کینابس گمیز کے بعد ڈرائیونگ خطرناک، خون کا ٹیسٹ بھی نشہ پکڑنے میں ناکام

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نئی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ کینابس یا مریجوانا سے بنی گمیز کھانے کے بعد ڈرائیونگ کئی گھنٹوں تک خطرناک حد تک متاثر ہوسکتی ہے، مگر حیران کن طور پر خون کا عام ’ٹی ایچ سی‘ ٹیسٹ بعض ایسے ڈرائیوروں کو نشے میں ظاہر نہیں کرتا۔

فاکس نیوز کے مطابق ’جاما نیٹ ورک اوپن‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں ٹورنٹو کے سینٹر فار ایڈکشن اینڈ مینٹل ہیلتھ کے ماہرین نے 40 ایسے صحت مند بالغ افراد کو شامل کیا جو باقاعدگی سے کینابس استعمال کرتے تھے۔ شرکا کو مختلف مواقع پر صفر، 2، 10 اور 20 ملی گرام ’ٹی ایچ سی‘ والی گمیز دی گئیں، جس کے بعد انہیں ڈرائیونگ سمیولیٹر پر آزمایا گیا۔

تحقیق کے دوران 2، 5 اور 24 گھنٹے بعد ڈرائیونگ کی صلاحیت جانچی گئی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ 10 اور 20 ملی گرام ’ٹی ایچ سی‘ لینے والے افراد 2 اور 5 گھنٹے بعد گاڑی کو لین میں برقرار رکھنے میں زیادہ مشکلات کا شکار رہے۔ 20 ملی گرام والی گمی لینے والوں کے ردعمل کا وقت بھی سست ہوا اور وہ رفتار کو مستقل رکھنے میں کم کامیاب رہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان افراد کے خون میں ’ٹی ایچ سی‘ کی مقدار عام طور پر استعمال ہونے والی 5 نینوگرام فی ملی لیٹر کی حد سے کم تھی۔ اس کے باوجود ان کی ڈرائیونگ واضح طور پر متاثر ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا وہ علاقہ جہاں ہر مرض کا علاج افیون ہے

ماہرین کے مطابق کینابس گمیز جسم میں دھوئیں کے ذریعے استعمال کی جانے والی کینابس کے مقابلے میں زیادہ آہستگی سے جذب ہوتی ہیں، جس کے باعث خون میں ’ٹی ایچ سی‘ کی سطح کم ہونے کے باوجود اثرات برقرار رہ سکتے ہیں۔

تحقیق میں شامل افراد نے خود بھی اپنی ڈرائیونگ کی صلاحیت میں کمی محسوس کی اور گمیز لینے کے بعد گاڑی چلانے میں کم اعتماد کا اظہار کیا۔

تاہم محققین نے واضح کیا کہ تحقیق حقیقی سڑکوں کے بجائے ڈرائیونگ سمیولیٹر میں کی گئی اور اس میں باقاعدگی سے کینابس استعمال کرنے والے افراد شامل تھے، اس لیے نتائج ہر شخص پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیے جاسکتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp