پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں ڈسپلن کے مبینہ مسائل، پی سی بی کی تحقیقات شروع

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کرکٹ بورڈ نے میڈیا رپورٹس میں پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ کے اندر مبینہ ڈسپلن اور طرزِ عمل سے متعلق مسائل سامنے آنے کے بعد اندرونی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

پی سی بی کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس کا اندرونی طور پر جائزہ لیا جا رہا ہے اور معاملے کو بورڈ کے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت نمٹایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کرکٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں، محسن نقوی نے فیصلوں کو ضروری قرار دیدیا

بورڈ کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا عمل پی سی بی کے ضوابط کے مطابق جاری ہے تاکہ معاملے سے متعلق تمام افراد کا مؤقف اور صورتحال کے تمام پہلوؤں کو مناسب اہمیت دی جا سکے۔

تاہم پی سی بی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن مخصوص رپورٹس کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی گئی ہیں، نہ ہی کسی کھلاڑی کا نام لے کر مبینہ الزامات کی تصدیق کی ہے۔

بورڈ نے میڈیا میں گردش کرنے والے قیاس آرائیوں پر مبنی اور غیر مصدقہ دعوؤں کو قابلِ اعتماد نہ سمجھنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

پی سی بی کے مطابق بعض دعوے ’مخالف بیرونی ذرائع‘ سے سامنے آ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں ناکامی کا اثر، قومی سلیکشن کمیٹی میں بھی اختلافات سامنے آگئے

پی سی بی نے کہا کہ وہ اس مرحلے پر معاملے پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کرے گا اور متعلقہ حلقوں سمیت عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والی سرکاری معلومات پر انحصار کریں۔

یہ تحقیقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب انگلینڈ کے جاری دورے کے دوران پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ کے بعض ارکان کے حوالے سے مبینہ ڈسپلن اور آف دی فیلڈ طرزِ عمل سے متعلق میڈیا رپورٹس سامنے آئی ہیں۔

بعض رپورٹس میں محمد رضوان اور امام الحق کے نام بھی مبینہ آف دی فیلڈ معاملات کے حوالے سے لیے گئے ہیں، تاہم پی سی بی نے نہ تو ان دونوں کھلاڑیوں کو باضابطہ طور پر جاری تحقیقات سے منسلک کیا ہے اور نہ ہی ان سے متعلق کسی الزام کی تصدیق کی ہے۔

فی الحال پی سی بی نے صرف اندرونی تحقیقات شروع کیے جانے کی تصدیق کی ہے، جبکہ مبینہ الزامات کی نوعیت اور ان میں ملوث افراد کے نام باضابطہ طور پر سامنے نہیں لائے گئے۔

مزید پڑھیں: ’آئینے میں اپنا چہرہ دیکھیں ‘، جیسن گلیسپی کی عاقب جاوید پر کڑی تنقید

بورڈ کے مؤقف کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے تک میڈیا میں گردش کرنے والے غیر مصدقہ دعوؤں کو حتمی حقیقت سمجھنا مناسب نہیں ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp