اسپین کے خلیج پالاموس کے قریب رومی دور کی ایک قدیم رہائش گاہ سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے مٹی کے ایک بڑے برتن کے ٹکڑے دریافت کیے ہیں، جن پر سانپ کے 2 سر والا منفرد دستہ بنا ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ برتن تقریباً 2 ہزار سال قبل رومی سلطنت میں رائج ایک نسبتاً خفیہ مذہبی عقیدے ’سابازیوس‘ کی عبادت سے وابستہ ہو سکتا ہے۔
یہ آثار اسپین کے علاقے پالاموس کی خلیج سے تقریباً 20 میٹر بلند چٹانی مقام پر واقع رومی ولا ’کولیت‘ سے ملے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روم کے نواح میں قدیم رومی ’ولا‘ کی دریافت، شاندار موزیک اور تاریخی آثار
محققین کے مطابق یہ دریافت جزیرہ نما آئبیریا میں سابازیوس کی عبادت کے شواہد میں ایک نادر اور اہم اضافہ ہے، کیونکہ اس مذہبی فرقے کے آثار اس خطے میں بہت کم ملے ہیں۔
برطانوی ادارے کیمبرج یونیورسٹی پریس کے تحقیقی جریدے اینٹیکٹی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، کولیت کا مقام پہلی مرتبہ 19ویں صدی کے اواخر میں شناخت کیا گیا تھا، تاہم باقاعدہ کھدائی 2000 کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوئی، جبکہ ولا پر منظم آثارِ قدیمہ کا کام 2015 میں شروع ہوا۔
2,000-Year-Old Snake-Headed Vessel Reveals Mysterious Roman Cult in Spainhttps://t.co/s05rPuejRd pic.twitter.com/TncDM0Thmx
— Sarah (@Sarah404BC) August 31, 2026
ماہرین نے یہاں سرگرمیوں کے 5 مختلف ادوار کی نشاندہی کی ہے۔ ابتدائی آبادی دوسری یا پہلی صدی قبل مسیح کے اواخر میں قائم ہوئی، جہاں شراب کے تہہ خانے اور اناج ذخیرہ کرنے کی جگہ موجود تھی۔
سانپ کے نقش والے برتن کے ٹکڑے ولا کی مشرقی دیوار کے باہر سے ملے، جہاں آگسٹن کے دور میں روٹی پکانے کے لیے ایک تنور تعمیر کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: 6 سالہ بچے نے تاریخی تلوار دریافت کر کے ماہرین کو حیران کردیا
اردگرد سے ملنے والے مٹی کے برتنوں، امفورا اور دیگر اشیا کی بنیاد پر محققین کا کہنا ہے کہ مذکورہ برتن اس دور تک ٹوٹ کر دفن ہو چکا تھا۔ د
یگر دریافتوں سے اس تہہ کی تاریخ پہلی صدی عیسوی کے ابتدائی نصف تک متعین ہوتی ہے۔
برتن پر سانپ کے 2 سر کیوں بنائے گئے؟
برتن کا صرف ایک حصہ اور ایک دستہ محفوظ رہ گیا ہے، تاہم اس کی تزئین و آرائش اس کے ممکنہ مذہبی استعمال کی جانب واضح اشارہ کرتی ہے۔
دستے پر ایک ایسے سانپ کی شکل بنائی گئی ہے جس کے دونوں سروں پر سر موجود ہیں، جبکہ اس کے جسم پر چھوٹے نیم دائرہ نما نشانات بنا کر چھلکوں کا تاثر دیا گیا ہے۔
محققین نے اس ڈیزائن کا موازنہ جرمنی اور بیلجیکا کے علاقوں سے ملنے والے سابازیوس سے منسوب برتنوں سے کیا ہے۔
تاہم کولیت سے ملنے والا برتن کسی معروف درجہ بندی میں مکمل طور پر فٹ نہیں بیٹھتا، اس میں عام طور پر ایسے برتنوں میں پائی جانے والی انڈیلنے کی چونچ بھی موجود نہیں۔
سابازیوس کون تھا؟
سابازیوس قدیم تھریس اور فریجیا کے لوگوں کا ایک مذہبی دیوتا تھا، جس کی عبادت رومی دور میں زیادہ تر نجی سطح پر، گھروں کے اندر کی جاتی تھی۔
اس کے مذہبی عقیدے میں سانپوں سمیت مختلف علامتی اشیا کو خاص اہمیت حاصل تھی۔
اٹلی کے قدیم شہر پومپئی سے بھی ایسے شواہد ملے ہیں جہاں ایک گھر کے باغ میں موجود چھوٹی قربان گاہ کے قریب سانپوں اور مینڈکوں سے مزین مٹی کے برتن دریافت ہوئے تھے۔
2,000-Year-Old Snake-Headed Vessel Reveals Mysterious Roman Cult in Spain – https://t.co/mD6rUdWnyd
https://t.co/e2XkgEjtOJ— rogueclassicist ~ david meadows (@rogueclassicist) August 30, 2026
ماہرین کے مطابق سابازیوس کی عبادت کے لیے بڑے مندروں یا واضح مذہبی عمارتوں کے بجائے کانسی کے ہاتھوں، چھوٹی تختیوں اور مخصوص برتنوں جیسی علامتی اشیا استعمال ہوتی تھیں۔
جزیرہ نما آئبیریا میں اس مذہب کے شواہد بہت محدود ہیں اور زیادہ تر شمالی علاقوں تک محدود رہے ہیں، ایمپوریے کے قریب آگسٹن دور کے ایک مقبرے سے سابازیوس اور جڑواں دیوتاؤں کاسٹر اور پولکس کی تصاویر والی کانسی کی تختیاں مل چکی ہیں۔
ان شواہد سے امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ کسی خانہ بدوش یا سفر کرنے والے مذہبی پیشوا کے ذریعے یہ عقیدہ ساحلی علاقے سے اندرونِ ملک پہنچا۔
برتن کہاں سے آیا؟
تحقیق کا ایک دلچسپ پہلو اس برتن کا ممکنہ بیرونی ماخذ ہے، ماہرین نے مٹی کے نمونے کو خوردبین اور ایکسرے ڈفریکشن کے ذریعے جانچا۔
تجزیے میں سرخ، اچھی طرح پکی ہوئی مٹی کے ساتھ کوارٹز، مائیکا، فیلڈ اسپار اور دیگر معدنی اجزا پائے گئے۔
محققین کے مطابق مٹی کی یہ خصوصیات مقامی کاتالان مٹی کے برتنوں سے مختلف ہیں اور اس امکان کو تقویت دیتی ہیں کہ برتن مقامی طور پر تیار نہیں ہوا بلکہ رومی افریقہ سے یہاں پہنچا تھا۔
مزید پڑھیں: لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران
اگرچہ رومی افریقہ سے سابازیوس سے منسوب ایسے برتنوں کے شواہد تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں، جرمنی کے ایک عجائب گھر میں موجود تیونس سے منسوب ایک ملتا جلتا برتن اس امکان کی معمولی تائید کرتا ہے۔
محققین کے مطابق کولیت سے ملنے والا برتن جزیرہ نما آئبیریا میں ’سانپ نما برتنوں‘ کی ابتدائی دیہی مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ دریافت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ سابازیوس جیسا محدود اور نجی نوعیت کا مذہبی عقیدہ بھی رومی سلطنت کے دور میں شہروں سے دور دیہی علاقوں تک خاموشی سے پھیل گیا تھا۔














