چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران قومی ٹیم اور کوچنگ اسٹاف میں کی جانے والی بڑی تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے انہیں ضروری قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کی خراب کارکردگی پر انہیں خود بھی گہرا دکھ ہے، تاہم وہ تنقید سے خوفزدہ نہیں اور نہ ہی آئندہ اس سے گھبرائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر دکھ ہے، کھلاڑیوں کی تذلیل برداشت نہیں کروں گا، محسن نقوی
لندن میں نجی ٹیلیویژن چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ انگلینڈ میں کیے گئے فیصلے حالات کے مطابق ضروری تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ سے متعلق بعض دیگر معاملات بھی ان کے زیرِ غور ہیں، تاہم اس وقت ان پر تفصیل سے بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
پرفارمنس کے علاوہ کچھ اور فیکٹر بھی ہیں جن کو دیکھ رہے ہیں، تبدیلیاں ناگزیر تھیں، ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کی طرح ٹیسٹ کرکٹ میں بھی بہتری آئے گی۔۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی لندن میں گفتگو۔۔ pic.twitter.com/J6axO0w4Oq
— Ather Salem® (@AthSal01) September 2, 2026
پی سی بی چیئرمین نے کہا کہ اگر سابق کپتان اور عظیم کرکٹر وسیم اکرم جیسے کسی بڑے کھلاڑی کی جانب سے تنقید کی جائے تو وہ اسے سنجیدگی سے لیں گے۔
تاہم ایسے افراد کی تنقید ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی جنہوں نے خود کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کی۔
محسن نقوی نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ وہ کرکٹ کو مناسب وقت نہیں دے رہے، کیونکہ جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ حقائق سے واقف نہیں۔
مزید پڑھیں: لندن میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں عشائیہ، محسن نقوی کا صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے گریز
انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے حوالے سے تشویش ظاہر کرنے والے بعض افراد کا اصل مسئلہ کھیل نہیں بلکہ ان کی ذات ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی، تاہم وائٹ بال کرکٹ میں ٹیم کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔
ان کے مطابق پاکستان اس وقت آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں پانچویں اور ٹی20 رینکنگ میں چھٹے نمبر پر ہے۔

انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 103 رنز جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز سے شکست ہوئی، جس کے بعد انگلینڈ نے سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔
دوسرے ٹیسٹ کے بعد پی سی بی نے رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد کو ٹیسٹ اسکواڈ سے ریلیز کردیا، جبکہ صائم ایوب، عبداللہ فضل، عرفات منہاس، محمد عمران جونیئر، سعد بیگ، محمد عمران اور رضا اللہ کو متبادل کے طور پر شامل کیا گیا۔
مزید پڑھیں: انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں ناکامی کا اثر، قومی سلیکشن کمیٹی میں بھی اختلافات سامنے آگئے
بورڈ نے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا، جبکہ مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے پر مشتمل وائٹ بال کوچنگ پینل کو ٹیسٹ ٹیم کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی۔
بعد ازاں سلیکشن کمیٹی کے ارکان عاقب جاوید، مصباح الحق اور اسد شفیق سے رضوان اور امام الحق کے انتخاب کی بنیاد اور وجوہات پر 24 گھنٹے میں تحریری وضاحت طلب کی گئی۔
دریں اثنا سابق کپتان مصباح الحق نے سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے پی سی بی کو فیصلے سے آگاہ کردیا ہے اور باضابطہ استعفے سے قبل نوٹس پیریڈ مکمل کریں گے۔














