120 سال پرانے محفوظ شدہ ریچھ کے بال جنگلی حیات کے جرائم پکڑنے میں کیسے مدد دے رہے ہیں؟

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کے ایک میوزیم میں محفوظ تقریباً 120 سال پرانے بھورے ریچھ کے بال ایک ایسے سائنسی منصوبے کا حصہ بن گئے ہیں جس کا مقصد جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار اور اسمگلنگ بھورا ریچھ

کے خلاف تحقیقات کے نئے طریقے تلاش کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جاپان میں ریچھوں کے بڑھتے حملے، حکومت نے فوج تعینات کردی

’بورس‘ نامی یہ ریچھ ٹیکسی ڈرمی کے ذریعے محفوظ کیا گیا تھا اور ایسیکس کے میوزیم آف چیلمسفورڈ میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ وہ میوزیم میں خاصی مقبولیت رکھتا ہے اور اسے ادارے کا غیر رسمی ’میسکوٹ‘ بھی سمجھا جاتا ہے۔

اس ریچھ کے بال برطانیہ کی یونیورسٹی آف اسٹافورڈ شائر سے وابستہ فرانزک سائنس کے گریجویٹ ہیڈن لی نے اپنی پی ایچ ڈی تحقیق کے لیے حاصل کیے ہیں۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ریچھ کے بالوں کی خصوصیات کا تجزیہ کس طرح مستقبل میں جنگلی حیات سے متعلق جرائم کی تحقیقات کے دوران جانوروں کے بالوں کی شناخت میں مدد دے سکتا ہے۔

بالوں میں چھپی شناخت

ہیڈن لی بورس کے بالوں کا خوردبین کے ذریعے تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ وہ بالوں کی بیرونی سطح، مختلف تہوں اور جسم کے مختلف حصوں سے حاصل کیے گئے بالوں میں ممکنہ فرق کا مطالعہ کر رہے ہیں جبکہ ان کے تجزیے میں ڈی این اے بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر جانور کے بالوں کی شناخت زیادہ آسان، قابلِ اعتماد اور کم خرچ طریقے سے کی جاسکے تو یہ جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار اور جانوروں کی غیر قانونی تجارت کے خلاف کارروائی میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیے: بھالو بچوں کی ٹافیاں چٹ کرگیا، کدو بھی نہیں چھوڑا

لی کے مطابق جنگلی بھورے ریچھ زیادہ تر رومانیہ، بلغاریہ اور روس جیسے علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور ان کا غیر قانونی شکار جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس تحقیق کے لیے انہوں نے ابتدا میں تقریباً 30 چڑیا گھروں اور میوزیم سے رابطہ کیا تھا لیکن آخرکار میوزیم آف چیلمسفورڈ نے انہیں اس منصوبے میں مدد فراہم کی۔

محفوظ ریچھ تحقیق کے لیے کیوں اہم ہے؟

ہیڈن لی کے مطابق جانوروں کے بالوں سے متعلق فرانزک تحقیق میں اب تک کتوں، بلیوں اور عام گھریلو جانوروں کے بالوں پر بڑی تعداد میں مطالعات ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس تحقیق کو وسیع تر دائرے میں لے جانا چاہتے تھے تاکہ اسے جنگلی حیات سے متعلق جرائم کی تحقیقات میں بھی استعمال کیا جاسکے۔

ان کے مطابق میوزیم میں محفوظ جانوروں کے نمونے اس قسم کی تحقیق کے لیے انتہائی قیمتی ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ زندہ جانوروں سے بال حاصل کرنے کے مقابلے میں یہ نمونے کہیں زیادہ آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بورس کے بالوں کا خوردبینی سطح پر جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے ان کی مختلف خصوصیات کا مطالعہ کیا اور یہ دیکھا کہ جسم کے مختلف حصوں سے لیے گئے بالوں میں کوئی نمایاں فرق موجود ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں: بھالو ٹرک سے سورج مکھی کے بیجوں کا تھیلا لے اڑا

محفوظ نمونے کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ محققین کو کسی زندہ جانور کو پکڑنے، پریشان کرنے یا اس کے جسم سے نمونہ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس طرح وہ حقیقی جانور کے بالوں کا اخلاقی اور محفوظ طریقے سے مطالعہ کرسکتے ہیں۔

بورس کی اپنی تاریخ بھی دلچسپ ہے

بورس سنہ 1932 میں میوزیم آف چیلمسفورڈ پہنچا تھا۔ اسے ٹیکسی ڈرمی کے ذریعے محفوظ کیے گئے جانوروں کے ایک بڑے مجموعے کا حصہ بنایا گیا تھا جو ایک مقامی شکاری نے میوزیم کے لیے چھوڑا تھا۔

تقریباً ایک صدی بعد اسی تاریخی نمونے کو ایک ایسے سائنسی منصوبے میں استعمال کیا جا رہا ہے جس کا مقصد آج زندہ موجود جنگلی جانوروں کو غیر قانونی شکار سے بچانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

چیلمسفورڈ سٹی کونسل کی ثقافت اور تفریح سے متعلق کابینہ کی رکن جینی لارڈج نے کہا کہ میوزیم کے ذخیرے میں ٹیکسی ڈرمی کے ذریعے محفوظ جانوروں کی موجودگی بعض اوقات متنازع سمجھی جاتی ہے تاہم بورس کی موجودہ حیثیت اس کے ماضی سے ایک مختلف مقصد سامنے لاتی ہے۔

ان کے مطابق یہ بات خوش آئند ہے کہ بورس کی میراث اب دوسرے جانوروں کو غیر قانونی شکار سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تاریخی میوزیم مجموعے سال 2026 میں بھی سائنسی تحقیق کے لیے اہم قدر رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پیٹو بھالو باز نہ آیا، بے تحاشہ پھل کھانے پر پھر اسپتال میں داخل

محققین کی امید ہے کہ جانوروں کے بالوں کی خوردبینی خصوصیات اور دیگر شواہد کو سمجھنے کے بہتر طریقے مستقبل میں جنگلی حیات سے متعلق جرائم کی تحقیقات میں تیز، قابل اعتماد اور کم خرچ شناخت میں مدد دے سکیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp