پاکستان آرمی کے نوجوان افسر لیفٹیننٹ رانا عثمان کے مبینہ قتل کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزمان کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد ہائیکورٹ سے بریت نے پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق لیفٹیننٹ رانا عثمان کو تقریباً 3 سال قبل فوج میں پاس آؤٹ ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد، جوائننگ ٹائم کے دوران مبینہ طور پر قتل کردیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد مقدمہ درج ہوا اور تفتیش و عدالتی کارروائی کا سلسلہ آگے بڑھا۔ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے بعد ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی، تاہم بعد ازاں ہائیکورٹ نے انہیں بری کردیا۔
مقدمے کے فیصلوں میں سامنے آنے والے اس تضاد نے کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایک ہی قتل کیس میں ایک عدالت کی جانب سے سزائے موت اور اپیل پر دوسری عدالت کی جانب سے بریت اس امر کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ تفتیش، استغاثہ اور عدالتی کارروائی کے مختلف مراحل کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا ملکی نظام انصاف میں اصلاحات کے لیے اقوامِ متحدہ کے تعاون پر زور
فوجداری مقدمات میں کسی ملزم کو سزا دینے کے لیے شواہد کا قانونی معیار پر پورا اترنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر کسی مقدمے میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اپیل کے مرحلے پر برقرار نہیں رہتا تو صرف ملزمان کی بریت پر بات ختم نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ مقدمے کی تفتیش یا پراسیکیوشن میں کہاں ایسی خامی رہ گئی جس کے باعث ایک سنگین قتل کا مقدمہ اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا۔
ایسے معاملات میں کمزور تفتیش، شواہد کی ناقص دستاویز بندی، قانونی تقاضوں کی تکمیل میں کوتاہی یا استغاثہ کی کمزور تیاری مقدمے کے نتیجے پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ اس کا نقصان صرف ریاستی اداروں کی ساکھ کو نہیں پہنچتا بلکہ مقتول کے اہل خانہ کو بھی انصاف کے حصول کے لیے طویل اور تکلیف دہ قانونی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔
لیفٹیننٹ رانا عثمان کے کیس نے یہ سوال بھی نمایاں کردیا ہے کہ اگر کسی قتل کے مقدمے میں سزا اپیل پر ختم ہوجائے تو ادارہ جاتی سطح پر اس کی وجوہات کا تعین کون کرے گا۔ متاثرہ خاندان کو محض قانونی پیچیدگیوں اور ادارہ جاتی کمزوریوں کے نتائج بھگتنے کے لیے نہیں چھوڑا جاسکتا۔
سنگین فوجداری مقدمات میں ایسے متضاد فیصلے عوام کے نظامِ انصاف پر اعتماد کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ مقدمے کے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے لیا جائے اور اگر تفتیش یا پراسیکیوشن میں کوئی کوتاہی سامنے آتی ہے تو اس کی ذمہ داری کا بھی تعین کیا جائے۔
لیفٹیننٹ رانا عثمان کے اہل خانہ کے لیے انصاف صرف کسی ایک عدالت کے فیصلے کا نام نہیں بلکہ انہیں واقعے کے حقائق، قانونی عمل اور مقدمے کے انجام کے بارے میں واضح جوابات اور قانون کے مطابق حتمی انصاف کا حق بھی حاصل ہے۔ یہی معاملہ اس وسیع تر سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ پاکستان کا فوجداری نظام سنگین جرائم کے مقدمات میں متاثرین کو مؤثر اور قابلِ اعتماد انصاف فراہم کرنے میں کہاں کھڑا ہے۔














