ناروے کے دارالحکومت اوسلو سے تقریباً 40 میل شمال مغرب میں واقع گاؤں برانڈبو میں ایک اسکول پکنک کے دوران پہلی جماعت کے بچوں کو زمین سے باہر نکلا ہوا ایک قدیم اور نایاب وائکنگ تلوار کا حصہ ملا ہے۔
یہ دریافت رواں سال اپریل کے آخر میں سامنے آئی جب 6 سالہ بچے ہینرک نے زمین سے ابھری ہوئی ایک عجیب چیز دیکھی اور اسکول انتظامیہ کو مطلع کیا، جس کے بعد محکمہ آثار قدیمہ کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اونٹ میلے میں قدیم تلواروں کا خصوصی شعبہ
ماہرینِ آثار قدیمہ کے مطابق یہ تلوار تقریباً 1300 سال پرانی ہے جس کا تعلق 8ویں صدی عیسوی یعنی میروونگین دور یا وائکنگ دور کے آغاز سے ہے۔
ان لینڈ کاؤنٹی کے ثقافتی ورثے کے محکمے کے سینئر مشیر اویسٹین لیا کا کہنا ہے کہ یہ تلوار ‘سنگل ایڈجڈ’ ہے یعنی اس کی صرف ایک سائیڈ تیز دھار ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ تلواریں بڑے چاقوؤں سے تیار کی گئی تھیں جنہیں ‘سیکس’ کہا جاتا تھا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تلوار 750 سے 850 عیسوی کے درمیان ناروے میں ہی تیار کی گئی تھی اور یہ کسی عام شخص کی نہیں بلکہ معاشرے کے کسی اعلیٰ مرتبے کے مالک، آزاد زمیندار، یا کسی مقامی وائکنگ چیف کے فوجی مشیر کی ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران
اگرچہ یہ تلوار کاشتکاری والے کھیت سے ملی ہے جہاں ہل چلنے کی وجہ سے اس کی اصل جگہ تبدیل ہو چکی تھی، لیکن ماہرین کو اس جگہ سے محض 40 میٹر دور لوہے کے دور کے چھوٹے قبرستان کے آثار ملے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کسی قدیم قبر کا حصہ تھی۔
اس تاریخی اور غیر معمولی تلوار کا دستہ اور اوپری حصہ کافی حد تک محفوظ ہے، اور اب اسے مزید تحقیق اور ایکس رے کے لیے اوسلو کے میوزیم آف کلچرل ہسٹری منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ اس کی تیاری کے مخفی حقائق سامنے لائے جاسکیں۔














