نئی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ کینابس یا مریجوانا سے بنی گمیز کھانے کے بعد ڈرائیونگ کئی گھنٹوں تک خطرناک حد تک متاثر ہوسکتی ہے، مگر حیران کن طور پر خون کا عام ’ٹی ایچ سی‘ ٹیسٹ بعض ایسے ڈرائیوروں کو نشے میں ظاہر نہیں کرتا۔
فاکس نیوز کے مطابق ’جاما نیٹ ورک اوپن‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں ٹورنٹو کے سینٹر فار ایڈکشن اینڈ مینٹل ہیلتھ کے ماہرین نے 40 ایسے صحت مند بالغ افراد کو شامل کیا جو باقاعدگی سے کینابس استعمال کرتے تھے۔ شرکا کو مختلف مواقع پر صفر، 2، 10 اور 20 ملی گرام ’ٹی ایچ سی‘ والی گمیز دی گئیں، جس کے بعد انہیں ڈرائیونگ سمیولیٹر پر آزمایا گیا۔
Study Finds Saliva THC Tests Can Miss Recent Marijuana Use While Detecting Frequent Users for Nearly a Weekhttps://t.co/21hiFIJ2gv
— Veronica (@Veronica2twit1) September 3, 2026
تحقیق کے دوران 2، 5 اور 24 گھنٹے بعد ڈرائیونگ کی صلاحیت جانچی گئی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ 10 اور 20 ملی گرام ’ٹی ایچ سی‘ لینے والے افراد 2 اور 5 گھنٹے بعد گاڑی کو لین میں برقرار رکھنے میں زیادہ مشکلات کا شکار رہے۔ 20 ملی گرام والی گمی لینے والوں کے ردعمل کا وقت بھی سست ہوا اور وہ رفتار کو مستقل رکھنے میں کم کامیاب رہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان افراد کے خون میں ’ٹی ایچ سی‘ کی مقدار عام طور پر استعمال ہونے والی 5 نینوگرام فی ملی لیٹر کی حد سے کم تھی۔ اس کے باوجود ان کی ڈرائیونگ واضح طور پر متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا وہ علاقہ جہاں ہر مرض کا علاج افیون ہے
ماہرین کے مطابق کینابس گمیز جسم میں دھوئیں کے ذریعے استعمال کی جانے والی کینابس کے مقابلے میں زیادہ آہستگی سے جذب ہوتی ہیں، جس کے باعث خون میں ’ٹی ایچ سی‘ کی سطح کم ہونے کے باوجود اثرات برقرار رہ سکتے ہیں۔
تحقیق میں شامل افراد نے خود بھی اپنی ڈرائیونگ کی صلاحیت میں کمی محسوس کی اور گمیز لینے کے بعد گاڑی چلانے میں کم اعتماد کا اظہار کیا۔

تاہم محققین نے واضح کیا کہ تحقیق حقیقی سڑکوں کے بجائے ڈرائیونگ سمیولیٹر میں کی گئی اور اس میں باقاعدگی سے کینابس استعمال کرنے والے افراد شامل تھے، اس لیے نتائج ہر شخص پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیے جاسکتے۔














