ویمنز ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف گروپ اے کے میچ کے دوران انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ضابطہ اخلاق (کوڈ آف کنڈکٹ) لیول 1 کی خلاف ورزی پر پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویمنز ٹی 20 ایشیا کپ: بھارت نے اہم میچ میں پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی
فاطمہ ثنا کو آئی سی سی ضابطہ اخلاق کی دفعہ 2.5 کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا جس کا تعلق آؤٹ ہونے والے بیٹر کے خلاف ایسی زبان، اشارے یا جملے کسنے سے ہے جس سے ناگوار ردعمل یا اشتعال انگیزی پیدا ہو سکتی ہو۔
جرمانے کے ساتھ فاطمہ ثنا کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ کا اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ 24 مہینوں کے دوران یہ ان کی دوسری خلاف ورزی ہے جس کے بعد ان کے کل ڈی میرٹ پوائنٹس کی تعداد 2 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل اگست 2025 میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی 20 میچ میں بھی انہیں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ ملا تھا۔

یہ تازہ واقعہ بھارتی اننگز کے دوران اس وقت پیش آیا جب فاطمہ ثنا نے جارحانہ بیٹنگ کرنے والی بھارتی اوپنر شفالی ورما کا اپنی ہی گیند پر کیچ پکڑا اور آؤٹ کرنے کے بعد پویلین کی طرف (جانے کا) اشارہ کیا۔
مزید پڑھیے: ویمنزایشیا کپ میں پاکستان کا فاتحانہ آغاز: تھائی لینڈ کو 35 رنز سے شکست دے دی
میچ میں اگرچہ بھارتی بولرز حاوی رہے اور پاکستان کی پوری ٹیم کو صرف 55 رنز پر ڈھیر کر دیا تاہم فاطمہ ثناء نے بولنگ میں شاندار مقابلہ کرتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں۔ بھارت نے یہ میچ 7 وکٹوں سے اپنے نام کیا۔
پاکستانی کپتان نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے آئی سی سی میچ ریفریز کے پینل کی سپریا داس کی جانب سے تجویز کردہ سزا کو قبول کر لیا ہے جس کی وجہ سے باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ آئی سی سی قوانین کے تحت لیول 1 کی خلاف ورزی پر کم از کم تنبیہ اور زیادہ سے زیادہ میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ اور 1 یا 2 ڈی میرٹ پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ویمنز ایشیا کپ 2026 کا میلہ دبئی میں سجنے کو تیار، فوٹو سیشن میں پلیئرز کا دلکش رقص
بھارت کے خلاف شکست کے باوجود پاکستان کی فائنل میں پہنچنے کی امیدیں برقرار ہیں۔ قومی ٹیم آج اپنے تیسرے میچ میں ہانگ کانگ کا مقابلہ کرے گی جہاں جیت کی صورت میں سیمی فائنل میں پہنچ سکتی ہے۔ پاکستان نے 2 ستمبر کو اپنا پہلا میچ تھائی لینڈ کے خلاف 35 رنز سے جیتا تھا۔














