ایئر وائس مارشل حسن فیصل نے کہا ہے کہ پاک فضائیہ نے گزشتہ سال بھارتی جارحیت کا منہ توڑ اور مؤثر جواب دے کر ثابت کردیا کہ ملک کی فضائی حدود کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے تاہم ملکی خودمختاری اور سلامتی پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ملک بھر میں آج یومِ دفاع و شہدا 1965 کی جنگ میں پاک فوج اور قوم کی جانب سے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی یاد میں قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں کراچی میں مزارِ قائد پر خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں پاکستان ایئر فورس اکیڈمی اصغر خان کے کیڈٹس نے گارڈز کے فرائض سنبھالے۔
تقریب کے مہمان خصوصی ایئر کمانڈنگ پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان، ایئر وائس مارشل حسن فیصل تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے ہمیشہ قوم کی امیدوں پر پورا اترتے ہوئے ہر مشکل وقت میں ملک و قوم کی خدمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یوم دفاع پاکستان قربانی، یکجہتی اور حوصلے کی علامت ہے، سعودی پریس اتاشی کا پیغام
ایئر وائس مارشل حسن فیصل نے کہا کہ فضائی حدود کا دفاع پاک فضائیہ کے مضبوط ہاتھوں میں ہے اور سربراہ پاک فضائیہ کی قیادت میں جدید ٹیکنالوجی اور جدید ترین دفاعی نظام کے ذریعے ملکی فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بھارتی جارحیت کے دوران پاک فضائیہ نے بھرپور اور مؤثر جواب دیا، جس سے یہ بات ایک بار پھر ثابت ہوئی کہ پاکستان اپنی فضائی حدود اور قومی سلامتی کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم ملکی خودمختاری، سلامتی اور دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ایئر وائس مارشل حسن فیصل نے وطن کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے شہدا کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور ان کی قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے عزم، حوصلے اور حب الوطنی کی مثال ہیں۔
واضح رہے کہ آج سے 61 سال قبل 6 ستمبر 1965 کو بھارت نے پاکستان کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، جس کے دوران پاکستانی قوم اور مسلح افواج نے متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ یومِ دفاع و شہدا ہر سال اسی قومی اتحاد، بہادری اور قربانی کی یاد تازہ کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔














