پیسکو: معمولی ریڈنگ اور بل 50 ہزار روپے، متنازع معاملہ ریٹائرڈ ملازم کی جان لے گیا

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کے ضلع چار سدہ میں پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے دفتر میں 50 ہزار روپے کے بھاری بجلی کے بل میں تصحیح کے دوران مبینہ تلخ کلامی کے بعد محکمہ تعلیم کے ریٹائرڈ ملازم دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث پیسکو افسر گرفتار

متوفی نور حسن کے بیٹے نور اللہ نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے والد بجلی کے بل کی شکایت درج کرانے پیسکو کے دفتر گئے تھے۔ میٹر پر نہ ہونے کے برابر ریڈنگ کے باوجود انہیں 50 ہزار روپے کا بل بھیج دیا گیا تھا۔

میٹر ریڈنگ سیکشن میں عملے کے ساتھ بحث و مباحثے کے بعد ان کے والد کو اچانک دل کا دورہ پڑا جس کے فوراً بعد پیسکو اہلکار دفتر سے فرار ہو گئے۔

متوفی کے بیٹے نے متعلقہ میٹر ریڈر فیاض کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے پولیس کو باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے۔

پیسکو حکام کا مؤقف

دوسری جانب پیسکو کے سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او) نے بدسلوکی یا تلخ کلامی کے الزامات کی تردید کی ہے۔

مزید پڑھیے: پیسکو نے 1720 سے زائد کنڈے ہٹالیے 6 کروڑ 76 لاکھ روپے سے زائد کے جرمانے عائد

ایس ڈی او کے مطابق نور حسن نے بجلی کے بل کے حوالے سے عدالت سے رجوع کیا تھا اور عدالت کے فیصلے کی روشنی میں ان کا بل درست کر کے 12 ہزار روپے کر دیا گیا تھا۔

ڈسکوز اور اوور بلنگ کا پس منظر

یہ افسوسناک واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں بڑے پیمانے پر اوور بلنگ کی نشان دہی کی ہے۔

آڈٹ حکام کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران صارفین سے 47 ارب روپے اضافی وصول کیے گئے۔ لیسکو کے بعد پیسکو 1.56 ارب روپے کی اوور بلنگ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔

مزید پڑھیں: پسماندہ سابقہ فاٹا اور پاٹا کا ٹیکس استثنیٰ ختم، کیا یکم جولائی سے ٹیکس کا نفاذ ہوگیا؟

رپورٹ کے مطابق بجلی کی چوری اور لائن لاسز کو چھپانے کے لیے باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کو زیادہ بل بھیجے جاتے ہیں اور صرف شکایت درج کرانے پر ہی رقم کی واپسی یا درستی کا کچھ امکان ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp