وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو 40 لاکھ افراد کا قافلہ اسلام آباد لانے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، یہ محض میڈیا اور سوشل میڈیا کی توجہ حاصل کرنے اور سنسنی پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے تاہم وفاقی دارالحکومت میں دنگا فساد، سڑکیں اور مارکیٹیں بند کرنے یا شہریوں کی معمولات زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
یہ بھی پڑھیں: ضرورت سے زیادہ اعتماد نقصان دیتا ہے، 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کو 2 سال پیچھے دھکیل دے گا، رانا ثنااللہ
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی اس سے قبل بھی لاکھوں افراد اکٹھے کرنے کے دعوے کرتی رہی ہے لیکن لاکھوں تو دور کی بات ہزاروں کی تعداد میں بھی لوگ جمع نہیں کرسکی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بار بھی دعوے کا آغاز 20 لاکھ افراد سے ہوا اور اب یہ تعداد 40 لاکھ تک پہنچ گئی ہے ممکن ہے اگلے ہفتے یہ دعویٰ 60 لاکھ تک جا پہنچے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے یہ بلند و بانگ دعوے محض میڈیا کی توجہ حاصل کرنے اور سوشل میڈیا پر سنسنی پیدا کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی پی ٹی آئی کوئی بڑا اجتماع نہیں کرسکی اور اس مرتبہ بھی ایسے کسی بڑے اجتماع کی توقع نہیں۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی جب خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی جانب ہجوم لاتی ہے تو اس میں وہی لوگ شامل ہوتے ہیں جو پہلے بھی اس کے ساتھ آتے رہے ہیں جبکہ اکثر سرکاری ملازمین اور سرکاری وسائل کے استعمال کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج کرنا ہے تو ضرور کریں کسی کو اپنے حقِ احتجاج سے روکا نہیں جاسکتا لیکن احتجاج کے لیے اسلام آباد کو مفلوج کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ خیبرپختونخوا بھی پاکستان کا حصہ ہے، وہاں بھی احتجاج کیا جاسکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایسی کیا ضرورت ہے کہ اسلام آباد آکر سڑکیں بند کردی جائیں، مارکیٹیں اور تعلیمی ادارے بند ہوں اور شہریوں کے کاروبار، روزگار اور معمولاتِ زندگی متاثر ہوں۔ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے لیکن کسی کو اس حق کی آڑ میں دوسرے شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی ماضی کی تاریخ یہی رہی ہے کہ پرامن احتجاج کے نام پر مظاہرے پرتشدد صورت اختیار کرتے رہے جن میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی جان سے گئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں دنگا فساد کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
مزید پڑھیے: سہیل آفریدی کی 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی کال، پی ٹی آئی میں اختلافات نمایاں
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی بڑا جلوس نکالنا چاہتی ہے تو اپنے صوبے میں نکالے، اسلام آباد کو بند کرنے کی ضرورت نہیں۔
عمران خان کی رہائی اور مذاکرات
عمران خان کی رہائی سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کے خلاف جاری تمام قانونی کارروائی قانون کے مطابق ہوگی اور سزائیں بھی عدالتیں ہی دیتی ہیں۔ عمران خان کسی انتظامی حکم کے تحت جیل میں نہیں ہیں اس لیے اگر انہیں ضمانت یا مقدمات میں کوئی ریلیف ملتا ہے تو وہ بھی عدالتوں ہی سے ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح ہماری قیادت کو عدالتوں سے ضمانتیں اور قانونی ریلیف ملا اسی طرح عمران خان کو بھی عدالتوں سے ہی ریلیف مل سکتا ہے۔
مذاکرات سے متعلق قیاس آرائیوں پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے جو خبریں یا دعوے سامنے آتے رہتے ہیں ان میں سے بہت سی باتیں صرف میڈیا کی زینت بنتی ہیں۔ حقیقت میں عمران خان یا پی ٹی آئی کے ساتھ کسی قسم کا بیک ڈور چینل یا پسِ پردہ مذاکرات نہیں ہورہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی کے فلور پر ایک سے زیادہ مرتبہ پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔ وزیراعظم نے کابینہ کے آخری اجلاس میں بھی واضح کیا کہ حکومت اپوزیشن کے خدشات اور گلے شکوے سننے کے لیے بیٹھنے کو تیار ہے اور اپوزیشن لیڈر سمیت دیگر سیاسی قیادت کے ساتھ بات چیت کی جاسکتی ہے۔
عمران خان کو سپریم کورٹ پیش نہ کیے جانے کا معاملہ
عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود جیل سے لاکر پیش نہ کیے جانے سے متعلق سوال پر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ انہیں سیکیورٹی کلیئرنس نہیں دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو عدالت میں پیش نہ کیے جانے کی وجوہات سپریم کورٹ کے سامنے رکھی جائیں گی اور شواہد کی بنیاد پر بتایا جائے گا کہ انہیں وہاں کیوں نہیں لایا جاسکا۔
عمران خان کی اپنے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات نہ ہونے سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ہفتے میں 2 مرتبہ ان کی اپنے بیٹوں سے بات کرانے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق دونوں مرتبہ کوشش کی گئی تاہم ممکنہ طور پر دوسری جانب فون میں کوئی مسئلہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عمران خان کی ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کی دو کوششوں کا معاملہ پہلے ہی میڈیا میں آچکا ہے۔
نئے صوبوں کا قیام
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر صوبے بنانے کا فیصلہ اتفاقِ رائے سے ہونا ہے تو یہ ممکن نہیں کہ 3 صوبوں میں نئے صوبے بنانے کی بات کی جائے اور ایک صوبے کو اس بحث سے الگ رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو اس تاثر سے باہر نکلنا ہوگا کہ نئے صوبوں کا قیام پیپلز پارٹی کے خلاف کوئی سازش ہے۔ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ اتفاقِ رائے سے ہوگا، چاروں صوبوں کے لیے ہوگا پاکستان کے مفاد میں ہوگا اور عوام کی بہتری کے لیے ہوگا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اس معاملے پر ضرور بیٹھ کر بات کرنی چاہیے تاہم عوام بھی اس بحث کے اہم فریق ہیں اور ان کی رائے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
مزید پڑھیں: 27 ستمبر کے احتجاج سے متعلق سہیل آفریدی نے پارٹی اراکین سے کوئی مشاورت نہیں کی، حاجی فضل الٰہی
ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے لیے نمبرز پورے کرنے یا کسی مخصوص جماعت کو شامل کرنے کا معاملہ بعد میں آئے گا۔ اس وقت بنیادی سوال یہ ہے کہ ملک میں نئے صوبے بننے چاہییں یا نہیں اگر بننے چاہییں تو ان کے فوائد کیا ہوں گے، وہ کس بنیاد پر بنیں گے اور اس کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ ان معاملات پر اگلے مرحلے میں بات کی جاسکتی ہے۔
پمز واقعہ، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی
پمز واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف وزیراعظم کی جانب سے فوجداری مقدمات درج کرنے کی ہدایت کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ فوجداری ضابطے کے تحت تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر پولیس ایف آئی آر درج کرتی ہے اور اس میں متعلقہ دفعات شامل کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی فرد کے خلاف فوجداری دفعہ عائد کرنے سے پہلے یہ تعین کرنا ضروری ہے کہ اس کی غفلت کس نوعیت کی تھی اور واقعے میں اس کا کیا کردار یا ذمہ داری بنتی ہے۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق انکوائری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر آٹھ افراد کو معطل کیا جاچکا ہے اور انہیں ملازمت سے بھی برخاست کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کس شخص کی کہاں اور کتنی غفلت ہے اس کا حتمی تعین انکوائری کمیٹی اپنی مکمل رپورٹ میں کرے گی۔ حتمی رپورٹ آئندہ دو سے تین روز میں آنے کی توقع ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حتمی انکوائری رپورٹ کے بعد پولیس کی تحقیقات کو بھی سامنے رکھا جائے گا اور ذمہ دار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائیں گی۔ ان کے مطابق ہر شخص کے خلاف اس کی ذمہ داری اور غفلت کی نوعیت کے مطابق الگ الگ دفعات عائد ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیے: بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم
انہوں نے کہا کہ فوجداری کارروائی کے دوران پہلے پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کیا جاتا ہے، اس کے بعد گرفتاری سمیت دیگر قانونی کارروائیاں عمل میں آتی ہیں اور بالآخر مقدمہ عدالت میں ٹرائل کے مرحلے میں جاتا ہے۔












