امریکا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس نگرانی کے کیمروں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر شہریوں کے تحفظات میں اضافہ ہوگیا ہے اور مختلف علاقوں میں ایسے کیمروں کو نقصان پہنچانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن کے تاریخی اور خوشحال رہائشی علاقے اولڈ بریز وڈ میں جولائی کے اواخر میں رات کے وقت نگرانی کے 4 کیمروں کو کاٹ کر گرا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں نگرانی کا پھیلتا جال، شہریوں کی ہر نقل و حرکت ریکارڈ ہونے لگی
کیمروں کے دھاتی کھمبے کاٹ دیے گئے جبکہ کیمرے اور ان سے منسلک سولر پینلز زمین پر پڑے ملے۔ بعض کیمروں پر 24 گھنٹے ویڈیو ریکارڈنگ سے متعلق انتباہی نوٹس بھی موجود تھے۔
یہ کیمرے امریکی کمپنی ’فلوک سیفٹی‘ کے ہیں، جو مصنوعی ذہانت سے چلنے والے خودکار نمبر پلیٹ شناختی کیمروں کے ذریعے گاڑیوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کرتی ہے۔
The DeFlock movement is pushing back against AI mass surveillance in the U.S., and the resistance is turning physical.
Across the country, Flock Cameras are being installed at a rapid pace. While marketed as tools to solve crimes, privacy advocates warn that these systems are… pic.twitter.com/SeBOJQPb3H
— Cybernews (@Cybernews) August 30, 2026
رپورٹ کے مطابق ایسے کیمروں کے خلاف تخریب کاری کے واقعات مینیسوٹا، کیلیفورنیا اور جارجیا سمیت دیگر امریکی ریاستوں میں بھی پیش آ چکے ہیں۔
فلاک سیفٹی کا مؤقف ہے کہ اس کا نظام جرائم کی روک تھام اور تحقیقات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں جرائم کو حل کرنے کی شرح میں بہتری آئی ہے۔
کمپنی کے مطابق وہ امریکا بھر میں 7 ہزار سے زائد کمیونٹیز کے ساتھ کام کر رہی ہے اور ملک میں اس کے تقریباً ایک لاکھ کیمرے نصب ہیں۔
Hall County Sheriff just ripped Flock Safety after their own audit: 3 deputies FIRED, 4 resigned for abusing the license plate cameras.
758 searches reviewed. 85 flagged as suspicious.
Sheriff Gerald Couch: “Law enforcement failed. Flock failed from the beginning. If your… pic.twitter.com/Qacxk4MCBC
— Kacee Allen (@KaceeRAllen) September 5, 2026
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی شہریوں کی پرائیویسی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
ان کے مطابق سڑکوں سے گزرنے والی ہر گاڑی کی معلومات جمع کرنا نگرانی کے ایک ایسے وسیع نظام کو جنم دے رہا ہے جس کے استعمال اور معلومات تک رسائی کے بارے میں شفافیت کے سوالات موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: اے آئی یا منافع کا انقلاب؟ امریکی معیشت کے اعداد و شمار نے سوال اٹھا دیے
رپورٹ کے مطابق ہیوسٹن میں نگرانی کا یہ نیٹ ورک صرف نمبر پلیٹ کی شناخت تک محدود نہیں بلکہ بعض مقامات پر متنازع چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے استعمال کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
یوں امریکا میں سیکیورٹی اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن کا سوال ایک بار پھر اہم بحث بن گیا ہے، جہاں ایک جانب حکام جرائم سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہیں تو دوسری جانب شہری گروہ وسیع پیمانے پر نگرانی کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔














