اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب مقدمات میں ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ کے بجائے آئینی عدالت میں اپیل کا حق دینے سے متعلق ترمیم کے خلاف دائر درخواست میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
عدالت نے نیب آرڈیننس میں سیکشن 32 اے کی شمولیت کے خلاف وفاقی حکومت، سیکرٹری نیشنل اسمبلی، سیکرٹری سینیٹ اور سیکرٹری وزارتِ قانون کو ستمبر کے آخری ہفتے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔
جوڈیشل ایکٹیوزم فورم کی جانب سے دائر اس اہم درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی۔ چونکہ کیس میں پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے، اس لیے عدالت نے قانونی معاونت کے لیے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کر دیا ہے۔
درخواست گزار کے دلائل
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے، جسے محض ایک سادہ قانون سازی یا نیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیے سپریم کورٹ کا اہم آئینی فیصلہ: نیب مقدمات میں اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی
وکیل کا کہنا تھا کہ وفاقی آئینی عدالت کو آئین کے آرٹیکل 175 ایف کے تحت محض آئینی امور کے لیے قائم کیا گیا تھا، مگر سیکشن 32 اے کے ذریعے اب کرمنل نیب کیسز بھی اس کے سپرد کر دیے گئے ہیں جو کہ آئین کے منافی اور واضح تضاد ہے۔
فاضل جج کے استفسارات
سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے وکیل سے استفسار کیا کہ قانون کو کن بنیادوں پر چیلنج کیا گیا ہے اور آیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سادہ قانون سازی کا آئینی اختیارات سے تضاد پیدا ہو رہا ہے؟ جس پر وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت ان کے موقف کو بالکل درست سمجھی ہے۔ وکیل نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں نیب کے سیکشن 32 اے کو چیلنج ہی نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ عدالت آنے سے قبل صدرِ مملکت، وزیراعظم، سینیٹ اور قومی اسمبلی کو تحریری درخواستیں بھیج چکے ہیں کہ یہ ترمیم آئینی حدود سے تجاوز ہے۔
یہ بھی پڑھیے نیب مقدمات سپریم کورٹ سنے یا آئینی عدالت؟ اہم قانونی نکتے پر سماعت کا آغاز
عدالت نے دلائل سننے کے بعد وکیل کو آئین کے آرٹیکل 185 کا جائزہ لینے کی ہدایت کی اور کیس کی مزید سماعت ستمبر کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی۔













