میکڈونلڈز اور اسٹاربکس سے پہلے امریکا میں لنچ کا انداز کیسا تھا؟

اتوار 6 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آج امریکا میں فوری کھانے اور کافی کے لیے میکڈونلڈز، اسٹاربکس اور دیگر بڑے برانڈز عام ہیں، لیکن ایک وقت تھا جب امریکیوں کی روزمرہ زندگی میں چھوٹے سے لنچ کاؤنٹرز اور سوڈا فاؤنٹنز کو یہی اہم مقام حاصل تھا۔ فوکس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ سادہ اور کم قیمت کھانے کی جگہیں نہ صرف لوگوں کو سستا کھانا فراہم کرتی تھیں بلکہ امریکی معاشرتی زندگی کا بھی اہم حصہ بن گئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق 19ویں صدی کے آخر میں ’لنچیونیٹس‘ کے نام سے مشہور یہ چھوٹے ریسٹورنٹس سامنے آنا شروع ہوئے۔ 1910 اور 1920 کی دہائی میں ان کی مقبولیت عروج پر پہنچ گئی اور 20ویں صدی کے وسط تک یہ امریکا کے شہروں میں عام نظر آتے تھے۔

وول ورتھ، ایس ایچ کریس، ایس ایس کریسکے، وال گرینز اور لیگٹس جیسے معروف اسٹورز اور ادویات کی دکانوں میں بھی لنچ کاؤنٹرز قائم ہوتے تھے۔ یہاں کھانا سادہ، جلدی تیار ہونے والا اور نسبتاً سستا ہوتا تھا۔ مینو میں سینڈوچ، سوپ، روسٹ گوشت اور بیکڈ بینز جیسی عام امریکی غذائیں شامل ہوتی تھیں۔

فوکس نیوز کے مطابق ان جگہوں کی خاص بات صرف سستا کھانا نہیں تھی۔ خواتین اور بچوں کے لیے بھی یہ ایسی باعزت اور محفوظ جگہیں تھیں جہاں وہ آرام سے بیٹھ کر کھانا کھا سکتے تھے۔ کام کرنے والی خواتین کے لیے بھی لنچیونیٹس دن کے وقت کھانے اور کچھ دیر آرام کرنے کی اہم جگہ بن گئے۔

یہ بھی پڑھیں:میکڈونلڈز کو بائیکاٹ سے کتنا مالی نقصان ہوا؟

ماہرین کے مطابق شہری آبادی میں اضافے، ملازمتوں کے بڑھنے اور دوسری جنگ عظیم کے دوران ان مقامات کی مقبولیت مزید بڑھی۔ لوگ جلدی میں ایک کپ کافی اور لنچ لے کر اپنے کام پر واپس چلے جاتے تھے۔

تاہم وقت کے ساتھ امریکا میں گاڑیوں کا استعمال، مضافاتی علاقوں میں دفاتر کی منتقلی اور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کے بڑھتے ہوئے رجحان نے لنچیونیٹس کو پیچھے چھوڑ دیا۔ بدلتے ذوق اور مختلف ثقافتوں کے کھانوں کی مقبولیت نے بھی روایتی لنچ کاؤنٹرز کی جگہ کم کردی۔

رپورٹ کے مطابق آج اگرچہ یہ پرانے لنچ کاؤنٹر تقریباً غائب ہوچکے ہیں، لیکن ان کی اونچی نشستیں، سوڈا فاؤنٹنز اور سادہ کھانے اب بھی امریکا کے ایک ایسے دور کی یاد دلاتے ہیں جب اجنبی لوگ بھی ایک ہی کاؤنٹر پر ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp