بجلی چوری کا توڑ ، حکومت فیڈر کے بجائے ٹرانسفارمز کی سطح پر لوڈ شیڈنگ کی تیاری کررہی ہے : اویس لغاری

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان میں مجموعی طور پر 14 ہزار فیڈرز ہیں، جن میں سے 3 ہزار 400 ایسے ہیں جہاں بجلی چوری زیادہ ہے اور ان فیڈرز پر سالانہ بنیادوں پر اقتصادی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ ان ساڑھے 3 ہزار کے قریب فیڈرز پر 2 گھنٹے سے 12 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سولر بجلی کی استعداد 38 ہزار میگاواٹ کے قریب، 2035 تک 90 فیصد صاف توانائی کا ہدف، اویس لغاری

انہوں نے کہا کہ اقتصادی لوڈشیڈنگ کا مستقل حل یہ ہے کہ فیڈر کی سطح کے بجائے ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ کی جائے، تاکہ جو صارف بجلی کا بل ادا کرتا ہے اسے بجلی ملے اور جو بل ادا نہیں کرتا اسے بجلی نہ دی جائے، جبکہ پورے فیڈر کے صارفین کو سزا نہ بھگتنا پڑے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے تقریباً 60 ارب روپے کی لاگت سے 3 ہزار 400 فیڈرز پر ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ منتقل کرنے کا پروگرام ایک سال میں مکمل کرنے کی ہدایات دی ہیں، جس پر کام شروع ہوچکا ہے۔

اویس لغاری کے مطابق یہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ہوگا کہ ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ کی جائے گی اور اس منصوبے کو اگلے سال اگست تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپریل میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ سامنے آیا تھا، اس وقت پانی سے بجلی کی پیداوار کم تھی جبکہ ایران اور امریکا کی جنگ کے باعث گیس کی فراہمی کے معاملات بھی متاثر ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی پاک، روس تعاون کی نئی علامت بنے گی، اویس لغاری

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایل این جی کا انتظام ہونے کے بعد 28 اپریل کو لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ختم ہوگیا تھا اور مئی، جون اور جولائی کے دوران بھی صورتحال بہتر رہی۔ اس دوران قطر سے معاہدے کے تحت ایل این جی کارگو حاصل کیے گئے جبکہ آبنائے ہرمز میں مسائل کے دوران اسپاٹ پر مہنگی گیس بھی خریدی گئی تاکہ ملک میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ نہ ہو۔

اویس لغاری نے کہا کہ عالمی منڈی میں گیس کی طلب بڑھنے سے اس کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ قطر سے ملنے والا ایک گیس کا جہاز تقریباً 30 ملین ڈالر میں ملتا ہے جبکہ اسی جہاز کو اسپاٹ مارکیٹ سے خریدنے پر تقریباً 85 ملین ڈالر خرچ کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس دو راستے ہیں، یا تو مہنگی گیس خرید کر بجلی کی پیداوار بڑھائی جائے یا رات کے اوقات میں محدود لوڈشیڈنگ کی جائے۔ ان کے مطابق دن کے وقت بجلی چوری والے علاقوں کے علاوہ کہیں لوڈشیڈنگ نہیں کی جارہی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ لاہور کے رائیونڈ میں بھی صبح اور دوپہر کے اوقات میں دو، دو گھنٹے لوڈشیڈنگ کی اطلاع ملی ہے، تاہم رات کے اوقات میں گیس کی کمی کے باعث چند روز تک 3، 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی گئی، جبکہ گزشتہ دو راتوں سے طلب میں کمی کے باعث یہ دورانیہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک رہ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم، ایل این جی کارگو آجانے سے حالات بہتر ہوگئے، اویس لغاری

انہوں نے کہا کہ ملتان اور فیصل آباد میں بھی موسمی حالات کے باعث بعض دنوں میں دو سے ڈھائی گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوئی، تاہم ملک میں کہیں بھی 24 گھنٹے لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی۔

اویس لغاری کا کہنا تھا کہ گرمیوں میں ٹرانسفارمر پر اضافی بوجھ کے باعث خرابی کے چھوٹے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں اور ٹرانسفارمر تبدیل یا مرمت کرنے کے لیے فیڈر کی بجلی کچھ دیر بند کرنا پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مہنگی گیس خرید کر 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے تو 300 سے 400 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو اکتوبر میں 10 سے 15 ہزار روپے اضافی ادا کرنا پڑسکتے ہیں جبکہ بجلی کی قیمت بھی 5 سے 6 روپے فی یونٹ بڑھ سکتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو بچایا جائے اور بجلی کی قیمت کو ایک خاص حد میں رکھا جائے۔ ان کے مطابق عالمی حالات معمول پر آنے اور گیس کی فراہمی بہتر ہونے سے بجلی کی صورتحال بھی معمول پر آجائے گی۔

سولر اور بیٹریوں سے متعلق بھی اہم بات

اویس لغاری نے کہا کہ سولر پینلز کی قیمت کا حکومت سے براہِ راست تعلق نہیں، تاہم حکومت نے سولر کے فروغ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف منتقلی کے باوجود سولر کی تنصیب کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے عوام کو بیٹریوں میں سرمایہ کاری کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ شام کے مہنگے اوقات میں بجلی کے استعمال سے بچنے کے لیے بیٹریوں میں سرمایہ کاری ایک دانشمندانہ اقدام ہے۔

بجلی کے ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے رقم لینے کا معاملہ

وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے ایک صارف کے گاؤں میں ٹرانسفارمر خراب ہونے اور لیسکو کے ملازمین کو مرمت کے عوض 80 ہزار روپے دینے کی شکایت بھی سامنے آئی تھی۔

اویس لغاری کے مطابق انہوں نے خواجہ آصف سے خود بات کی اور معاملہ حل کرلیا گیا، جبکہ متعلقہ عملے کی غلطی پر سخت کارروائی بھی کی گئی۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ بجلی کے شعبے میں کرپشن مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، تاہم حکومت نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران اصلاحات کے ذریعے نمایاں بہتری لانے کی کوشش کی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق حکومت نے صنعت کے بجلی نرخ 18 سینٹ سے کم کرکے 11 سینٹ کیے جبکہ بجلی کے شعبے میں ٹیکس دہندگان پر تقریباً 1100 ارب روپے کا بوجھ کم کرکے 397 ارب روپے تک لایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کے شعبے کے نقصانات بھی 580 ارب روپے سے کم کرکے 325 ارب روپے تک لائے گئے ہیں۔

نئے صوبے اور انتظامی یونٹس کا معاملہ

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو لسانیت یا قومیت کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جانا چاہیے، تاہم نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے انتظامی بنیادوں پر اتفاق رائے پیدا کیا جاسکتا ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان کی یکجہتی، اتحاد اور مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کی پہلی شناخت پاکستانی ہو، اس کے بعد کوئی بلوچ، پشتون، سندھی، پنجابی یا کسی دوسری قوم اور ذات سے تعلق رکھتا ہو۔ آئندہ نئے صوبوں کے حوالے سے جو بھی اتفاق رائے پیدا ہو، وہ انتظامی بنیادوں پر ہونا چاہیے اور پاکستان کو آج اسی بنیاد پر نئے صوبوں کی ضرورت ہے۔

’بہاولپور کا پس منظر اس معاملے میں کچھ مختلف ہے‘

انہوں نے کہا کہ بہاولپور کا پس منظر اس معاملے میں کچھ مختلف ہے۔ جب بہاولپور ریاست پاکستان کا حصہ بنی تھی تو اس کے ساتھ ایک عہد کیا گیا تھا، تاہم ون یونٹ کے قیام کے بعد اور پھر دوبارہ صوبوں کی تشکیل کے وقت بہاولپور کو اس حیثیت میں تسلیم نہیں کیا گیا۔

اویس لغاری نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا اس معاملے پر مؤقف بالکل واضح ہے کہ بہاولپور کو اس کی شناخت ملنی چاہیے اور یہ مطالبہ بھی کسی زبان یا قومیت کی بنیاد پر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہاولپور میں سرائیکی بولنے والوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں دوسرے علاقوں سے آنے والے لوگ بھی آباد ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب کا معاملہ بھی کسی لسانی یا قومیتی بنیاد پر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ جنوبی پنجاب میں بلوچ، اردو بولنے والے، سرائیکی، پنجابی، آرائیں، جاٹ اور دیگر مختلف اقوام آباد ہیں، اس لیے اسے کسی ایک قومیت سے جوڑنا درست نہیں۔

نئے صوبوں کے قیام پر اتفاق رائے برقرار نہیں رہ سکا

اویس لغاری نے کہا کہ بدقسمتی سے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر جو اتفاق رائے پہلے موجود تھا وہ برقرار نہیں رہ سکا۔ ان کے خیال میں شاید پاکستان تحریک انصاف کو یہ بات راس نہیں آتی کہ اس معاملے کا کریڈٹ مسلم لیگ ن کو جائے، اسی لیے وہ کھل کر حمایت نہیں کر رہی۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے منشور میں بہاولپور، جنوبی پنجاب اور ہزارہ کے حوالے سے واضح مؤقف موجود ہے۔ اگر آج مزید انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث ہورہی ہے تو اسے بھی قومی بحث کا حصہ بنانے میں کوئی حرج نہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ کراچی اور دیگر علاقوں کے عوام سے بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے علاقوں کے انتظامی ڈھانچے اور عوامی نمائندگی کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف صوبائی اسمبلیوں کو ہی عوامی خواہشات کے اظہار کا واحد ذریعہ سمجھنے کے بجائے شفاف طریقے سے عوام کی رائے لینے کے دیگر طریقوں پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے ریفرنڈم کے امکان سے متعلق سوال پر کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے آئینی شقوں کا تفصیلی جائزہ نہیں لیا، اس لیے وہ غلط بات نہیں کرنا چاہتے، تاہم یہ معاملہ بھی قومی بحث کا حصہ بن سکتا ہے کہ عوام کی رائے کس طریقے سے حاصل کی جائے اور کس قسم کے طریقہ کار پر لوگوں کو اعتماد ہوگا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مختلف آپشنز پر پارلیمان میں صحت مند قومی بحث کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کیا جاسکتا ہے اور اس کے بعد آئندہ کے اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔

صوبائی مالیاتی کمیشن اور بلدیاتی انتخابات

انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے قیام کے ساتھ صوبائی مالیاتی کمیشن اور بلدیاتی انتخابات جیسے معاملات بھی اہم ہیں۔ قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے صوبوں کو ملنے والے وسائل کی تقسیم کے نظام میں مزید بہتری اور شفافیت لانے کی ضرورت ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ ن اس وقت بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے، تاہم اگر وسائل کی تقسیم میں مزید بہتری اور شفافیت لائی جاسکے تو اس سے عوام کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی مالیاتی کمیشن، بلدیاتی انتخابات اور دیگر متعلقہ معاملات پر بحث کے بعد قومی اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں اس وقت ضرورت ہے کہ سیاسی سطح پر اس معاملے پر کھل کر بحث ہو، پارلیمان میں بھی اس پر گفتگو کی جائے اور جو فیصلہ جماعتی قیادت کرے گی، وہ اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp