گلوبل وارمنگ 1.5 ڈگری کی حد بہت جلد عبور کر جائے گی، اقوام متحدہ نے خبردار کردیا

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ کے مطابق دنیا موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات سے بچنے کے لیے مقرر کردہ 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد جلد عبور کر جائے گی، تاہم عالمی درجہ حرارت کو بعد ازاں دوبارہ اس حد سے نیچے لانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کوئلے، تیل اور گیس کے مسلسل استعمال سے زمین کا اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد عبور کرنے والا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ انسانیت موسمیاتی تباہی سے بچنے کی حد سے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایل نینو اور موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں شدید گرمی اور مون سون کے خطرات کو کیسے بڑھا رہے ہیں؟

ماہرین کے مطابق دنیا اس وقت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 1.4 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم ہوچکی ہے اور اقوام متحدہ کی رپورٹ نے پہلی مرتبہ تسلیم کیا ہے کہ 1.5 ڈگری کی حد آئندہ چند برسوں میں عبور ہوجائے گی۔

’موجودہ حکومتی پالیسیوں کے تحت 2100 تک عالمی درجہ حرارت میں تقریباً 2.6 ڈگری سیلسیس اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ موسمیاتی اہداف پر انتہائی مؤثر انداز میں عمل کیا جائے تو درجہ حرارت صدی کے وسط میں تقریباً 1.8 ڈگری پر پہنچ کر بلند ترین سطح حاصل کرسکتا ہے۔‘

اقوام متحدہ نے اب ’اوور شوٹ‘ حکمت عملی تجویز کی ہے، جس کے تحت پہلے درجہ حرارت میں اضافے کی بلند ترین سطح کو محدود کیا جائے گا اور پھر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی اور فضا سے کاربن نکالنے کے ذریعے عالمی درجہ حرارت کو بتدریج 1.5 ڈگری سے نیچے لانے کی کوشش کی جائے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرحلے میں دنیا کو کئی دہائیوں تک شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی، سمندر کی سطح میں اضافے، برفانی تودوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے مسائل کا سامنا رہ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے فیکٹ چیک: کیا پاکستان کے شمالی علاقوں میں گرمیوں کے موسم میں واقعی برفباری ہورہی ہے؟

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی سے خوراک کی پیداوار متاثر، پانی کی قلت میں اضافہ اور مزید اموات و بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ مرجانی چٹانوں سمیت کئی انواع کے معدوم ہونے کا خطرہ بھی بڑھے گا۔ گرین لینڈ اور مغربی انٹارکٹیکا کی برفانی چادروں کا نقصان، ایمیزون کے جنگلات کا خاتمہ اور بحرِ اوقیانوس کے اس نظام میں خلل جو یورپ کے بیشتر حصے کو نسبتاً گرم رکھتا ہے، ممکنہ خطرناک ’ٹِپنگ پوائنٹس‘ میں شامل ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق 1.5 ڈگری کی حد کوئی ایسی ’موسمیاتی کھائی‘ نہیں جس کے بعد سب کچھ ختم ہوجائے، بلکہ ہر ایک ڈگری کا معمولی حصہ بھی بچانا موسمیاتی نقصانات کو کم کرنے میں مددگار ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

شاندانہ گلزار کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا سخت ردعمل، مبینہ لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

میرپورخاص: مبینہ اغوا کیس کا ڈراپ سین، ہندو لڑکی نے ہندو پڑوسی سے پسند کی شادی کی

سہ ملکی سیریز: سری لنکا کا پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں