فلپائن میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باوجود ایک جوڑے نے زیرِ آب چرچ میں شادی کی تقریب منعقد کرکے سب کی توجہ حاصل کرلی۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا کے شمال میں واقع ہاگونوئے ٹاؤن کے سینٹ جان دی بپٹسٹ چرچ میں شادی کے وقت سیلابی پانی گھٹنوں تک پہنچا ہوا تھا تاہم لیان لیزا گالانگ اور گلبرٹ چیکو نے تقریب منسوخ کرنے کے بجائے اسے ہر حال میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔
Sel düğüne engel olamadı, göle dönen kilisede evlendiler.
📍Filipinler pic.twitter.com/El4iMjwQXM
— TRT HABER (@trthaber) September 1, 2026
سفید عروسی لباس میں ملبوس دلہن نے ہاتھ میں سفید پھولوں کا گلدستہ تھامے گدلے سیلابی پانی سے گزر کر چرچ میں داخل ہو کر دولہا کے ساتھ شادی کی رسومات ادا کیں۔ چرچ کے پادری نے مختصر تقریب کے دوران دونوں کو میاں بیوی قرار دے دیا۔
شادی کے فوٹوگرافر میکو رے الفونسو کے مطابق چرچ انتظامیہ نے بڑھتے ہوئے سیلابی پانی کے باعث جوڑے کو شادی مؤخر کرنے کا مشورہ دیا تھا تاہم دونوں نے تقریب جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خواہش ہے بلاول بھٹو کی شادی میں دعوت ضرور آئے’، پی پی چیئرمین کی شادی پر ارکان پارلیمنٹ کے تاثرات
فوٹوگرافر نے بتایا کہ چرچ تقریباً ایک ماہ سے جزوی طور پر سیلابی پانی میں گھرا ہوا تھا لیکن جوڑے کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے چرچ کے عملے نے تقریب کو ممکن بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا۔
دولہا گلبرٹ چیکو نے کہا کہ انہیں اس بات کی پروا نہیں تھی کہ عروسی لباس اور کوٹ پانی سے بھیگ جائیں گے کیونکہ وہ ہر صورت شادی کرنا چاہتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ارشد وارثی سے شادی کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا‘، جیا بچن نے اداکار کی اہلیہ کو کیوں خبردار کیا؟
دلہن کو سیلابی پانی میں چلنے میں آسانی فراہم کرنے کے لیے اس کے عروسی لباس کے دامن کو بھی مختصر کیا گیا جبکہ جوڑا چرچ تک ایک بلند شاسی والی رکشہ نما گاڑی میں پہنچا تاکہ ان کے کپڑے محفوظ رہیں۔
شادی کی ایک تصویر میں ایک بچے کو شادی کی انگوٹھیاں تھامے سیلابی پانی میں چرچ کی جانب بڑھتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ پانی اس کی کمر تک پہنچا ہوا تھا۔ تقریب میں 15 سے بھی کم افراد شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ’بیوہ یا مطلقہ خواتین کی دوبارہ شادی ان کا حق، منفی نظر سے دیکھنا بند کریں‘، حمزہ علی عباسی
رپورٹ کے مطابق فلپائن کے شمالی حصے میں اگست کے دوران معمول سے زیادہ شدید مون سون بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک آنے والے سیلاب سے کم از کم 34 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
دولہا جو مشرق وسطیٰ میں رِگر کے طور پر کام کرتا ہے، کے مطابق دونوں نے اصل میں دسمبر میں شادی کا منصوبہ بنایا تھا تاہم سیلاب بھی ان کی محبت اور شادی کے عزم کے سامنے رکاوٹ نہ بن سکا۔














