وفاقی دارالحکومت کے علاقے سہالہ میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی مین آئل پائپ لائن سے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ڈیزل چوری کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا ہے، ایک کارروائی گزشتہ رات جبکہ ایک 16 جولائی 2026 کو پکڑی گئی تھی، ایف آئی اے اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں 2 مبینہ ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا گیا، جبکہ کارروائی کے دوران 2 شہزور گاڑیاں، تیل سے بھرے ڈرم اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا گیا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق کارروائی سہالہ کے علاقے بھاگہ، جمپ اسٹاپ کے قریب خفیہ اطلاع پر کی گئی۔ ابتدائی تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزمان نے پی ایس او اور اے آر ایل سہالہ کی جانب آنے والی مین پائپ لائن سے ڈیزل نکالنے کے لیے باقاعدہ ایک خفیہ زیرِ زمین لائن بچھا رکھی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون 7 مہینوں تک مفت پیٹرول بھرتی رہی، اسٹیشن کو 79 لاکھ کا ٹیکہ
حکام کے مطابق مبینہ طور پر یہ نیٹ ورک گزشتہ کئی ماہ سے سرگرم تھا اور مین پائپ لائن سے ڈیزل نکال کر اسے ڈرموں اور گاڑیوں میں منتقل کیا جاتا، جس کے بعد مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر فروخت کیا جاتا تھا۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمان روزانہ تقریباً 20 ہزار لیٹر ڈیزل پائپ لائن سے نکالتے تھے۔ حکام کے مطابق اس بڑے پیمانے پر چوری کے باعث قومی خزانے اور پی ایس او کو بھاری مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ تاہم نقصان کی حتمی مالیت کا تعین تحقیقات اور ریکارڈ کی جانچ مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
کارروائی کے دوران تیل کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والی 2 شہزور گاڑیاں تحویل میں لے لی گئیں۔ گاڑیوں میں متعدد ڈرم اور تیل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ٹینک موجود تھے۔ تفتیشی ٹیم نے مبینہ غیر قانونی زیرِ زمین پائپ لائن بھی قبضے میں لے کر اس کے ذریعے تیل چوری کیے جانے کے طریقہ کار کا جائزہ شروع کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملزمان نے مین لائن سے تیل نکالنے کے بعد اسے مرکزی سڑک کی دوسری جانب منتقل کرنے کے لیے زیرِ زمین لائن بچھائی تھی۔ موجودہ کارروائی میں سامنے آنے والی خفیہ لائن مین روڈ عبور کرکے دوسری جانب تقریباً ڈیڑھ سو فٹ تک لے جائی گئی تھی، جہاں سے مبینہ طور پر چوری شدہ ڈیزل گاڑیوں اور ڈرموں میں منتقل کیا جاتا تھا۔
ڈیزل چوری پکڑے جانے کی دلچسپ کڑی
ذرائع کے مطابق مبینہ چوری کا سراغ معمول کی سپلائی اور استعمال کے ریکارڈ میں فرق سامنے آنے کے بعد ملا۔ ایک موقع پر ڈپو کی جانب سے مین لائن کے ذریعے ڈیزل منگوایا گیا، تاہم آگے اس مقدار میں ڈیزل استعمال نہیں کیا گیا۔ اس دوران لائن میں موجود ڈیزل کا ایک حصہ مبینہ طور پر خفیہ لائن کے ذریعے نکال لیا گیا۔
بعد ازاں جب ڈیزل کی مقدار کا حساب اور ریکارڈ چیک کیا گیا تو موصول ہونے والی مقدار میں واضح فرق سامنے آیا۔ اس تضاد نے حکام کو شبہ میں مبتلا کیا، جس کے بعد مین لائن اور اس کے اطراف کی جانچ شروع کی گئی۔
تحقیقات کے دوران پائپ لائن میں مبینہ طور پر غیر قانونی سوراخ اور اس سے منسلک خفیہ لائن کا سراغ ملا۔ حکام نے اس کے بعد نگرانی اور تفتیش کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ پائپ لائن سے تیل کس مقام پر اور کس طریقے سے نکالا جا رہا ہے۔ بالآخر مشترکہ کارروائی کے دوران 2 مبینہ ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: تیل کی ترسیل ٹرانسپورٹ کے بجائے پائپ لائن کے ذریعے کی جائے گی، حکومت کا بڑا منصوبہ سامنے آگیا
یہ پہلا موقع نہیں کہ سہالہ کے علاقے میں پی ایس او کی پائپ لائن سے مبینہ تیل چوری کا معاملہ سامنے آیا ہو۔ 16 جولائی کو بھی اسی نوعیت کی کارروائی میں ڈیزل چوری کا ایک واقعہ پکڑا گیا تھا، جس میں تقریباً 7 کروڑ 48 لاکھ روپے مالیت کے ڈیزل کی مبینہ چوری کا معاملہ سامنے آیا تھا۔
اس واقعے کے دوران بھی تیل کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی اور دیگر سامان تفتیش کا حصہ بنایا گیا تھا۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس کیس میں سامنے آنے والی خفیہ لائن کی لمبائی تقریباً 900 میٹر، یعنی قریب ایک کلومیٹر تھی۔
موجودہ کارروائی میں سامنے آنے والی خفیہ لائن اس سے مختلف مقام اور سمت میں 700 میٹر تک بچھائی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس مرتبہ پائپ لائن کو مرکزی سڑک کی دوسری جانب منتقل کرکے تقریباً ڈیڑھ سو فٹ تک لے جایا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مبینہ ملزمان نے تیل کی غیرقانونی منتقلی کے لیے زیرِ زمین راستے کا منظم انتظام کیا ہوا تھا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مبینہ نیٹ ورک گزشتہ 5 سے 6 ماہ سے سرگرم تھا۔ روزانہ تقریباً 20 ہزار لیٹر ڈیزل نکالے جانے کے دعوے نے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کردیا ہے۔
حکام اب یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ مبینہ طور پر چوری کیا جانے والا ڈیزل کہاں منتقل کیا جاتا تھا، اس کی خرید و فروخت میں مزید کون لوگ ملوث تھے اور آیا اس نیٹ ورک کی سرگرمیاں 16 جولائی کو سامنے آنے والے واقعے سے کسی طور منسلک ہیں یا نہیں۔
ایف آئی اے اور پولیس نے قبضے میں لیے گئے ڈرموں، ٹینکوں، گاڑیوں اور خفیہ پائپ لائن کا معائنہ شروع کردیا ہے، جبکہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چوری شدہ ڈیزل کی مجموعی مقدار، مالی نقصان اور نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد کے بارے میں مزید حقائق سامنے آنے کا امکان ہے۔













