اسرائیلی فوجی کو اشتہاری مہم کا چہرہ بنانے پر ایڈیڈاس کو شدید تنقید کا سامنا، بائیکاٹ کی اپیلیں

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسپورٹس مصنوعات بنانے والی کمپنی ایڈیڈاس کو اسرائیلی فوجی کو اپنی ’سنگل شو سروس‘ کی تشہیری مہم کا چہرہ بنانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ متعدد افراد نے کمپنی کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے یہ سروس جنوری میں اسرائیل میں شروع کی گئی تھی، جس کا مقصد ٹانگ سے محروم افراد کے لیے جوتوں کی خریداری کو آسان بنانا ہے۔ اس سروس کے تحت صارفین کو دونوں کے بجائے صرف مطلوبہ ایک جوتا خریدنے کی سہولت دی جاتی ہے، جس کی قیمت نصف رکھی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ میں پاکستان کی موجودگی، سرکاری گیند سیالکوٹ کے ہنر کا شاہکار

تاہم ایڈیڈاس نے اپنی تشہیری مہم کی ایک ویڈیو میں شالیو بٹون نامی اسرائیلی فوجی کو شامل کیا، جو 2021 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے دوران اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہوا تھا۔

فلسطینی نژاد امریکی مصنفہ اور سماجی کارکن سوزن ابو الہوا نے ایڈیڈاس کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ میں جدید تاریخ میں آبادی کے تناسب سے بچوں کے اعضا کاٹنے کے سب سے زیادہ واقعات کا ذمہ دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے اچھے لوگوں کو ایڈیڈاس کو یہ بتانا چاہیے کہ اس نے نسل کشی کی حمایت کرنے والا ایک انتہائی نقصان دہ فیصلہ کیا ہے۔

پاکستانی مصنفہ اور کالم نگار فاطمہ بھٹو سمیت متعدد افراد نے بھی ایڈیڈاس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں عالمی معیار کے اسپورٹس جوتے تیار ہوں گے، فارورڈ اسپورٹس اور چینی کمپنی کے درمیان معاہدہ

ہسپانوی نژاد مراکشی کھیلوں کی صحافی لیلا حامد نے کہا کہ اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 5 ہزار سے زائد افراد کے اعضا کاٹنے کی ضرورت پیش آنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، جن میں سے بہت سے واقعات ایسے فوجیوں کے حملوں کے نتیجے میں ہوئے جن میں ایڈیڈاس نے اپنے اشتہار کے لیے منتخب کیے گئے فوجی بھی شامل ہیں۔

ایڈیڈاس اس سے قبل بھی اسرائیل سے تعلق کے حوالے سے تنازع کا سامنا کر چکی ہے۔ 2024 میں کمپنی نے فلسطینی نژاد امریکی ماڈل بیلا حدید سے معذرت کی تھی، جنہوں نے 1972 کے میونخ اولمپکس سے متاثر ایک متنازع اشتہاری مہم پر قانونی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

اقوام متحدہ نے جولائی میں جاری رپورٹ میں بتایا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کے بعد مقبوضہ فلسطینی علاقے، بشمول مشرقی یروشلم، میں اسرائیل کے ہاتھوں کم از کم 20 ہزار 179 بچے جاں بحق اور 44 ہزار 143 بچے زخمی ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp