قوموں کا دفاع محض جغرافیہ نہیں کرتا بلکہ ان کی خودمختاری اس وقت محفوظ رہتی ہے جب ملک کی دفاعی ذمہ داریاں سنبھالنے والے افراد جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت، حوصلہ اور عزم رکھتے ہوں۔
پاکستان کے لیے یومِ دفاع صرف 1965 کی جنگ کی یاد تازہ کرنے کا دن نہیں بلکہ قومی عزم کی تجدید کا موقع بھی ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے اور 2025 کے معرکۂ حق میں ایک بار پھر نمایاں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: یومِ دفاع و شہدا: عسکری قیادت کا شہدا کو خراج عقیدت، کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان
1947 میں پاکستان کے قیام کے وقت ملک کو ایک مشکل سیکیورٹی ماحول اور محدود وسائل کا سامنا تھا، نئی ریاست کی مسلح افواج کو ایک بڑے ہمسایہ ملک کے مقابلے میں تقریباً ازسرنو اپنی دفاعی صلاحیتیں تشکیل دینا پڑیں۔
تاہم محدود وسائل بھی ملک کے دفاع کے عزم کو کم نہ کر سکے، پیشہ ورانہ تربیت، ادارہ جاتی ترقی اور دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل اضافے کے ذریعے پاکستان کی مسلح افواج نے خود کو ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد جنگی قوت میں تبدیل کیا۔

ستمبر 1965 میں اس صلاحیت کا سب سے بڑا امتحان ہوا، جب بھارت نے بڑے پیمانے پر حملہ کیا۔ پاک فوج نے لاہور کی جانب بھارتی پیش قدمی کا مقابلہ کیا جبکہ سیالکوٹ کے محاذ پر بھی بہادری سے دشمن کا سامنا کیا۔
پاک فضائیہ نے فضاؤں میں مؤثر دفاع کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کو نمایاں نقصان پہنچایا۔ سمندر میں پاک بحریہ نے بھی فعال جنگی کردار ادا کیا اور پاکستان کی بحری حدود کا دفاع کرتے ہوئے دشمن کے خلاف پیش قدمی کی
1965 کی جنگ میں پاک بحریہ کی نمایاں کارروائی ’’آپریشن دوارکا‘‘ تھی، جسے ’’آپریشن سومناتھ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: ’اے وطن تیرے صدقے اتارے گئے‘، یوم دفاع پاکستان پر نیا ترانہ جاری
7 اور 8 ستمبر 1965 کی درمیانی شب پاک بحریہ کے جنگی جہازوں کو، جن میں پی این ایس بابر، خیبر، بدر، جہانگیر، عالمگیر، شاہجہاں اور ٹیپو سلطان شامل تھے، بھارتی ساحلی شہر دوارکا پر حملے کا مشن سونپا گیا، دوارکا کراچی سے 300 کلومیٹر سے زیادہ جنوب مشرق میں واقع ہے۔
آپریشن کے واضح فوجی مقاصد تھے: دوارکا میں موجود ریڈار تنصیب کو نشانہ بنانا، بھارتی فضائیہ کی توجہ شمالی محاذ سے ہٹانا اور بھارتی بحریہ کے بڑے جنگی جہازوں کو بمبئی سے باہر نکلنے پر مجبور کرنا تاکہ پاک بحریہ کی آبدوز پی این ایس/ایم غازی کو دشمن کی بحری نقل و حرکت کے خلاف کارروائی کا موقع مل سکے۔
آپریشن کامیابی سے مکمل کیا گیا اور بحری دستہ اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے کے بعد منصوبے کے مطابق واپس لوٹ آیا، تمام جہاز بحفاظت کراچی پہنچے اور کسی قسم کے نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

اس دوران پاک بحریہ نے کراچی کے اطراف سمندری راستوں پر گشت جاری رکھا جبکہ پی این ایس/ایم غازی کو بھارتی بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور اسے روکنے کے لیے تعینات کیا گیا۔
چھ دہائیوں بعد، 2025 میں جنگی ماحول اور دفاعی ٹیکنالوجی کی نوعیت نمایاں طور پر تبدیل ہو چکی تھی، ’معرکۂ حق‘ نے پاکستان کو ایک ایسے نئے طرز کے تصادم کا سامنا کرایا جس میں جدید درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں، بغیر پائلٹ نظام، الیکٹرانک وارفیئر، طویل فاصلے تک نگرانی اور جدید فضائی و بحری صلاحیتوں نے اہم کردار ادا کیا۔
پاک بحریہ کے لیے بحری محاذ کی اہمیت میدانِ جنگ سے کہیں وسیع ہے، پاکستان کی بندرگاہیں اور سمندری تجارتی راستے ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں، جو ملک کو عالمی منڈیوں سے جوڑتے اور ضروری تجارتی و توانائی کی اشیا کی ترسیل یقینی بناتے ہیں، چنانچہ ان بحری راستوں اور تنصیبات کا تحفظ قومی دفاعی کوشش کا لازمی حصہ بن گیا۔

معرکۂ حق کے دوران پاک بحریہ نے اپنی آپریشنل تیاری میں اضافہ کرتے ہوئے بحیرۂ عرب میں ہونے والی پیش رفت کی قریبی نگرانی کی اور بھارتی بحری نقل و حرکت پر نظر رکھی۔
بھارتی بحریہ نے شمالی بحیرۂ عرب میں طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرانت سمیت بڑی بحری قوت تعینات کی۔
اس کے باوجود پاک بحریہ نے ملکی بندرگاہوں، بحری تنصیبات اور سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے اپنی موجودگی اور نگرانی برقرار رکھی، جس کے نتیجے میں پاکستان کا بحری انفراسٹرکچر اور تجارتی سمندری راستے محفوظ رہے۔
یہ صورتحال بحری جنگ کے ایک بنیادی اصول کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ مؤثر بازداریت کے لیے لازماً فائرنگ یا براہِ راست جنگ ضروری نہیں، دشمن کی نقل و حرکت کا بروقت سراغ لگانے، اسے ٹریک کرنے اور ممکنہ خطرے کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت بھی دشمن کے فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

1965 اور معرکۂ حق کے درمیان یہی بنیادی تعلق نمایاں ہوتا ہے، 1965 میں پاک بحریہ نے آپریشن دوارکا کے ذریعے پہل کی اور پی این ایس/ایم غازی کو بھارتی بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے تعینات کیا، 2025 میں جدید نگرانی، آپریشنل تیاری اور بحری صلاحیتوں کے ذریعے پاکستان کی ساحلی پٹی، بندرگاہوں اور سمندری تجارتی راستوں کا تحفظ یقینی بنایا گیا۔
ٹیکنالوجی اور جنگی پلیٹ فارم تبدیل ہو چکے ہیں، مگر بنیادی مقصد آج بھی وہی ہے: جارحیت کو پاکستان کی بحری سلامتی کے لیے خطرہ بننے سے روکنا۔
1965 کے آپریشن دوارکا سے لے کر معرکۂ حق کے پیچیدہ اور کثیرالجہتی دفاعی ماحول تک پیغام واضح ہے کہ پاکستان جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم چیلنج کیے جانے کی صورت میں اپنے دفاع کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہے۔ پاکستان کی بحری حدود بھی اس کی زمینی سرحدوں اور فضائی حدود کی طرح قومی دفاع کا لازمی حصہ ہیں۔
مزید پڑھیں: 6 ستمبر 1965، وہ دن جب قوم آسمان بن گئی
6 ستمبر کی روح دراصل ایک ایسی قوم کے عزم کی علامت ہے جس نے مشکل ترین حالات اور بظاہر بھاری مشکلات کے باوجود اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا۔
یہی جذبہ سرحدوں پر مامور فوجی، فضاؤں کی حفاظت کرنے والے فضائی محافظ اور سمندروں کی نگرانی کرنے والے بحری اہلکار میں آج بھی زندہ ہے، قومی دفاع کے لیے یہی مستقل عزم پاکستان کے امن، سلامتی اور خودمختاری کا سب سے اہم ضامن ہے۔














