کیون پیٹرسن کی انگلینڈ وائٹ بال کوچنگ اسٹاف میں واپسی: بطور ‘اسپیشل مینٹور’ تقرری کا اعلان

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے سابق مایہ ناز بیٹر کیون پیٹرسن کو سنہ 2027 کے آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسے میں اپنی وائٹ بال کوچنگ ٹیم میں بطور اسپیشل مینٹور شامل کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیم کرفیو توڑنے کا اعتراف: نائٹ کلب واقعے پر انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس کی معذرت

46 سالہ پیٹرسن سری لنکا کے خلاف آنے والی ٹی 20 اور ون ڈے سیریز سے اپنی ذمہ داریوں کا آغاز کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ رواں سردیوں میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے دوروں اور اگلی گرمیوں میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز اور جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں ہونے والے 50 اوورز کے ورلڈ کپ میں بھی ٹیم کے ساتھ رہیں گے۔

انگلینڈ کے وائٹ بال ہیڈ کوچ برینڈن میکولم نے پیٹرسن کی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ میرے دل میں کیون پیٹرسن اور ان کی حاصل کردہ کامیابیوں کا بے حد احترام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انگلش کرکٹ پر ان کے اثرات شاندار رہے ہیں اور ان جیسے تجربہ کار اور عظیم کھلاڑی کا اس ٹیم کا حصہ بننا ایک بہترین نتیجہ ہے۔

اپنی تقرری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کیون پیٹرسن نے کہا کہ  جنوبی افریقہ میں ورلڈ کپ جیتنے کے سفر میں اس ٹیم کی مدد کا موقع ملنا میرے لیے باعث فخر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2014 کے بعد پہلی بار دوبارہ انگلینڈ کی کٹ پہننا ایک خاص اور جذباتی لمحہ ہے۔

کیون پیٹرسن نے کہا کہ ہمارے پاس وائٹ بال کا ایک باصلاحیت اسکواڈ ہے اور میں کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ان کے ساتھ محنت کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔

شاندار کیریئر اور ماضی کے تنازعات

کیون پیٹرسن انگلینڈ کے کامیاب ترین وائٹ بال بیٹرز میں سے ایک ہیں کہ وہ سنہ 2010 میں انگلینڈ کی پہلی T20 ورلڈ کپ فتح میں ‘پلیئر آف دی ٹورنامنٹ’ رہے۔

مزید پڑھیے: کرکٹ کا عجیب واقعہ: انگلینڈ کے خلاف میچ میں ویسٹ انڈین ٹیم اسٹیڈیم تاخیر سے پہنچی، وجہ کیا تھی؟

انہوں نے ون ڈے کرکٹ میں 41.32 کی اوسط سے تقریباً 4,500 رنز بنائے۔

ٹی 20 کرکٹ میں 1,000 سے زائد رنز بنانے والے تمام انگلش بیٹرز میں ان کی اوسط سب سے بہترین ہے۔

تاہم ان کا کھلاڑی کے طور پر کیریئر تنازعات سے بھی گھرا رہا۔ سنہ 2012 میں جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے دوران مخالف کھلاڑیوں کو متنازع میسجز بھیجنے پر انہیں ٹیم سے ڈراپ کیا گیا تھا جس کے بعد وہ معافی مانگ کر اور ‘ری انٹیگریشن’ کے عمل سے گزر کر واپس آئے۔ وہ دنیا بھر کی لیگز جیسے آئی پی ایل میں انگلش کھلاڑیوں کی شمولیت کے سب سے بڑے حامی تھے جس پر بورڈ کے ساتھ ان کے اختلاف بھی رہے ہیں۔

ریٹائرمنٹ کے بعد کیون پیٹرسن ایک کامیاب کمنٹیٹر رہے ہیں اور آئی پی ایل میں دہلی کیپیٹلز کے مینٹور کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔

12 سال قبل انگلش ٹیم سے الگ ہونے والے کھلاڑی کی یہ واپسی کرکٹ کے حلقوں میں کافی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جنوبی افریقہ کی پچز کا پیٹرسن کا ذاتی تجربہ انگلینڈ کے لیے ورلڈ کپ میں انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا۔

مزید پڑھیں: انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں ناکامی کا اثر، قومی سلیکشن کمیٹی میں بھی اختلافات سامنے آگئے

ہیری بروک جیسے نوجوان بیٹرز جنہیں پیٹرسن کا متبادل سمجھا جاتا ہے ان کے لیے پیٹرسن کا ساتھ انتہائی مفید رہے گا۔ تاہم، برینڈن میکولم اور کیون پیٹرسن جیسی دو بڑی اور مضبوط شخصیات کا ایک ہی ڈریسنگ روم میں ہونا شائقین کرکٹ کے لیے بے حد دلچسپ اور قابلِ دید ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp