 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 3,916 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔

ضلع چٹوان میں قائم کیے گئے ایک بڑے اجتماعی قبرستان میں تباہی کی ہولناکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روایتی ہندو مذہبی رسومات، جیسے کہ آخری رسومات (سنسکار)، داہ سنسکار (لاشوں کو جلانا) اور اجتماعی دعاؤں کا نظام معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ لاشوں کی بڑی تعداد اور فریزر کی عدم دستیابی کی وجہ سے انتظامیہ نامعلوم لاشوں کا ڈی این اے سیمپل لے کر ان کی اجتماعی تدفین کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے نیپال اور چین میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کرگئی،  ہزاروں تاحال لاپتہ

چٹوان اور دیگر متاثرہ اضلاع کے فاریسٹ ایریاز میں لاوارث لاشوں کی تدفین ریڈ کراس کے بین الاقوامی پروٹوکولز کے تحت کی جا رہی ہے۔ ہر لاش کو ایک مخصوص کوڈ (Tag) اور جی پی ایس (GPS) لوکیشن کے ساتھ علیحدہ خندق میں رکھا جا رہا ہے تاکہ ڈی این اے میچ ہونے کی صورت میں لواحقین بعد میں اپنے پیاروں کی باقاعدہ آخری رسومات ادا کر سکیں۔

دوسری جانب ریسکیو آپریشنز کے لیے ڈرون تکنیک کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق ضلع نوواکوٹ کے ایک ہی مکان سے ڈرون کی مدد سے 24 افراد کی لاشیں ملی ہیں، جبکہ بھارتی سرحدی ندیوں سے بھی اب تک بہہ کر آنے والی کم از کم 17 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔

نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ نے اس المیے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صورتحال کو ’ناقابلِ تصور اور دل دہلا دینے والی تباہی‘ قرار دیا ہے۔

اس سانحے میں بڑی تعداد میں غیرملکی سیاح بھی لاپتا ہوئے ہیں۔ نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (NDRRMA) اور مقامی حکام کے مطابق، لاپتہ ہونے والے ہزاروں افراد میں 39 سے زائد ممالک کے صدور، سیاح اور زائرین شامل ہیں۔ ان میں مانسروور اور ماؤنٹ کیلاش کی زیارت کے لیے جانے والے بھارتی زائرین کے علاوہ امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کے شہری شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھ لیں نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

طوفانی پانی اور ملبے نے ترشولی اور بھوٹے کوشی ندیوں کے کنارے قائم متعدد ہائیڈرو پاور اسٹیشنز کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سرنگوں کے اندر سینکڑوں مقامی اور غیر ملکی کارکن پھنس گئے جن کی نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔

سیلابی ریلے سے نیپال کو کاٹھمنڈو اور چین سے جوڑنے والے کئی مرکزی شاہراہوں سمیت 40 سے زائد اہم پل اور درجنوں کلومیٹر سڑکیں بہہ گئی ہیں، جس کی وجہ سے دور دراز پہاڑی علاقوں تک امدادی سامان پہنچانے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

چین اور بھارت سمیت بین الاقوامی اداروں نے نیپال کو امداد، ڈرونز، فارنسک ماہرین اور ریسکیو ٹیمیں فراہم کرنا شروع کر دی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp