روس اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات میں کشیدگی اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ملک بھر میں واقع تمام جرمن ثقافتی مراکز ‘گوئٹے انسٹیٹیوٹ’ (Goethe-Institut) کو بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایسٹرن اکنامک فورم کے دوران گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ قدم جرمنی کی جانب سے بن میں واقع روسی قونصل خانے اور برلن کے ‘رشین ہاؤس’ (ثقافتی مرکز) کو بند کرنے کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے جرمنی نے لیپزگ ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کا الزام روس پر عائد کردیا
انہوں نے کہا کہ جرمن اقدامات کے بعد اس کے جواب کے بغیر خاموش رہنا روس کی ’خودداری‘ کے منافی ہوتا، اور جرمنی کو یہ بخوبی اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ رشین ہاؤس کی بندش کے بعد روس میں اس کی ثقافتی موجودگی کا خاتمہ لازمی ہو جائے گا۔
اس سفارتی تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب برلن انتظامیہ نے ماسکو پر گزشتہ ماہ جرمنی کے لائپزگ/ہالے (Leipzig/Halle) ایئرپورٹ پر ڈرون کے ذریعے حملے کی ناکام کوشش کا الزام عائد کیا۔ اس واقعے کے بعد جرمنی نے تادیبی کارروائی کرتے ہوئے بون میں قائم روسی قونصلیٹ اور برلن کے رشین ہاؤس کو بند کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے روس اور ایران کے خطرات کے پیشِ نظر جرمنی کا خفیہ اداروں کو مزید طاقت دینے کا فیصلہ
روسی فیصلہ نافذ العمل ہونے کے بعد روس کے اہم شہروں ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ اور یکاترنبرگ میں قائم مشہور جرمن تعلیمی و ثقافتی ادارے ‘گوئٹے انسٹیٹیوٹ’ کی شاخیں مکمل طور پر فعال نہیں رہیں گی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے قائم ثقافتی اور تعلیمی روابط کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔














