پاکستان کے معروف گلوکار عاطف اسلم نے کہا ہے کہ کوک اسٹوڈیو پاکستان اور کوک اسٹوڈیو بھارت میں نمایاں فرق ’جادو‘ کا ہے جبکہ بھارتی ورژن میں موسیقی کا وہ خام پن اور اصلی پن موجود نہیں جو پاکستانی کوک اسٹوڈیو کو منفرد بناتا ہے۔
عاطف اسلم نے ایک انٹرویو میں ان سے دونوں ممالک کے کوک اسٹوڈیو میں پیش کی جانے والی موسیقی کے فرق کے بارے میں سوال کیا گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستانی کوک اسٹوڈیو کو بھارتی ورژن پر کیا برتری حاصل ہے تو عاطف اسلم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’’جادو‘‘۔
View this post on Instagram
گلوکار کا کہنا تھا کہ دونوں جانب کی موسیقی اور دھنیں اچھی ہیں تاہم بھارتی موسیقی میں وہ خام پن موجود نہیں جو پاکستانی موسیقی کی خاص پہچان ہے۔ ان کے مطابق بھارتی کوک اسٹوڈیو کمرشل ازم پر زیادہ توجہ دیتا ہے جبکہ پاکستانی کوک اسٹوڈیو میں اصل اور منفرد دھنوں پر کام کیا جاتا ہے۔
عاطف اسلم نے بتایا کہ پاکستانی کوک اسٹوڈیو کی دھنوں پر چند لوگ مل کر کام کرتے ہیں اور فنکار کو اپنی تخلیقی صلاحیت اور منفرد انداز شامل کرنے کی آزادی بھی حاصل ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا عاطف اسلم موسیقی چھوڑنے والے ہیں؟ گلوکار نے خاموشی توڑ دی
عاطف اسلم کو بھارت میں بھی اپنی گائیکی کے باعث بڑی مقبولیت حاصل رہی ہے۔ انہوں نے متعدد بھارتی فلموں کے لیے مقبول گانے گائے، جن میں ’وہ لمحے‘، ’تیرے بن‘، ’پہلی نظر میں‘، ’تو جانے نہ‘، ’جینا جینا‘ اور ’دل دیاں گلاں‘ شامل ہیں۔
پاکستانی کوک اسٹوڈیو میں بھی عاطف اسلم کی متعدد پرفارمنسز کو بے حد پذیرائی ملی جن میں ’تاجدارِ حرم‘ اور ’وہی خدا ہے‘ نمایاں ہیں۔
عاطف اسلم حال ہی میں تقریباً 19 سال کے وقفے کے بعد اپنی نئی البم ’صبح آئے نہ‘ کے ساتھ بھی موسیقی کے منظرنامے میں واپس آئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ البم روایتی انداز سے ہٹ کر موسیقی پیش کرنے کی کوشش ہے۔














